
زہرایاسمین
حدیث مبارکہ ہے ۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
”تم میں سےکوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا،جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد،اس کی اولاد اورتمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں“۔(بخاری و مسلم / متفق علیہ) ۔
یہ حدیث بچپن سے بارہا پڑھی اورمع تشریح بھی سنی اور پڑھی ،یہی سمجھ میں آیا کہ ہمیں اپنے پیارے نبی مہربان احمد مجتبی محمد مصطفی خاتم الانبیاء رحمت للعالمین حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے تمام رشتوں اور مخلوق سے زیادہ محبت کرنی ہے،کیوں اور کیسے؟ اس کا ادراک نہیں تھا،اس لیےتفقھو فی الدین دین میں سمجھ بوجھ حاصل کرنے کےلیےاس حدیث کی گہرائی پرغور فکرشروع کردیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کیوں اور کیسے کی جائے؟
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت کو اپنی ماں،اپنے باپ، اپنے بیٹے،اپنی بیٹی اوردیگرتمام لوگو ں سےمقدم یعنی آگےکیوں رکھیں؟ کیونکہ رسول کریم ﷺ پوری امت کے نبی ہیں۔ان کے ذریعے ہم تک دین پہنچا۔ انہوں نے اپنےاسوہ حسنہ سے زندگی کے ہرمیدان میں ہماری بہترین رہنمائی فرمائی۔ آپ محسن انسانیت ہیں۔ اس لیے اس سب سے بہترین ہستی سےشدید محبت ہماراایمانی تقاضا ہے۔ اس کے لیےہمیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی ہر حال میں اطاعت کرنی ہے کیونکہ دعویٰ محبت میں صرف قول ہی معتبر نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کا عملی ثبوت بھی پیش کرنا ہوتا ہے۔ صرف زبان سے یہ کہہ دینا کہ ہم اللہ تعالی اور نبی اکرمﷺسے دل وجان سےمحبت کرتے ہیں کافی نہیں بلکہ آپﷺسے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان احکام خداوندی کو بجا لائیں جن کا اللہ تعالی نے حکم دیا اور ان چیزوں سے رک جائیں جن سےذات باری تعالی نے منع فرمایا ہے۔
نبی کریم ﷺ سے اٹوٹ رشتہ
جب ہم دنیا میں آئے تو ہمارے کانوں نے اذان و اقامت سنی۔ جب سلایا جاتا توحسبی ربی جل اللہ مافی قلبی غیراللہ نور محمد صلی اللّٰہ کے الفاظ سنائےجاتے ہیں ، بولنے لگتے ہیں تو کلمہ طیبہ کا الہ الااللہ محمد رسول اللہ سیکھتے ہیں۔ یعنی زندگی کےہرقدم پرآگے بڑھتےہیں ۔ اللہ اوراس کے رسولﷺ کا نام سن کرپھرحصولِ علم ، پھرمعاش زندگی کی سعی رسول ﷺ کی ہدایت کے عین مطابق کرنے کی کوشش کرتےہیں ، پھر ہمارا نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق نکاح و ولیمہ ہوتا ہے ۔اولاد کی پیدائش پر اذان و اقامت نام رکھنا عقیقہ کرنا سب مسنون طریقہ پرکرتے ہیں اور مرجاتے ہیں تو نبی کریم ﷺ کیے سنت کے مطابق تجہیزو تکفین کی جاتی ہے اورقبر میں باز پرس ہوتی ایمان کی جانچ ہوتی ہے ۔ رب کون ہےنبی ﷺ کی پہچان کی تصدیق ہوتی ہے۔ روز محشرآنے والے امتی ہوں گے ۔ اللہ کے اذن سےشفاعت اور حوض کوثر پرشرف ملاقات کےطالب ہوں گے۔
یہ حضورسرور کونین کے ساتھ ہماراوہ اٹوٹ رشتہ ہےجو زندگی کی پہلی سانس سےاختتام زندگی اوراخروی زندگی تک قائم ودائم رہتاہے۔کبھی نہ ٹوٹنے والا رشتہ اس رشتے کااولین تقاضہ ہےکہ ہم قرآن کریم کی ہدایات کواپنے سینے سے لگائیں۔سیرت النبی کے مطابق اپنے کردار کوڈھالیں ۔ آپﷺکی زندگی کو ہم اپنے لیے نمونہ بنالیں اوراسی کے مطابق ہر کام انجام دیں ۔ اس کے لیے ہمیں آپﷺ کے شمائل وسیرت کا مطالعہ کرتے رہناہے۔ آپﷺپر درود وسلام کا نذرانہ پیش کرنا ہرمسلمان پر لازم ہے
سورہ احزاب میں ارشاد ہے
" اللہ اور اس کے فرشتے رسولﷺ پر درود وسلام بھیجتے ہیں، اس لیے اے ایمان والوں تم بھی ﷺ پردرود وسلام بھیجو"۔
ایک مسلمان کے لیے آپﷺکی اتباع ہی کامیابی کا ضامن ہے۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے: (ترجمہ) ’’آپ فرمادیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہوتو تم لوگ میرا اتباع کرو، اللہ تعالی تم سے محبت کرنے لگیں گےاورتمہارے سب گناہوں کو معاف کردیں گے اوراللہ تعالی بڑے معاف کرنے اوربڑے عنایت فرمانے والے ہیں ۔‘‘(سورہ آل عمران:۳۱)
قرآن میں نبی کریم ﷺ کو ہماری فلاح کا حریص ہمیں کتاب و حکمت کی تعلیم دینے والے معلم و مربی جو ہماری زندگیوں کو سنوارنے والے ہیں مہربان رہنما قرار دیا گیا ہے ۔
رسول اکرمﷺکی حدیث ہے: ’’المرء مع من أحبَّ‘‘(صحیح البخاری:۶۱۶۸) یعنی انسان کا خاتمہ یا انجام اس شخص کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ اس حدیث کی رو سے اگر ہم اپناخاتمہ ایمان پر روز محشر انبیا کرام نبی اکرم ﷺ صدیقین صالحین کا ساتھ چاہتے ہیں ؛ تو دل وجان سے آپﷺسے محبت اور آپکی اطاعت اپنے اوپر لازم کرنے کی ضرورت ہے،رسول اکرمﷺکی سنتوں پر عمل کرنا ہوگا ۔ یہی ہماری دنیاو آخرت کی فلاح کا ضامن ہے۔




































