
زہرا یاسمین
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کے دبا دو گے
فطرت کا اصول ہے کہ جس شے کو جتنا زیادہ دبایا جائے،وہ اُسی قدر شدّت سےاُبھرتی ہے اور انقلاباتِ زمانہ اِس بات کے شاہد
ہیں کہ جب پوری دنیا میں مسلم خواتین کے حجاب کے خلاف مغربی اقوام نے قوانین اور اصول بنانا شروع کیے، تو پھر اسکا فوری ردِعمل آنا فطری امر تھا۔ حجاب مسلمان عورت کی شناخت ہے جو اس کے لیے باعث افتخار بھی ہے۔ مروہ الشربینی جو مصر سے تعلق رکھتی تھیں فارماسسٹ تھیں اپنے شوہر علوی علی اور بچے مصطفی کے ہمراہ حصول روزگار کے لیےجرمنی کے شہر ڈریسیڈن میں رہائش پذیر تھیں،ان کا پڑوسی روسی نژاد ایلیکس وینز مسلمانوں سے بغض و عداوت رکھتا تھا مروہ بحیثیت مسلم خاتون حجاب لیتی تھیں اور حجاب میں اپنا کام کرتی تھیں انکا بیٹاکمسن مصطفی اکثر ان کے ساتھ ہوتا ایک مرتبہ مصطفی کے ساتھ بازار گئیں وہیں انکا پڑوسی ایلیکس بھی موجود تھا اس نے بلا وجہ مروہ کو بہت برا بھلا کہا گالیاں دیں اور حجاب اتارنے کی کوشش کی وہاں موجود لوگوں نے روکا تو انہیں بھی گالیاں دیں جس پر اس باہمت خاتون مروہ نے اپنے شوہر کے ہمراہ انسانی حقوق کی عدالت میں ایلیکس کی مذموم حرکت کی شکایت درج کی جس پر جرمنی کی عدالت کے فیصلے کے مطابق ایلیکس کو مجرم گردانا گیا اوراس پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
اسی وقت طیش میں آکر ایلیکس نےکمرہ عدالت ہی میں پیشی کے دوران عدالت ہی میں چاقو کے17وار کر کے مروہ جو کہ اس وقت حاملہ بھی تھیں شہید کردیا اور اُن کے شوہر کو شدید زخمی کردیا۔ یہ منظر انکے کمسن بچے بھی دیکھا اور پھر مروہ کی مظلومانہ شہادت نے حجاب اور دینِ اسلام کو نئے سرے سے دنیا کی توجّہ کا مرکز بنا دیا۔ جس کے نتیجے میں دنیا کے سامنے دین اسلام بطور نظامِ حیات متعارف ہوا۔ اسلام قبول کرنے والوں اور خواتین کے حجاب لینے کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔’’شہیدۃ الحجاب‘‘ کا لقب پانے والی مروہ الشربینی کے پاکیزہ لہو سے شمعِ اسلام کو نئی جِلا ملی۔ سلام ہے شہیدۂ حجاب مروہ الشربینی کی ہمت کو جن کی وجہ سے دنیا بھر میں مسلم عورت کا مرتبہ و مقام بلند ہوا اور حجاب از سر نوایک قیمتی برینڈ اور نمایاں ٹرینڈ کے طور پر سامنے آیا ۔
عورت ہے ہی مستور رہنے ،چھپنے والی ،جیسے سیپ میں قیمتی موتی چھپا ہوتا ہے، حجاب حیا شرم و پردہ کی ضرورت نگاہ کو یعنی آنکھیں جو سب دیکھتی دکھا تی ہمیں۔ زبان سے جو ہم بات چیت کرتے ہیں۔ کانوں میں۔ یعنی سماعت سننے سنانے سب میں لازمی ہر موجود ہے۔
حجاب عورت کا تقدس اور تحفظ پاکیزہ حصار ہے اس کی شان اور ضرورت ہے۔




































