
زہرا یاسمین
* آنٹی پنچایت کمیٹی*
عموما ًلڑکیوں کو بعض لوگوں سےان کی عادات اوررویےکی وجہ سے چڑ ہو جایا کرتی ہے،مثلاً "ٹوہ لینے کی عادت " بات
بدلنا ،قول سے پھرنا ،جھوٹ جھوٹی قسمیں کھانا ت،وڑ کاٹ کرنا۔اس نےایسا کیا ایسا کیاوغیرہ۔
ایک لڑکی کو قسمت سے ایسی ہی قیمتی پنچایت کمیٹی کی آنٹی بطور ساسو ماں مل گئیں۔ آئیے اب ذرا اس لڑکی کے حالات پر نظر ڈالیں اور انجوائے کریں ٹینشن ریلیز ہوگی لافٹر تھیراپی ۔
پنچایت آنٹی
اے انہوں نےدعوت میں کیا پکایا تھاکون کون آیا تھا؟ جبکہ خود صرف بیٹیوں اور ان کےبچوں کو بلاکر بلاکر صرف دو تین ڈشیں پکواتی ہیں۔
اے ان کے ہاں کافی دن پہلے شادی ہوئی تھی کوئی بچہ ہوا؟جبکہ خود کےدو بیٹے بے اولاد ہیں۔ آئے ہائے ان کے ہاں دو دو بیٹیاں ہوگئیں جبکہ خود کی نواسیوں کے ہاں چار بیٹیاں ہیں بیٹا کوئی نہیں ۔خدا کی قسم لے لو میں نے ایسا نہیں کیا ۔ ایسا نہیں کہا، کوئی لاکھ یاد دلائے اس وقت آپ نے کہا تھا یا کیاتھا لیکن وہ میں نہ مانوں۔ اے مجھے کیا پتہ؟ مجھے کیا پتہ؟
اے انہوں نے تمہارے لیے کچھ پھل، گوشت،سالن ،بریانی یا مٹھائی وغیرہ بھجوایا تھا۔اےاتناسا تو تھا تم لوگ کیا معلوم کھاؤ یا نہیں کھاؤ گے تاکہ وہ لڑکی مروتاً کہہ دےکوئی بات نہیں آپ رکھ لیں۔
دعوت کے بعد بیٹیوں اور نواسیوں کے لیے ڈبےمیں بھربھرکرکھانا پیک کرواتی ہیں لیکن بہوئیں جو بیچاریا ں پکا کر لاتی ہیں یا وہاں پکاتی ہیں ،ان کو بچی ہوئی تندوری روٹی ناشتے کو ہو جائیں گی کہہ کر حاتم طائی کی قبر پر لات مارتی ہیں۔
پنچایت کمیٹی کی آنٹیوں سے یقیناً آپ کا بھی واسطہ پڑتارہتا ہوگا۔ ایسےکردارہمارے معاشرے کا حصہ ہیں ان کے غم میں گھلنے ان کی باتوں پر جلنے کڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ڈیم کیئر ۔۔۔۔ مٹی پاؤ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔اس کا علاج یہ ہے کہ ہے۔ایسی آنٹیوں کی باتوں کو سیریس نہ لیا جائے بلکہ ان کی باتوں کو لافٹر تھراپی کے لیے استعمال کریں۔ کیسا ؟




































