
زہرا یاسمین/ کراچی
چند دن قبل ایک حادثہ رونما ہواتھا جس کے نتیجےمیں موقع پر دو بعد میں تین افراد زندگی کی بازی ہارگئے تھے۔ان کے گھروں
میں کہرام مچ گیا۔ ہمارے نزدیک دراصل پانچ قیمتی لوگوں کو قتل کردیا گیا۔ان کےخواب چھین لیے گئے ۔ ان کے گھروں کےچولہے بجھ گئے۔بچوں کے مستقبل داؤ پرلگ گئے۔ گھروں میں قیامت برپا ہوگئی۔ ان کےعزیز واقارب کے دلوں کو غم کی آندھیوں نے اجاڑ ڈالا۔
ان گھرانوں کے دکھ کومحسوس کرکےہماری آنکھیں بھرآئیں لیکن جب ارد گرد نگاہ دوڑائی تومعلوم ہوا کہ اس المناک حادثے کے ذمہ داروں کی نگاہ میں ان قیمتی جانوں سے زیادہ وقعت اپنےپالتو کتوں کی ہے۔ اپنے نشے کی ہےموج مستی کی ہے ۔ ان کے نزدیک وہ پانچ جانیں محض ان کی راہ کی دھول تھی۔
یہ دھول انہوں نےاپنے مال اور اثرورسوخ کے بل پرمیڈیا اورسرکاری اداروں کی آنکھوں میں جھونک دی لیکن کیا کیا جائے؟ سوشل میڈیا کی آزادی کا جہاں سےیہ معلوم ہوہی گیا کہ پانچ قیمتی جانیں لینے والی خاتون نتاشہ جس کوایک نفسیاتی مریضہ اورمجہول العقل یا فاترالعقل خاتون قراردے کر حادثےسے بری الزمہ قرار دے دیا گیا تھا ، درحقیقت وہ محترمہ تومشہورکاروباری اداروں کی سربراہ ہیں۔
یہ جان کربچپن میں سنے ایک گانےکی بازگشت کانوں میں گونجنےلگی۔ نہ بیوی نہ بچہ ،باپ بڑانہ مییا( ماں) دی ہول تھنگ ازڈیٹ کےبھیا سب سے بڑا روپیا۔




































