
زہرا یاسمین
قلم کی امانت اور خیانت
قلم کیا ہے ؟ لکھنے کا ذریعہ
اب ذرا قلم۔ کی تاریخ دیکھتے ہیں
قلم کی تاریخ : انبیاء کرام کے پاس صحیفےآتے تھےجن میں ایمانیا،ت عبادات، اللہ تعالیٰ کی ہدایات اوردین پرعمل کےمطابق احکامات و معاملات کی معلومات پرمشتمل لکھے ہوئے اوراق اورچارانبیا کرام پرآسمانی کتب بھی نازل ہوئیں۔ آخری کتاب قرآن کو قلم بند کرکےلوح محفوظ میں رکھ دیا گیا اوراس کی دنیا میں حفاظت کا بندوبست کیا گیا۔ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں قرآنی آیات لکھی جاتی تھیں بعد ازاں انہیں جمع کرکے یکجاکتابی صورت میں محفوظ کرلیا گیا۔
قرآن میں قلم کا ذکر: قرآن میں قلم کی قسم کھائی گئی ہے فرشتے بندوں کےاعمال لکھ رہے ہیں۔ پہلی وحی کے الفاظ میں پڑھو اور قلم کے ذریعے علم سکھانے کی بات کے گئی ہے۔ یعنی قلم اور انسان کا رشتہ زمانہ قدیم سےقائم و جاری ہے۔
یہ تو دین کے حوالے سے قلم کی تاریخ تھی لیکن دیگر معاملات میں بھی قلم کے ذریعےلکھت پڑھت کی جاتی رہی ہے۔
قلم کا استعمال
تجارت میں،خریدوفروخت میں،معاملات معاہدات اورفیصلوں کولکھنا، خط وکتابت کرنا۔معلومات کوکتب کی صورت میں قلم بند کرنااوربعض معاملات میں گواہ بھی بنائے جاتےہیں ۔قلم سےلکھی دستاویز ایک ثبوت ہواکرتا تھا معاہدوں، وعدوں اور فیصلوں میں عمل درآمد کے لیے۔ عہد نبوی میں معاہدے ہوئے صلح حدیبیہ میثاق مدینہ، فرماں رواؤں کو دعوت دین کےلیےخطوط بھی لکھےگئے۔
قلم سے لکھنے کی جدید صورت :
قلم سے لکھنا گو اب موجودہ دور میں بہت سےبڑے اداروں میں اب بہت زیادہ مستعمل نہیں رہا اس کی جگہ کمپیوٹر پرکسی بھی زبان میں تحریر لکھی جاتی ہے ( کمپوزنگ)
مثال آپ کسی بڑے ہسپتال میں ڈاکٹر کے پاس جائیں تو آپ کی رپورٹس کیفیت بیماری اورمجوزہ طریقہ علاج اور ادویات سب کمپیوٹر میں درج ہوتا ہے اور اس کی کاپی کر مریض کو تھمادی جاتی ہے۔ اگلے وزٹ پرسیریل نمبر سے مریض کی کیس ہسٹری نکالی جاتی ہے اورآگےعلاج جاری رکھنا ہے یا نہیں طے ہوجاتا ہے وغیرہ۔
اگر آپ کی پچھلی رسید کھو گئی تو کوئی مسئلہ نہیں، دن تاریخ سیریل نمبر بتائیں اور آپ کا مسئلہ حل۔ بہت سے اداروں میں آپ کے سیریل نمبرز بنے ہوتے ہیں پاسپورٹ شناختی کارڈ وغیرہ کے دفاتر میں آپکی ساری معلومات یعنی مکمل ڈیٹا سامنے آجاتا ہے۔ بہر حال بات ہورہی ہے قلم کی امانت اور خیانت کی۔ توقلم کہاں کہاں کتنا طاقتور ہے؟ اس پر نظر ڈالتے ہیں۔
قلم کی طاقت
ملک کا آئین اورقانون دراصل ملک کا نظام سلطنت ہوتا ہےجو دستاویزی صورت میں بذریعہ تحریرمحفوظ ہوتا ہے خواہ قلم سےہاتھ سےلکھی تحریر ہو یا کمپیوٹر کمپوز شدہ ہو اس کی اہمیت ہوتی ہے۔
عدالت میں عدالتی کارروائی اورجج جو بھی فیصلہ کرتا ہےپہلےٹائپ رائٹرسےلکھا جاتا تھا اب کمپوزنگ ہورہی ہے، گروسری کریں کسی مارٹ سےوہ بھی آپ کا بل دستاویزی صورت میں کاغذ پر تحریر شدہ ہی دیتا ہے۔
چاہے کسی ملک کا عدالتی نظام ہو ملک کا آئین ہو، حصول علم ہو،ابلاغ علم ہو، مریض کی رپورٹ ہو لکھنے میں بہت احتیاط برتنےکی ضرورت ہوتی ہے ۔خواہ قلم کی جنبش سے اوراق پر قلمبند کیا جائے یا کمپیوٹر پر ٹائپنگ سے پرنٹ شدہ ہو۔ جنبش قلم کی ایک غلطی انسان کو بڑے نقصان سےدوچار کرسکتی ہے جبکہ اس کی درستگی معاملات کی آسانی کا باعث ہوتی ہے۔
اس لیے ہمیشہ یہ بات رکھیں کہ " بندوق" کی"غداری" جس طرح بے گناہ لوگوں کی جان لینے کا باعث ہوتی ہے اسی طرح "قلم" کی "خیانت" پوری قوم کو تباہ کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔
قلم کی خیانت کی صورتیں
قلم کی خیانت کا یہ عمل ہمارے ہاں کافی سالوں سے جاری ہے۔قلم کی خیانت میں مندرجہ ذیل کچھ باتیں شامل ہیں جو انسانوں اور ملکوں کی تباہی کا باعث ہوسکتی ہیں۔
اپنی مرضی سےاپنے مفاد کے لیےمروجہ قوانین بدلنا،جیساکہ حکومت اور اسکی حلیف قوتیں اپنے مفاد کی خاطر آئین پاکستان میں نت نئی عجیب وغریب تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔
ہسپتال میں لیب کےعملے کے ساتھ ملی بھگت کرکے مریض کی رپورٹوں میں رد و بدل کرنا تاکہ مریض بیماری میں مبتلا نہ ہوتے ہوئے بھی ان سے مرض کا علاج کروائے اور ہسپتال کو پرافٹ ملے۔جھوٹے میڈیکل سرٹیفکٹ بنواکر علاج کے پیسے ادارے سے لینا اور آرام کی غرض سے چھٹیاں لے کر سیرو تفریح کرنا۔ جعلی تعلیمی ڈگریاں اور سرٹیفکٹ جاری کرنا، تیار کروانا یا بنوانا اور انکے ذریعے اعلی عہدوں پر فائز ہو جانا وغیرہ وغیرہ۔




































