
زہرا یاسمین/ کراچی
ہمارے معاشرے میں عموماً ایک سال سےسات سال تک کےخواہ بچےہوں یابچیاں ان کے ارد گرد جوکچھ ہوتا ہےسب دیکھتے ہیں، سنتے ہیں،
کچھ کچھ بولتے بھی ہیں، کچھ کچھ سمجھتے ہیں لیکن وہ مکمل انسان ہی ہیں،ان کے احساسات وجذبات ہوتے ہیں ، یہ وہ عمر ہوتی ہے جب ان کی جسمانی،ذہنی،جذباتی، اخلاقی،اکتسابی (سیکھنے)، معاشرتی اور روحانی نشوونما ہورہی ہوتی ہے، یہ بچےکی نشوونما اورتربیت یعنی شخصیت سازی کاابتدائی وقت ہوتاہےجو بڑا اہم اور بہترین وقت ہےاگراس عمرمیں والدین بچےکی تربیت اورنشونما و بالیدگی کےحوالے سے بچے پرتوجہ دیں۔ اس کے ساتھ وقت گزاریں اس کے مسائل پر توجہ دیں اور اس کی درست سمت میں رہنمائی اور تربیت کا اہتمام کریں تو بچہ آگے چل کر معاشرے کا بہترین اورمفید فرد ثابت ہوسکتا ہے۔
بچوں کومستقبل کامعمار کہا جاتا ہے اوریہ بات بالکل درست ہےکیونکہ آج کےبچے آنےوالےکل کےمعمار ہوں گے۔مستقبل میں ان کوہی آگے کام کرنا ہے۔ان مستقبل کےمعماروں کےروشن کل یعنی مستقبل کے لیے کام آج اور ابھی سے کرنے کی ضرورت ہے۔
بچوں سےہمارے موجودہ عمومی رویے:
بچوں کے ساتھ کئی طرح کے رویے یا سلوک سامنےآتے ہیں
کسی گھرانے میں اگر گالم گلوچ یابرے ناشائستہ الفاظ بولنے کا رواج ہوا وہاں کے بچے وہی الفاظ بولنے لگتے ہیں۔ پہلےپہل بچہ جب تک تین چار سال کا ہوتا ہےتوسب ہنستے ہیں ،خوش ہوتے ہیں پھر جب بچہ اس بات کو اپنی کامیابی سمجھتے ہوئےجب چھ سات کی عمر میں روانی سے یہ الفاظ روزمرہ زندگی میں بولتا ہے تو چھترول (پٹائی) مع ڈانٹ پھٹکاربےعزتی۔جسمانی مار، ہاتھ، ڈنڈا،بیلٹ، پائپ اوربید وغیرہ سے اورجذباتی وروحانی مارالفاظ کےذریعےطنز کرنا،طعنےدینا۔مثلاً
تم توایسے ہی ہوشروع سے،تم کرہی کیا سکتی ہویا سکتےہو؟ مجھے تو پتہ تھا تم یہی کروگے یا کروگی۔ تم کو آتا ہی کیا ہے۔؟اس کو دیکھو اس سے سیکھو وہ تم سےکتنا / کتنی زیادہ سمجھدارہے؟ لعنت ہے ہو تم پر ،دماغ میں بھوسہ بھرا ہے وغیرہ وغیرہ۔
کوئی بچہ یا بچی آؤٹ سپوکن ( منہ پھٹ)یعنی جومنہ میں آئےبلا سوچے سمجھے بغیر کسی لحاظ ادب اور مروت کے بول دیتاہے۔ عموماً تین چار سال تک تو ہنس کر سراہا جاتا ہےاورپھر جب ذرا بڑا ہوکر بچی ایسا کرے تو اسے سختی سے ڈانٹا اور مارا جاتا ہے یا چپ کروادیا جاتا ہے۔ اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ اسےسخت سست اوربرابھلا کہہ کر اس کی عزت نفس مجروح کی جاتی ہے۔
کچھ گھرانوں میں ڈانس اور گانے گانے کا کلچر ہوتا ہے کوئی فنکشن ہوناچنےگانے والے بچوں کو آگےرکھا جاتا ہے،خوب سراہا جاتا ہے والدین فخرکرتے ہیں بچہ یا بچی سمجھتے ہیں کہ ہم نے کوئی بہت اچھا کا م کیا ہے۔ ہم آگے بھی ایسا ہی کریں گے جب بچے بڑے ہوتے ہیں فطری شرم وحیا کے باعث ناچ گانے سے شرمانے لگتے ہیں تو ان کو زبردستی کہا جاتا ہے،سب اپنے ہیں اپنوں سے کیسی شرم اس بچے کی فطری حیا پر ضرب پڑتی ہےکچھ شرما کر ایسا نہیں کرتے، ان میں خود اعتمادی کی کمی ہے ،دبو ہے یہ سمجھ لیا جاتا ہے۔
مندرجہ بالا تینوں صورتوں میں بچےکی شخصیت مجروح کرنےسےاس کےاعتماد میں کمی آتی ہے، اس کےاحساسات،خیالات وجذبات میں عدم توازن غصہ اورنفرت پروان چڑھتا ہے۔
ذمہ دار کون ؟
ایسی صورتحال کے ذمہ دار والدین گھراورخاندان والے اسکول میں طلبہ اوراساتذہ کےنا مناسب رویے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ توپھربچوں کی تربیت کیسے کی جائے؟
بچوں کی تربیت کےلیے اہم نکات
بچوں کی نشوونما وتربیت کے لیے ضروری ہے۔اسے اچھا پیارمحبت والا ماحول فراہم کیا جائے۔ اچھے اوربرے صحیح غلط کا فرق باتوں باتوں میں یا کہانی کےانداز میں بتادیں .
غلط بات پرہنس کربچے کی حوصلہ افزائی نہ کریں بلکہ خاموش رہیں اپنی آنکھوں اورچہرے کے تاثرات سےبچے پر ظاہر کردیں کہ اس نے کچھ غلط کیا ہے۔بچے کے اچھے کام کی کھل کر حوصلہ افزائی کریں۔
اسے لوگوں سےادب تمیزسے پیش آنےکی تربیت دیں۔ چیزوں کوسلیقے سے رکھنا اوران کا درست استعمال کرنا سکھائیں۔اول تو بچوں کی چھوٹی موٹی غلطیوں کو نظرانداز کریں۔بچہ اگرکوئی بہت غلط کام کردے توخاموشی سےالگ لے جاکراسے بتادیں کہ اس نے یہ غلط کیا ہے اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ غلطی ماننا، معافی مانگنا اور معاف کرنا سکھائیں
اگر بچے موبائل ٹی وی کمپیوٹر،لیپ ٹاپ پرانٹرنیٹ میں مختلف ایپس پریاباہردوستوں میں زیادہ وقت گزارنے لگیں تو فوری نوٹس لےکر بچےکو اس کی اہلیت و صلاحیت کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئےنرمی اور محبت سے حکمت کے ساتھ متوجہ کریں۔کوشش کریں کہ بچے کو کبھی کسی دوسرے کے سامنے سختی سے ڈانٹنے اورمارنے سے گریز کریں۔ بچے کی سرزنش تنہائی میں کریں ۔
میری دعا ہے کہ بچوں کی درست تربیت میں اللہ ربّ العزت ہم سب کا حامی و مددگار ہو۔ آمین




































