
عریشہ اقبال
کتاب" خدا تک کا سفر "میں موجود اقتباس کو پڑھ کر گویا تذکیر کا سنہرا موقع مل گیا ۔۔۔۔۔۔
میرا رب کیسے الجھی ہوئی ڈوریں سلجھا دیتا ہےوہ واقعی بہت بہترین دوست اورمدد گار ہے ♥️❤️? کہ بھٹکتی ہوئی راہوں میں وہ یوں راہنمائی کردیتا ہے،وہ بکھرتے ہوئے وجود کو اپنی رحمت سے سمیٹ لیتا ہے۔
تنہائیمیں کی گئی سرگوشیوں کا جواب وہاں سےدیتا ہےکہ شاید بندے کا گمان بھی نہ ہو ۔۔۔۔دشواریوں سےگزارکر وہ اپنےقریب کرلیتا ہےاورپھر وہ احساس روح کوسرشار کردیتا ہے کہ یقیناً یعقوب علیہ السلام کے الفاظ میں سچائی کے علاوہ کچھ نہ تھا کہ میں اپنے دکھ کی فریاد صرف اپنےرب سے کرتا ہوں کیونکہ انہیں یقین تھا کہ وہ رب دعاؤں کو سننے والا ہےاور دلوں میں پوشیدہ راز تک جانتا ہے کبھی زندگی کی شاہراہوں پر گزرتے ہوئےیوں محسوس ہوتا ہےکہ ہر فرد آپ سے اجنبی ٹہرا ہے اور آپ تن تنہا کسی صحرا میں کھڑے ہیں مگر وہیں اللّٰہ جو آپ سے اس قدر محبت کرتا ہے کہ وہاں سے تسلی دیتا ہے جہاں تک انسانی سوچ کا پہنچنا ممکن نہ ہو کیونکہ کچھ معاملات عقل سے زیادہ روح سےوابستہ ہوتے ہیں ۔
اللہ اور بندے کا تعلق بھی ایسا ہی ہے کہ ایک مقام پر آکرعقل بھی ساتھ چھوڑ جاتی ہے اوربس دل یہ کہتا ہےاورمضطرب ہوجاتا ہےکہ یا اللہ تو مجھے اپنے لیے خالص کرلے تو مجھے وہ بصارت عطا کردے کہ میں تیری رحمتوں کو قریب سے دیکھ سکوں اور اس کے احساس محبت سے اپنے قلب کی تطہیر کروں ۔محبت کا اصل حق ہی یہی ہے کہ وہ بلکل شفاف ہوخالص ہو اور اس میں کوئی ملاوٹ نہ ہو۔ میرے رب کو بھی ایسی ہی محبت مطلوب ہے یا اللہ آپ مجھے اپنے لیے خالص کرلیجیےاور میرااختتام اس حال میں ہو کہ آپ مجھ سے راضی ہوں۔ آمین یا رب العالمین اللھم آمین ۔





































