
عریشہ اقبال
کسی بھی معاشرے کی تعمیر اور اس کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرنےوالا عنصر اس میں پروان چڑھنے والی نسل ہوتی ہے کیونکہ تعلیم و
تربیت کا سب سے قیمتی سرمایہ ہی یہ نسل ہے، اگر اس نقطہء نظر سے انحراف کیا جائے تو لازماً نتیجہ ملک و ملت اور اس میں موجود نظام کا زوال ہوگا اور یقیناً یہ زوال پذیری ہراس فرد کے ضمیر کو گوارا نہ ہوگی جو اپنے اندر حب الوطنی کا جذبہ رکھتا ہوگا۔
ہم اس منظر کی تصویر چند لمحوں کے لیے اپنی تصور کی آنکھ سےدیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ بر صغیر میں موجود دو علیحدہ نظام زندگی ہونے کا اعلان ہوچکا ہے اور اس اعلان کے نتیجے میں ایک نڈر اور بہادر قائد اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور پھر اس کے ساتھ ہر وہ فرد قربانی کی عظیم داستان رقم کردینے کا جذبہ لیے آزادی پاکستان کی جدو جہد کے میدان میں قدم سے قدم ملاتے ہوئے اپنا بھرپور حصہ ڈالتا ہے جس میں ہر وہ شے قربان کردینے کا اقرار صرف اپنی زبان سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے کرتا ہے کہ وہ منظر آنکھوں سے دیکھنے والےفرد سے لے کر احساس سے دھڑکتا دل نہ کبھی بھول سکا ہے اور نہ ہی کبھی بھلا سکے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جی ہاں جب ہجرت کے دوران پوری ریل خون سے رنگی تھی اور شہداء کے لہو کی صورت میں ایک ایسے وطن کے حصول کی خاطر اپنے تن من دھن قربان کردیے گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس جاں نثاری کا حق ادا کرنا تو درکنار آج اس پاکستان اور اس لا الہ کے دیس میں ان قربانیوں کا خیال آنا بھی کسی نوجوان کو گویا گناہ معلوم ہوتا ہے اس روشن تاریخ کےسنہری ابواب کو کس سنگ دلی سےفراموش کیا جاچکا ہے ۔
اور اس کے سنگین نتائج ہمارے سامنے ماضی میں بھی آتے رہے ہیں اور اب ان مسائل کی نوعیت اس قدر اذیت ناک ہوچکی ہے کہ وہ نسل جس کو قائد نے قوم کا بہترین سرمایہ قرار دیا ،وہ سنہرا دور جس دور میں صلاح الدین ایوبی اور محمد بن قاسم نے پختہ عزائم کے ساتھ پرچم اسلام بلند کیا اور تاریخ رقم کردی اب وہی جوانیاں ایک ایسی دلدل میں دھنستی چلی جارہی ہیں کہ دل خون کے آنسو روتا ہے ۔
موجودہ صورتحال کے مطابق نوجوانیاں نشےکی حالت میں اپنی قوتوں اور صلاحیتوں کو زنگ آلود کررہی ہیں اوراس قیمتی اثاثے کو بلا کسی تامل برباد کررہی ہیں ،میرا دل لرز جاتا ہے جب ان پھولوں کی کونپلیں پھوٹنےکو ہوتی ہیں اوروہ پھول بننے کے مراحل میں ہوتے ہیں کہ خوشبو بکھیرنے کا باعث بنیں مگر ایک ایسی لہر آتی ہے اور وہ زہریلی فضا اس ننھے سےوجود کو اجاڑ دیتی ہے، جی ہاں یہ انسانی زندگی میں موجود حقائق کی بات ہورہی ہے جس کو بیان کرنے سے احتراز برتا جاتا ہےدنیا میں جہاں کہیں منشیات کے استعمال میں اضافہ ہوتا جارہا ہے،وہیں اس کے سنگین نتائج بھی سامنے آرہے ہیں اور منشیات کا زیادہ تر استعمال کم سن بچوں اور نوجوان نسل کے اندر فروغ پا رہا ہےمگر افسوس در افسوس کہ ہمارے اپنے ملک پاکستان میں اس امر کو لے کر نہ ہی حکومت فکرمند نظر آتی ہے اورنہ ہی معاشرے میں موجود لوگ ہی اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کررہے ہیں یہی وجہ ہے کہ نسل نو میں بڑھتے ہوئے منشیات کےاستعمال اور ان کے تاریک ہوتے مستقبل نے میرے قلم کو صدا لگائی اور میں نے حق کی گواہی دینے کی خاطرلبیک کہا ۔ جہاں معاشرے کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ آخر اس معاملے کے پیچھے موجود وجہ کیا ہے اور جب میں ان وجوہات کی تلاش میں نکلی تو یقیناً وہ امت کے لئے ایک لمحہ فکریہ سے کم کی حیثیت نہ رکھتی تھیں
والدین کا اپنے بچوں کو توجہ نہ دینا اور گھر میں آئے دن کے لڑائی جھگڑوں سے بیزار ہوکر وہ بچے جن کو اپنے خوابوں کی تعبیر ڈھونڈنا تھی ان کے حوصلوں کو پست کرنے کی وجہ بن گئی اور اس کے نتیجے میں سگریٹ نوشی ،ویپ اورناجانے کون کون سی نشہ آور چیزوں میں وہ سکون کو تلاش کرنے لگے ۔۔
اس کے علاوہ دوستیوں کے صحیح مفہوم اور اخلاقی تربیت کی کمی کے باعث ان غلط صحبتوں میں اپنا وقت گزارنےکا نتیجہ یہ ہوا کہ دوست کو دیکھ کر خود بھی اس زہر کے استعمال کا شوق غالب آگیا۔ گویا ہمیشہ یہیں رہنا ہے اور جو چاہیں جس طرح چاہیں جوابدہی تو کرنی نہیں۔ نوجوانوں کے اندر اس سوچ کو پروان چڑھانے میں ہمارے خاندانی نظام کے خلاف بچھائے گئے مغرب کے جالوں نے بظاہر بڑا خوش نما بنا کر پیش کیا ہےمگر معذرت کے ساتھ ہماری حکومت نےان مغربی رجحانات کو تعلیمی اداروں میں فروغ دینے کی جو شرمناک روش اختیار کر رکھی ہے۔
اس کے سد باب بغیرآپ کے اور میرے گواہی دینے اور اس آغوش غفلت سے جگانےکےممکن نہ ہوسکے گا اورپھر جہاں اخلاقی،سماجی اور تمدنی پہلوؤں پر بات کی جاتی ہےاوراس کی فلاح و بہبود کے دعوے کیےجاتے ہیں وہاں یہ کیوں بھلادیا جاتا ہے کہ جس نظریہ پر یہ ملک حاصل ہوا اس کے مطابق یہاں نافذ کیا جانے والا نظام کیوں نہیں ؟؟؟
اور پھر اپنے نظریے کی بنیاد کلمہ لا الہ سے صحیح آگاہی کیوں نہیں ؟؟جہاں اس ملک و ملت کا قیمتی ترین اثاثہ جو اس کی ترقی کے ساتھ امت مسلمہ کے حق میں اسلام کی سربلندی کے چشم و چراغ کی حیثیت رکھتا ہے وہ اپنے مقام و منزلت سے غافل ہوکر خود کو اس نشے کی حالت میں غلط صحبتوں کے حوالے کرکے
نفس کی بندگی سے ہلاک ہوتا اور اپنی صحت سے لے کر اپنے سے وابستہ ہرشے کو ایک ایسی اذیت ناک قید میں مبتلا کررہا ہے اور کسی کو فکر تک نہیں ۔
اللّٰہ تعالیٰ قرآن میں ارشاد فرماتے ہیں کہ
اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔(البقرہ)آپ کہاں غفلت میں خود کو دھکیل رہے ہیں جبکہ امت کے ہر فرد پر یہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ لازم ٹھہرتا ہے اور پھر جب آپ اپنی نسلوں کے لیے فکر مند نہ ہوں گے اور یوں باطل کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں گے تو پھر براہ کرم اخلاقی ،معاشرتی ،تمدنی اور تمام تر تبدیلیوں کا مطالبہ بھی نہ کریں جبکہ آپ اپنے کردار ادا کرنے کے متعلق سوچتے ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تحریر آپ کے لیے ایک پیغام نصیحت بھی ہوسکتی ہے اور ایک تذکیر کا سامان بھی مگر یہ بات آپ پر منحصر ہے کہ آپ اس ضائع ہوتے ہوئے سرمائے اور اس تباہی کے دہانے پہ لا کھڑی کرنے والی عادت کو معاشرے میں پھیلنے سے کس طرح روک سکتے ہیں ۔
اس کو بلکل اسی طرح سمجھیے جیسے صحابہ نے شراب کی حرمت کے واضح احکام آجانے کے بعد مدینے کی گلیوں میں شراب بہادی تھی ،اب آپ کہیں گے کہ شراب حرام ہے مگر یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں تو سکون کا باعث ہیں اور انسانی زندگی میں موجود مسائل سے چھٹکارا پانے اور ایک سکون کا سانس لینے کا ذریعہ ہے، ظاہر ہے آپ کا سوال بجا ہے بلکل آپ کو حق ہے سوال کیجیے مگر
جواب سننے پر بھی خود کو آمادہ رکھیے انسان کو اپنی تربیت کےلیےہمہ وقت تیار رہنا چاہیے میں دینی تعلیمات کے متعلق آگے جواز پیش کرتی ہوں مگر اس وقت اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ یہ سکون کا ذریعہ یا وقتی طور پر فکروں سے آزاد ہونے کی راہ ہے تو آخر سگریٹ کے ڈبے پر یہ فقرہ کیوں کر لکھا ہوتا ہے کہ :
”خبردار!تمبا کو نوشی صحت کے لیے مضر ہے"ایک ایسی چیز جس کو آپ اپنے نفسیاتی اور جذباتی مسائل کا حل سمجھ رہے ہیں، اسی کے استعمال کے حق میں اس شے کے اوپر صاف صاف خبردار کا لفظ استعمال کیا گیا ہے
اب آئیے اس نقطے پر بھی ساتھ ساتھ غور کرتے چلیں کہ میرا اور آپ کا ایمان ہے ہماری کل متاع ہے اور یہی وہ واحد پونجی ہے جس سے کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے تو اس دین کی تعلیمات اس حوالے سے کیا کہتی ہیں
حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ … نے فرمایا:ہر نشہ آورچیز خمر(شرب) ہے اور ہر قسم کی خمر حرام ہے۔(مسلم شریف)
یہ حدیث آپ کے لیے اور تمام امت مسلمہ کے لوگوں کے حق میں ایک تنبیہ کی حیثیت بھی رکھتی ہے اور اس کے ساتھ ہی اس رب کی بے شمار محبت کی دلیل بھی ہے کہ وہ اپنی اعلیٰ و ارفع تخلیق کے لیے کتنا فکر مند ہے کہ ہر اس چیز سے دور کردینے کا حکم دیتا ہے جو ہمارے لیے کسی بھی اعتبار سے نقصان اور خسارے کا باعث ہے
خدارا اپنے گھروں کو امن کا گہوارہ بنائیے اور اپنے ساتھ خود سے وابستہ چیزوں کا بھی خیال کیجیے ،ورنہ ایسا نہ ہو کہ یہ ضائع ہوتی جوانیاں اور یہ اجڑتے ہوۓ پھول میرے اور آپ کے حق میں جہنم کا پروانہ ثابت ہوں کہ ہم نے کوئ قدم خود سے نہ اٹھایا اور ہم خود غرضی کے ساتھ اپنی ذات ہی کو خدا بنا کر پوجتے رہے اور مخلوق خدا کا حق ادا کرنے میں۔ ناکام رہے ۔
وآخر و دعوانا ان الحمد اللہ رب العالمین





































