
عریشہ اقبال
باب سوئم
بالآخر مقابلےکا دن آ ہی گیا۔عائزہ اپنی کالے کلر کی" اوڈی " کار سےاتر کر ایک عجیب شان کے ساتھ کانسرٹ ہال کی جانب
اس طرح جارہی تھی کہ اس کی اونچی ریڈ ہیلز کی ٹک ٹک اور سیاہ دھاری نما شارٹ منی ٹی شرٹ سب کو اس کی جانب متوجہ کر چکے تھے ،ہر نگاہ اس پر مرکوز تھی انتہائی چست جینز پہنے اپنی سلور جیکٹ کو وہ لاپرواہی سے کندھوں پر ڈالے بڑھتی چلی جارہی تھی، شانوں پر پھیلے اس کے ریشمی زعفرانی بال سب کو سحر زدہ کر چکے تھے۔ اس کی ہر ادا کو سب لوگ اس طرح دیکھ رہے تھے گویا مبہوت ہوچکے ہوں۔
سورج کی کرنیں آسمان پر چمکنے کو تھیں پرندے چہچہارہے تھے۔ مگر فاطمہ اسی صبح فجر کی نماز پڑھ چکنے کے بعد وہ اذکار میں مشغول تھی کہ اسے یوں محسوس ہوا کہ آج پرندوں کی آواز میں اداسی جھلک رہی ہے اور ہوا بھی پرجوش ہونے کے بجائے گم سم اور خاموش سی ہے ۔ فاطمہ کا دل آج بہت اداس ہورہا تھا اس نے ہمیشہ کی طرح عشق الٰہی سے سرشار ہو کراپنے ہاتھ بارگاہ اقدس میں آسمان کی جانب بلند کیے اور کہنے لگی" اے پروردگار عالم ارض و سما! تیری قدرت کس شے سے اوجھل ہے تیری قدرت کے خزانوں کی مثال دینے بیٹھوں تو مثالیں نامکمل رہیں گی ۔تیری تعریف لکھنے میں صدیاں گزر جائیں تب بھی تیری ثنا نامکمل رہے گی۔تجھ سے تیری یہ ناچیز بندی التجاء کرتی ہے کہ میرے دل کو قرار اور سکون قلب عطا فرما اور تو بے شک بہترین کارساز اور کفیل ہے" اور اس نے اپنے چمکتے ہوئے چہرے پر آمین کہتے ہوئےہاتھ پھیرے۔۔۔۔۔ اللہ اکبر کہتے کہتے وہ جائے نماز سے اٹھ کھڑی ہوئی اور ایک سیشن کنڈکٹ کرنے کے لیے تیاری کرنے لگی ،آج اس کا یونیورسٹی جانے کو بالکل دل نہیں چاہ رہا تھا ۔ وہ اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت کے ذریعے لوگوں کو مسائل و مشکلات سے نکالنے کے لیئے نا صرف بہترین مشورے دیتی تھی بلکہ اس کی باتیں لوگوں کی زندگی اور دیگر معاملات میں اس طرح روشنی کا سبب بنتی گویا نور کی کرنیں ۔ وہ اپنے پاکیزہ اوصاف سے ملنے والوں کے دلوں کو موہ لیتی تھی اور قلوب کو منور کرنے کا ذریعہ تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اسے اپنے رب سے معرفت حاصل تھی اور جسے اللہ تعالیٰ کی معرفت مل جاۓ تو اس کے نصیب پر رشک ہی آیا کرتا ہے ۔
نہ ثبوت ہے،نہ دلیل ہے
میرے ساتھ رب جلیل ہے
تیرا نام کتنا مختصر.
تیرا ذکر کتنا طویل ہے
عائزہ کو سحر زدہ انداز میں دیکھنے والے لوگوں کے درمیان ایک ایسا شخص بھی تھا جس کے چہرے پر غلیظ مسکراہٹ سجی ہوئی تھی ،جبکہ عائزہ اس سارے ہجوم کے درمیان سے شان بے نیازی کے ساتھ کندھے اچکاۓ اپنے مخصوص انداز میں آگے بڑھنے لگی، اسے آگے بڑھتا دیکھ اس شخص کی خبیث مسکراہٹ میں مزید گہرائی نظر آئی ۔وہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ عائزہ کے والد رانا خاور صاحب کی مخالف سیاسی پارٹی کے سربراہ عبد المجید کا بیٹا تھاجس نے باقائدہ منصوبہ بندی کے تحت عائزہ کی یونیورسٹی کے اس فنکشن میں اپنے کچھ آدمیوں کے ہمراہ اسے بھیجا تھا۔ پروگرام کا آغاز ہوچکا تھا اور عائزہ اپنے دوستوں کے ساتھ آڈیٹوریم میں پرفارمنس دینے میں مصروف تھی۔
عبد المجید صاحب بہت اثر رسوخ والے آدمی تھے، اسی لیے انہیں یونیورسٹی کے ڈین کو پروگرام ہونے سے تین روز قبل ایک ہوٹل میں مدعو کرکےاپنے بیٹے سے ملاقات کروانے میں کوئی دقت نہ ہوئی۔ اس ملاقات میں انہوں نے ڈین کو خرید کر اپنے پلان کے حوالے سے لائحہ عمل سمجھایا اور منصوبے کے مطابق اسے یونیورسٹی کے اندر منصوبہ عمل میں لانے کے لیے اجازت نامہ طلب کیا ۔ڈین کے لیے ان کی رسائی کے پیش نظر انکار کرنا ممکن نہ تھا ۔ عبدالمجید ویسے بھی لوگوں کی قیمت لگانے میں مہارت رکھتے تھے ،لہذا اجازت نامہ تو ملنا ہی تھا ، جس کے معاوضے کے طور پر ایک خطیر رقم ڈین کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے مکروہ مسکراہٹوں کا آپس میں تبادلہ ہوا ۔ ڈین کو صرف اجازت نامے کے بدلے اتنی بڑی رقم اور وہ بھی ایڈوانس ملنے کی لالچی خوشی تھی ۔ اس پیشکش کو رد کر دینے کی صورت میں حق اور باطل کی تجارت کے عظیم گناہ کا ٹھپہ لگنے سے اسے بچالیتی مگر اس نے جنت کو متاعِ دنیا کے عوض بیچ دیا تھا۔
عائزہ اسٹیج پر محویت سے آواز کے سر بکھیر رہی تھی ۔اسے دنیا فتح کرنی تھی ، نفس کی تسکین بھی کیا چیز ہے اور روح کی پکار بھی کیا شے ہے۔اس وقت عائزہ کی نظر میں یہ لمحہ درحقیقت ایک گولڈن چانس کی مانند تھا ،جسے وہ کسی بھی قیمت پر گنوانے کو تیار نہ تھی ۔خیر اس نے گانا شروع کیا تو اس کے استقبال پر شور و غل برپا تھا ،تالیوں سے سارا ہال گونج اٹھا تھا ۔جیسے ہی اس کی آواز کا جادو چلا سارے ہال میں سکوت چھاگیا، مگر یہ خاموشی سکون کی مانند نہ تھی اور درحقیقت سکون تو کہتے ہی روح کو جلا بخشنے والے احساس کو ہیں لیکن یہاں تو غنا کی محفل عروج پر تھی جو روح کے بجائے نفس کو جلا بخشنے والی شے تھی اور جسے دبانے کے بدلے میں اللہ تعالی نے جنت کا وعدہ کیا ہے !!
بے شک اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ:" ہم نے جنت کےبدلے تم سے تمہارے اعمال خرید لیے ہیں"
عائزہ نے جیسے ہی مائیک نیچے کیا سب لوگوں نے بے یقینی کے عالم میں پہلے خود کو اس سحر سے باہر نکالنے کی کوشش کی اور پھر تالیوں کی آواز سے پورا آڈیٹوریم گونجنے لگا وہاں موجود ہر فرد نے اس کو اپنے اپنے انداز میں سراہا ۔عائزہ اسٹیج سے قدم آہستہ آہستہ نیچے کی جانب بڑھانے لگیمگر وہ اپنے وجود کو آسمان میں پرواز کرتا ہوا محسوس کررہی تھی لیکن اسے کیا معلوم تھاکہ یہ احساس دراصل ایک سراب ہے اور کچھ نہیں ، وہ اسے حقیقی اور دائمی سمجھ بیٹھی تھی ۔ وہ اس حقیقت سے واقف نہ تھی کہ دنیا پرستی و نفس پرستی ایک ایسی دلدل ہے جس میں اگر قدم رکھ دیا جاۓ اور اس پر مضبوطی سے جم گئے تو گویا تباہی مقدر میں خود اپنے ہی ہاتھ سے لکھی گئی ہے۔جیسے آسمان پر سورج کی روشنی تمام دن چمکنے کے بعد شام کے وقت آخر کار ڈھل کر تاریکی میں تبدیل ہو جایا کرتی ہے مگر ایمان کی مثال اس چھوٹےسے ستارے کی مانند ہوتی ہے جو رات کی تاریکی میں میں جگمگا تے ہوئے روشنی کا ذریعہ ہوتا ہے لیکن عائزہ کو زندگی کے ان دونوں پہلوؤں سے واقفیت نہ تھی ۔
کسی نے آکر کہا کہ آپ اپنا سوشل میڈیا پر آفیشیل پیج بنائیں ،تو کسی نے کہا کہ آٹو گراف پلیز زندگی میں وہ سوچا کرتی تھی کہ عائزہ تمہیں فیم حاصل کرنا ہے ،تمہیں لوگوں کے دلوں پر راج کرنا ہے اور آج ان لمحات میں اسے وہ خواہش حقیقت کا روپ دھارتی نظر آرہی تھی ۔ اسی اثناء میں لوگوں کے ہجوم میں ایک نمایاں شخص جو اپنی وضع قطع سے کوئی امیر زادہ نظر آرہا تھا ، سیاہ جوتے اور بلیک کلر کی دھاری دار شرٹ اور فون کلر کی پتلون پہنے اور جیل سے بال اوپر کی طرف اٹھاۓ ، اچانک نمودار ہوا جو اس کی جانب ہاتھ بڑھاۓ لبوں پر مسکراہٹ سجائے کھڑا تھا۔عائزہ نے بے دھڑک اس سے ہاتھ ملایا اور یہی وہ لمحہ تھا جب عبد المجید صاحب کے فرزند نوفل کو اپنا مقصد حاصل ہوتا نظر آیا ۔ان دونوں نے آپس میں ایک دوسرے کا تعارف لیا اور نوفل نے چند تعریفی کلمات کہنے کے ساتھ ہی اسے کافی کی دعوت دی جسے عائزہ نے بخوشی قبول کرلیا۔
یہ ایک ابتدائی تعارف تھا جس کے بعدوہ دونوں کافی شاپ میں بیٹھ گئے ۔اس موقع پر نوفل نے عائزہ کو بغور دیکھتے ہوئے اپنے مکارانہ کھیل کا آغاز کرتے اسے مخاطب کیا " تو جناب عالیہ اپنی آواز اور حسن کے ساتھ اور کیا کیا سرور بکھیرتی ہیں؟" عائزہ سے اس کی یہ پہلی ملاقات تھی ، اس سے قبل نہ تو عائزہ نے اسے کبھی یونیورسٹی میں دیکھا تھا اور نہ کبھی کسی فنکشن میں عائزہ نے تیکھے لہجے میں اس سے پوچھا" آپ میری تعریف کررہے ہیں یا مجھ سے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ؟ عائزہ کے لہجے میں ایک کاٹ سی تھی۔ نوفل کے چہرے پر اس کی بات سن کر مسکراہٹ کھلی جس کے پیچھے درحقیقت ایک شیطانی سوچ کام کررہی تھی۔ ابلیس نے جب اللہ تعالیٰ سے کہا تھا کہ مجھےاس انسان کی وجہ سے جنت سے نکالا گیا ہے ناں اور اسی کی وجہ سے میں دھتکارا گیا ہوں تو میں اس کے سیدھے راستے پر بیٹھوں گا اور تو ان میں سے اکثر کو نافرمان پاۓ گا پھر اللہ تعالیٰ نے اسے جواب دیا کہ ان لوگوں میں سے ہر گز وہ لوگ نہ ہوں گے جن کو میں نے چن لیا ہے وہ تیرے بہکاوے میں ہر گز نہ آئیں گے اور جو تیرے بتاۓ ہوۓ راستے پر چلیں گے ان کو تجھ سمیت جہنم میں ڈالوں گا۔نوفل نے کہنا شروع کیا " تعریف کرنا یا تعلقات استوار کرنا کوئ بری بات ہے کیا؟ اور اگر آپ جیسی ساتھی میسر آجاۓ تو ہم اچھے دوست ثابت ہوسکتے ہیں" عائزہ نے مغرورانہ انداز سے مسکرا کر اپنے زعفرانی بال پیچھے جھٹکے،اور ہاتھ میں پہنی کالے پتھر کی انگوٹھی کو دیکھتے ہوئے کہا کہ" کیا آپ مجھے دوستی کی پیشکش کررہے ہیں؟
" جی بالکل کیا آپ اسےقبول کرنا پسند کریں گی؟
سوال قبل از وقت ہے۔۔۔۔عائزہ نے محتاط سا جواب دیتے ہوئے کہا " مجھے کچھ وقت چاہیےکیونکہ سیانوں کا کہنا ہے کہ" نادان دوست سے دانا دشمن بہتر ہے"
جاری ہے





































