
باب پنجم
عریشہ اقبال
اس وقت سامنے کھڑے نوفل کو دیکھ کر گویا اسے شیطان نظر آیا تھا ،اس نے پہلی دفعہ کسی شیطان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور دل سے
محسوس کیا تھا۔ اس کی موٹی موٹی خوبصورت آنکھوں میں لال چنگاریوں کے ساتھ خاموش آنسو بہنے لگے اور اس نے نوفل کو مخاطب کیا مگر رندھی ہوئی مجبور اور کمزور آواز میں نہیں بلکہ شیرنی جیسی چنگھاڑتی ہوئی آواز میں ۔۔۔۔۔ نوفل!!! گھٹیا ۔۔۔۔شیطان صفت آدمی ۔۔تم نے مجھے دھوکا دیا تم نے مجھے ۔۔۔۔ عائزہ خاور کو ٹریپ کیا میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں ۔۔۔۔تم مجھے جانتے ہی کہاں ہو ۔۔۔۔۔ دیکھنا میرے بابا کو معلوم ہوا تو وہ تمہارے جسم کی ایک ایک ہڈی کو اس طرح توڑیں گے کہ تمہیں سمجھ بھی نہیں آۓ گا کہ درد کہاں ہورہا ہے اور چیخ کتنی شدت سے اور کس چوٹ پر مارنی ہے ۔۔۔ نوفل نے اس کی تمام باتیں سن کر ایک زور دار قہقہہ لگایا ، عائزہ کو اس کی مکروہ آواز کانوں میں چبھتی ہوئی محسوس ہوئی اس نے عائزہ پر تیز نظریں گاڑتے ہوۓ اسےمخاطب کیا ۔
عائزہ خاور !! بہت گھمنڈ ہے تمہیں خود پر اور تمہارے گھٹیا باپ پر جو جھوٹ اور بد دیانتی سے لوگوں کے اعتماد وصول کرتا اور مستقبل کے جھوٹے وعدے کرتا ہے ۔۔۔بہت جلد تمہارا یہ ناز مٹی میں ملنے والا ہے ۔۔۔جب سب لوگ تمہیں ایک گھٹیا لڑکی کا ٹائٹل دیں گے اور تمہارے غائب ہونے کی اطلاع جب میڈیا اپنے چینلز پر چلاۓ گا تو تمہارے باپ کا سارا اثر و رسوخ خاک میں مل جائے گا ۔ عائزہ کے پاس اس کی باتوں کا کوئی جواب ہی نہیں تھا کیونکہ اسے معلوم ہی نہیں تھا کہ نوفل اس کے والد خاور صاحب کی مخالف سیاسی پارٹی کے رہنما عبد المجید کا بیٹا ہے ۔یہ حقیقت تو اس پر آج آشکار ہوئی تھی ۔ مگر اسے یہ لگ رہا تھا کہ اس کے والد آکر اسے بچالیں گے ، اسے اس اندھیرے گودام میں بھی اللہ تعالی کی یاد اور اس کی مدد کی امید نہیں تھی ۔ خود اور خدا کی ہستی سے لاعلم اس لڑکی پر ابھی حقیقت آشکار نہیں ہوئی تھی ۔ نفس کی پرستش اور اس کا جھرمٹ اتنی آسانی سے تھوڑی ختم ہوا کرتا ہے انسان تو پھر انسان ہے نا۔
اللہ تعالی کی ذات تو اسے تب یاد آتی ہے جب ساری امیدیں دم توڑتی ہوئی نظر آئیں ۔سارے دروازے بند ہوتے ہوئے محسوس ہوں اور سارے لوگ ساتھ چھوڑ چکے ہوں اور شیطان مایوسیوں کے گڑھے میں گھسیٹنے کی سر توڑ کوشش کررہا ہو لیکن انسان اپنے رب کو پکارے تو۔۔
رب کی پاک ذات جو اپنے بندے سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے ،وہ کیسے اسے اس حال میں چھوڑ سکتی ہے جب وہ اسے پکارے ۔ اگر یہ یقین راسخ ہو کہ جب سب ساتھ چھوڑ دیں تو اللہ کی مدد آتی ہے ۔ اپنے بندے کا ساتھ چھوڑنا اس کی شان رحمت کہاں!
"اور اللہ تعالی کے سوا نہ تو تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ ہی کوئی مددگار"( سورہ البقرہ)
کوئی تیرے در کا فقیر ہے
کوئی تیرے غم میں اسیر ہے
ہیں سب تجھی کو پکارتے
کوئی سوز میں ،کوئی ساز میں
رات کے 9:00 بجے ٹیلیویژن کی اسکرین پر ہیڈ لائنز چل رہی تھیں اور اس کو دیکھتے ہوئے رانا خاور صاحب بری طرح پریشانی کے عالم میں اپنی کمر پر ہاتھ باندھے ادھر سے ادھر ٹہل رہے تھے بیگم عالیہ سمجھانے کی کوشش میں آگے بڑھیں مگر رانا صاحب کے شعلہ انگیز تاثرات دیکھ کر پیچھے ہٹ گئیں اسی اثناء میں رانا صاحب کا بھتیجا جو آج ہی صبح کی فلائٹ سے پاکستان پہنچا تھا ،اس نے آکر کہا ماموں جان !! میں نے عائزہ کی تلاش میں گارڈز روانہ کردیے ہیں پولیس میں اطلاع دینے کو آپ نے منع کیا تھا سو نہیں دی مگر آپ پریشان نہ ہوں کچھ ہی دیر میں عائزہ کی خبر مل جاۓ گی ان شا ء اللہ ۔۔۔ اچانک تیز قدموں کی آواز سب کو سنائی دی سامنے دیکھا تو گارڈ خبر لیے اجازت کا منتظر کھڑا تھا، رانا صاحب نے انگلی سے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا اس نے کہنا شروع کیا ، سر عائزہ میڈم اپنی یونیورسٹی سے دوپہر کے وقت عبد المجید کے بیٹے نوفل کے ساتھ گئی تھیں اور اب تک ان کی کوئی خبر نہیں۔ ان کے دوستوں سے معلوم ہوا ہے کہ عائزہ میڈم سے نا کوئی رابطہ ہوا ہے اور نہ ہی وہ یونیورسٹی آئیں ہیں دوبارہ رانا صاحب نے اسے جانے کو کہا ، رانا خاور کی آنکھوں میں جیسے آگ کے شعلے بھڑک رہے تھے ،ان کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ نوفل کے ہمراہ عائزہ کو بھی گولی ماردیں وہ اب پاگلوں کی طرح چیخنا چلانا شروع ہوگئے تھے اور بد حواسی کے عالم میں بولے جارہے تھے ۔
عائزہ کی وجہ سے میری ساری ساکھ ملیا میٹ ہو گئی اس کو ضرورت ہی کیا تھی اس گھٹیا شخص کی باتوں میں آنے کی ۔۔ ذلیل کروا کے رکھ دیا ہے ۔۔مجھے تو اسے بیٹی کہتے ہوئے شرم آرہی ہے ۔۔اتنی بے حس وہ ہو کیسے سکتی ہے ،اسے معلوم بھی تھا کہ الیکشن کے لیے اس کے باپ نے کتنی تگ و دو کی تھی اور پھر بھی وہ اس نوفل کے کھیل میں آسانی سے الجھ گئی ۔۔ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔۔ اس اسکینڈل کے ذریعے رانا خاور نے مجھے ہرانے کی سازش کی ہے۔۔مجھے نیچا دکھانے کی کبھی کسی نے جرات تک نہیں کی اور وہ چھٹانک بھر کا لڑکا۔۔ وہ مجھے اب بلیک میل کرے گا ،میں اسے جان سے ماردوں گا ۔۔ایسی جگہ گڑواؤں گا کہ عبد المجید ساری زندگی نہیں بھولے گا۔
یہ کہتے ہوئے انہوں نے ہسٹیریائی انداز میں گھرکی چیزیں توڑنا شروع کردیں، ان کی حالت اس قدر بگڑ گئی گویا پاگل ہوگئے ہوں ، ان کا بھتیجا فاران اور بیگم عالیہ انہیں کنٹرول کرنے کی کوشش کررہے تھے ۔ ان کی گھریلو ملازمہ شاکرہ جو شب وروز رانا خاور کی انا اور متکبرانہ رویئے کا مشاہدہ کرتی تھی ، دل ہی دل میں سوچنے لگی کہ جب انسان عزت اور ذلت کا مالک خود کو سمجھ بیٹھتا ہے تو پھر یہی سب ہوا کرتا ہے۔۔ ۔
دوسری جانب عائزہ رسیوں میں بندھی گہری سوچ میں گم تھی ۔۔ اس کے سامنے رکھا کھانا اب ٹھنڈا ہو چکا تھا ، جبکہ نوفل اب کمرے سے باہر جا چکا تھا ۔ شاید زندگی میں عائزہ کو اپنا آپ کبھی اتنا بے بس محسوس نہیں ہوا تھا جتنا وہ اس وقت خود کو شکستہ حال دیکھ رہی تھی ۔ آج وہ سوچنے پر مجبور ہوگئی تھی کہ کون ہے جو مجھے یہاں سے نکال سکے ۔۔ اس کےدل و دماغ گواہی دیں نہ دیں ، روح تو دیتی ہی ہے ،اسے شدت سے اس بات کا احساس ہوا کہ آج اس کی مدد بس ایک ہی ہستی کر سکتی ہے اور وہ وہی ہے جسے وہ بھول چکی تھی ، اس کے دل اور دماغ میں ایک سنسنی سی طاری ہوئی اور اس نے پہلی بار دل کی گہرائی سے اللہ کو پکارا ۔۔
اور۔۔۔۔۔۔غیر یقینی طور پرعائزہ کو یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اسے باقاعدہ طور پر مخاطب کیا ہو " غم نہ کرو اللہ تمہارے ساتھ ہے" اس نے پہلے تو اسے خود فریبی سمجھا لیکن چند لمحے کے توقف کے بعد اس کی آنکھوں سے ندامت کے آنسو بہنے لگے اور یہ اس کی زندگی کا وہ لمحہ تھا جب اس نے حقیقت کو پہچان لیا تھا ۔ مسئلہ دراصل یہ نہیں ہوتا کہ ہم کچھ جانتے نہیں ہیں یا ہمیں سرے سے معلوم ہی نہیں ہے کہ زندگی کیسے گزر رہی ہے، اصل بات تو یہ ہے کہ ہم شیطان کے وسوسوں اور اس کے شیطانیت کے شکنجے میں پھنس جاتے ہیں اور وہ ہمیں اس موڑ پر مایوس کرتا ہے جب کوئی ساتھ نہ دے رہا ہو ۔ قیامت والے روز جب مجرم اس کو اپنے انجام کا قصوروار قرار دیں گے تو وہ بد بخت اس وقت بھی یہی کہے گا کہ میں نے کیا کیا ہے، میں نے تو بس اتنا کہا تھا کہ یہ کام کرلو اور تم وہ کام کر گزرے ۔
انسان سے خطا اس وقت سرزد ہوتی ہے جب وہ نفس کی پکار پر لبیک کہہ کر روح کی آواز کو خاموش کروا دیتا ہے، عائزہ کو آج اپنی ٹیچر کی کہی ہوئی بات ایک دم سے یاد آگئی ، جب وہ گریڈ فور کی اسٹوڈنٹ تھی، اسلامیات کی ٹیچر نے کہا تھا " آپ کو آج ایک بات بتاؤں بچوں !! جب کبھی آپ کو ایسا لگے کہ کوئی آپ کی بات نہیں مان رہا یا آپ کو کسی بھی قسم کی مدد کی ضرورت ہو تو آپ پتہ ہے کس سے مانگیں گے آپ اللہ تعالی ٰسے مانگیں گے اور جب آپ یہ کام کریں گے تو وہ آپ کی بات رد نہیں کریں گے بلکہ سنیں گے ، سمجھیں گے اور قبول بھی کریں گے۔ بس ایک چیز آپ کو ٹھیک رکھنی ہوگی، سب بچوں نے یک زبان ہو کر پوچھا کیا چیز؟؟؟ جواب آیا "نیت " یعنی ارادہ سچا ہونا چاہیے ۔
عائزہ کو ایک جھٹکے سے ہوش آیا اسے لگا کہ وہ ٹیچر ابھی یہیں موجود ہیں۔ اس کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے بے اختیار اس کے منہ سے الفاظ برآمد ہونا شروع ہوۓ لڑکھڑاتی زبان سے اس نے اللہ!! کہا اور پھر اسے ہچکیوں کے ساتھ رونا آیا اور وہ آج رولینا چاہتی تھی ۔ اسے اس بات کا شدت سے احساس ہوا تھا کہ کیا میں اتنی غافل ہوگئی ہوں کہ اللہ کا نام بھی ٹھیک سے نہیں لے سکتی۔ اس نے شدت جذبات سے کہنا شروع کیا ۔میں نے تو اتنے گناہوں میں زندگی گزاری مجھے تو کبھی احساس تک نہ ہوا کہ میں کتنے دھڑلے سے گناہ پر گناہ کیے جارہی ہوں مگر اس کے باوجود آپ مجھے یہ پیغام دے رہے ہیں کہ میں پریشان نہ ہوں اور آپ میرے ساتھ ہیں، آپ کیسے مجھ جیسے بار گناہ سمیٹنے والوں کے ساتھ ہوسکتے ہیں، میں ایسے نہیں مرنا چاہتی جیسے اور جس حال میں میں اب تک زندگی گزارتی آئی ہوں ،مجھے ایک موقع دے دیں ۔میں آپ کو آپ کی صفات کا واسطہ دیتی ہوں ۔میں تو یہ کہتے ہوئے بھی بہت شرمندہ ہوں کہ مجھے آپ کی صفات کے نام تک نہیں آتے مگر آپ مجھے جانتے ہیں ناں اللہ تعالیٰ مجھے یہاں سے اس شیطان کے جال سے نکال دے ۔ میرے اللّہ !! اور وہ روتے روتے جانےکب سوگئی ۔اسے معلوم ہی نہیں ہوا۔
رات گزر چکی تھی صبح نوفل نے لات مار کر بےرحمی کےساتھ دروازہ کھولا اور تیز قدموں سےعائزہ کی جانب بڑھنے لگا عائزہ کے چہرے پر خوف کے آثار بالکل واضح تھے۔ نوفل نےتلخ مسکراہٹ کے ساتھ اس کے ہاتھ اور پاؤں کی رسیاں کھولتے ہوئے اس کو مخاطب کیا " اے پیاری لڑکی !! ایک خوشخبری ہے تمہارا باپ میڈیا کے دباؤ میں آکر ہمارے مقابلے سے پیچھے ہٹ چکا ہے۔ ویسے تم ہو تو بہت ہی بے وقوف تھوڑا سا بھی مشکل نہیں تھا تمہیں جال میں پھنسانا میرا تو فائدہ ہوگیا کہ تم جیسی پیاری لڑکی کی خاطر تواضع بھی ہوگئی ۔رسیوں سے اور تو اور ڈیڈی کا مقصد بھی پایہ تکمیل کو پہنچا ۔ اب کیا رانا صاحب اورکیا ان کی بیٹی ۔۔ کہیں کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں بچے گی کیونکہ سب نے دیکھا تھا کہ تم میرے ساتھ یونیورسٹی سے آئی تھی ۔اس نے رسیاں کھول کر گارڈ کو آواز دی اور کہا کہ جاؤ اور اسے اس کے گھر پھینک کر آؤ ۔عائزہ بالکل خاموش اور گم سم سی گارڈ کے پیچھے چلنے لگی ۔جب وہ بوجھل قدموں سے گھر کے اندر پہنچی ۔





































