
نیرنگِ خیال/ عریشہ اقبال
جس طرح رات کی تاریکی کے بعد صبح روشن کی امید قانون فطرت میں موجودایک عجب اور خوبصورت ضابطہ ہے،اسی طرح انسان کی سیمابی
فطرت اور اس کے دائرے میں موجود زندگی کا معاملہ بھی رب کائنات کی جانب سے عنایت کردہ وہ فلسفہ ہے، جس فلسفے کو سمجھنا اسی وقت ممکن ہے جب اس کو سمجھنے کی آرزو اور خواہش انسان کے اندر موجود ہو ۔
میں سمجھتی ہوں آرزو ہی ایک ایسی چیز ہے جو زندگی کے معنی و مفہوم کا پتہ دیتی ہے کیونکہ آرزو اور خواہش کا معاملہ انسانی زندگی میں بلکل وہی کردار ادا کرتا ہے جو ایک شجر سایہ دار بننے کے سفر میں پانی اور دھوپ ادا کرتی ہے کیونکہ اس شجر سایہ دار اور اس کے شجر بننے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا اگر وہ ایک ننھے سے پودے سے لے کر ایک شجر بننے تک کے مراحل کو طے نہ کرتا اور اس کی ضرورت کے مطابق اس کی نشونما کا سامان بروقت نہ کیا جاتا بلکل اسی طرح ایک انسان اور اس کی فطرت میں موجود جو ضابطہ ہے، اس ضابطے کا کلیتا ًانحصار جس چیز پر ہے ،وہ وہی فلسفہ ہے جس کو سمجھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے دو طرح کی اقسام کا تعارف قرآن کریم میں کروایا ہے ایک احسن تقویم والی قسم جس سے انسان خود فلسفہ حیات کو سمجھ کر اپنی زندگی کو سنوار سکتا ہے اور میرے نزدیک اس سیمابی فطرت جس میں موجود انسانی زندگی کے مختلف ادوار ہیں جس میں خوشی ، غم ،کامیابی اور ناکامی شامل ہیں اور اس فطرت کے قانون کو سمجھنے کے لیے ان ادوار سے گزرنا ایک ناگزیر امر ہے جس سے اختلاف کرنا نہ صرف ایمان کے اعتبار سے سب سے بڑی غلطی ہوگی بلکہ منطقی اور انسانی نفسیات کو پیش نظر رکھتے ہو ئے بھی ایک بڑی غلطی ہوگی، جہاں احسن تقویم کی قسم کے اپنانے اور اسے اپنی زندگی میں شعوری طور پر شامل کرنے کے نتیجے میں خیر ہمارا مقدر بن سکتی ہے۔ اسی طرح اسف السافلین کے حق میں اپنا فیصلہ دینا اور اپنی زندگی کی باگ ڈور تھما دینا اس فلسفہ حیات اور اس کے ضابطے کی سراسر توحین ہونے کے ساتھ اس کے اندر موجود جامعیت اور کاملیت کی نا قدری ہوگی کیونکہ اعلان تو بہرحال حقیقت ہے کہ:
ہم نے تمہارے لئے آج تمہارا دین مکمل کردیا اور اسلام کو تمہارے لیے بطور دین پسند کرلیا ۔۔۔۔۔۔
اس حقیقت سے رو گردانی اور اس سے کنارہ اختیار کرنا رب کائنات نے میرے اور آپ کے لیے کبھی پسند نہیں کیا کیونکہ اسے ہماری ہم سے زیادہ پرواہ ہے ہماری اپنی ذات سے زیادہ اسے ہمارا خیال ہے اس کی محبت جیسی کوئ محبت نہیں حتیٰ کہ والدین کی بھی نہیں یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنی جانب سے ایک ایسی مدلل اور جامع کتاب کو ہماری جانب بھیجا اور پھر سب سے زیادہ معتبر قاصد کے ذریعہ اس نے یہ پیغام نصیحت ہم تک پہنچایا جس میں ہر آن ہمارے حق میں راہنمائ ہی راہنمائ کا معاملہ ہے
آپ کا اور میرا کام ہماری زندگی میں موجود ضابطوں اور اس سے جڑے رابطوں اور معاملات پر کڑی نگاہ رکھنے کے ساتھ سخت پہرے بٹھانے کا ہے کہ کہیں ہم اپنی شخصیت کی تعمیر کی فکر اور اس کی تسخیر میں کوئ کوتاہی یا سنگین غلطی تو نہیں کررہے ۔خود کو اور خود سے وابستہ ہر چیز کو حقیقت سے جوڑیے رب سے جوڑیے ۔
چاہے معاملہ روزگار کا ہو
تعلیم حاصل کرنے کا ہو
روشن مستقبل بنانے کا ہو
یا اہل و عیال کے ساتھ قرابت داروں کے ساتھ معاملات کا ہو فکر آخرت ہی حقیقی کامیابی ہے اور کامیابی کی حرص بہر حال انسانی فطرت کا بنیادی تقاضا ہے۔
یقین کی منزل ایمان ہے ۔





































