
عریشہ اقبال
جمال یار کو دیکھا
پھر اپنے حال کو دیکھا
جب اپنے حال کو دیکھا
بہت بے حال سا دیکھا"
سورج کی تیز روشنی جس طرح اپنے ہمراہ ہر شے کو روشن رہتی ہے اسی طرح اللہ کی یاد ہمیشہ اپنے وجود کے ہمراہ دوسرے کئ وجودوں کو سکون پہنچاتی ہے
بے شک دلوں کا سکون اللہ کی یاد میں ہے ۔القرآن
عائزہ کی نظروں نے جب تک فاطمہ کو نہیں دیکھا تھا اس کے دل کا حال صرف وہ جانتی تھی اور اللہ تعالیٰ جانتا تھا۔ "بے شک دلوں کو سکون اللہ کی یاد سے ہی ملا کرتا ہے "(مفہوم القرآن) اس نے جب فاطمہ کو اپنے سامنے پایا تو اس نے دل میں اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ادا کیا ۔۔۔پہلے سیشن کے بعد وہ جیسے ہی گھر کے اندر داخل ہو ئی پہلا قدم رکھتے ہی اسے محسوس ہوا جیسے کسی نے اس پر سے آدھا بوجھ ہلکا کر دیا ہے کیونکہ سامنے جب نظریں اٹھا کر اس نے دیکھا تو اسے ایک آیت لکھی ہوئی نظر آئی جب اس نے ترجمہ پڑھا تو اسے اپنے اندر سکون سا اترتا ہوا محسوس ہوا "اور اپنے رب ہی سے دل لگاؤ" ۔
فاران اب عالیہ بیگم اور رانا صاحب کے سامنے بیٹھا چائےکے گھونٹ آہستہ آہستہ لے رہا تھا بظاہر ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ وہ کسی گہری سوچ میں گم ہے اور رانا صاحب کو بخوبی اندازہ تھا کہ وہ اس وقت کیا سوچ رہا تھا ، انہوں نے اس کو سوچ سے نکالنے کی سعی کرتے ہوئےآواز دی۔۔ فاران! اس نےایک دم چونک کر کہا جی ماموں جان معافی چاہتا ہوں آپ کچھ کہہ رہے تھے ۔ میں نے سنا نہیں۔ رانا صاحب نے فکر مند سی نگاہ اس کے چہرے پر ڈالتے ہوئے نرم لہجے میں اس سے کہنا شروع کیا ۔ دیکھو میں اس بات سے واقف ہوں کہ تمہیں عائزہ پر میرا غصہ کرنا اور ہاتھ اٹھانا بہت ناگوار گزرا ہےمگر تم میری کیفیت کوسمجھنے کی کوشش کرو۔اس وقت میری مثال بالکل ایسی ہے جیسے طوفان آجانے کےباعث کشتی ڈوب رہی ہو اور اس کشتی کو کنارے تک پہنچانا بہت ہی مشکل نظر آرہا ہے ۔
فاران نے ان کی بات سننے کے بعد تحمل سے کہا ماموں جان آپ میری بات کا برا نہیں منائیے گا لیکن میں آج آپ کو آئینہ دکھانے کے لئے یہاں بیٹھا ہوں، مجھے آپ سے زیادہ لمبی چوڑی گفتگو نہیں کرنی مگر میں صرف ایک سوال کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ اگر ایک طرف عائزہ کو رکھا جائے اور دوسری طرف آپ کے اسٹیٹس کو رکھا جائے تو آپ کس چیز کا انتخاب کریں گے۔ آج اس لمحے میں ایک مختصر سوال نے رانا صاحب کو پوری زندگی کا مطلب سمجھا دیا تھا ۔ شاید! تم شاید ٹھیک کہہ رہے ہو فاران میں نے ہمیشہ اپنی ہر خوشی اور ہر غم کو خود اور خود غرضی تک ہی محدود کرلیا ہے میرا ہر راستہ انہی تمام چیزوں پر شروع ہوتا ہےاورانہی پر جا کر ختم ہوجاتا ہے ۔۔ آج لگتا ہے جیسے میں کسی سراب کے پیچھے دوڑ رہا تھا ۔۔۔آج تک اس بات کا مجھے احساس نہ ہو سکا مگر تمہاری ایک بات نے مجھے حقیقت کی دنیا میں واپس بھیج دیا ہے کہ عزت و ذلت کا مالک صرف اللہ ہے ،میں شاید اللہ کو بھول بیٹھا تھا،یہی وجہ ہےکہ زندگی آج مجھے اس موڑ پرلےآئی ہے کہ ناکامی دائمی طور پر میرا مقدر نظر آرہی ہے ۔ فاران نے ایک دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ رانا صاحب کو دیکھا اور اثبات میں سر ہلاتے ہوئے وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔
عالیہ بیگم نے اسی لمحے اللہ کا شکر ادا کیا اور رانا صاحب سے بس اتنا کہہ کر کچن کی طرف بڑھ گئیں کہ ساری زندگی گزر گئی لیکن آپ نہ سمجھ پائے تھے کہ کشتی کنارے پر لگانے والا انسان کون ہوتا ہے ؟اورآخر آپ کو زندگی کے ایک لمحے نے سبق سکھا ہی دیا کہ ہمارے مسائل کا حل صرف اللہ ہی کے پاس ہے، اور میں اس بات پر بے حد خوش ہوں کہ آپ کو یہ بات آج سمجھ آگئی ۔۔ میرے رب کا بہت بڑا احسان ہے ۔رانا صاحب نے عالیہ بیگم کے جاتے ہی ایک گہرا سانس لیا اور عصر کی نماز کے لیے وضو کرنے وضو خانے کی جانب چل دئیے ۔
وہاں عائزہ فاطمہ کے ڈرائنگ روم میں موجود کتابوں کے بڑے سے شیلف کو دیکھ رہی تھی جس میں بہت سی دینی کتابیں اور تفاسیر کی جلدیں رکھی ہوئی تھیں ،فاطمہ اس کے پاس آ کر بیٹھی اس کا چہرہ روشن تھا اور وہ چمک رہا تھا عائزہ کو ایسا محسوس ہوا گویا وہ اس چمک کے سحر میں گرفتار ہوگئی ہے ۔ فاطمہ نے نرم لہجے میں اس سے دریافت کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالی کون ہے؟ میرا مطلب ہے وہ کیسے ہیں؟ اس نے نفی میں سر ہلایا ۔ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اس کے دل پر لگے زخموں پر کوئ مرہم رکھ رہا ہے اور مرہم بھی ایسا کہ ململ کے کپڑے کی طرح نرم و ملائم اور زندگی بخشنے والا۔فاطمہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا اللہ تعالی نے سورہ نور میں اپنا تعارف کروایا ہے تم ضرور اسے پڑھنا اور پھر اس نے کہا
اللہ نور ہے آسمانوں کا اور اس کے نور کی مثال ایک طاق کی ہے جس میں چراغ ہے اور چراغ شیشے کی قندیل میں ہو اور شیشہ مثل چمکتے ہوئے روشن ستارے کے ہو وہ چراغ ایک بابرکت درخت زیتون کے تیل سے جلایا جاتا ہو جو درخت نہ مشرقی ہے نہ مغربی خود وہ تیل قریب ہے کہ خود ہی روشنی دینے لگے اگرچہ اسے آگ نہ بھی چھوئے نور پر نور ہے اللہ تعالی اپنے نور کی طرف رہنمائی کرتا ہے جسے چاہے لوگوں کو سمجھانے کے لئے اللہ تعالی یہ مثال بیان فرما رہا ہے اور اللہ تعالی ہر چیز کے حال سے بخوبی واقف ہے ( النور القرآن)
عائزہ یک ٹک بغیر پلک جھپکاۓ اسے دیکھے جا رہی تھی کیونکہ کبھی بھی اس نے اپنی زندگی میں کسی ایسے روشن چہرہ، اتنی پر سکون حالت اور اس قدرطمانیت سے لبریز لہجہ نہیں دیکھا تھا ، فاطمہ کے الفاظ شہد کی طرح معلوم ہورہے تھے یا شاید اس سے بھی میٹھے۔ اسے اپنے دل و دماغ کی کیفیت بالکل بدلی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ اس حقیقت کوجان چکی تھی کہ جس کے قلب میں اللہ کی یاد ہو اور جس کا وجود اللہ کے رنگ میں رنگنے کی جستجو لیے اس کی راہ میں بڑھتا چلا جارہا ہو تو اس پر رشک کیوں نہ آئے گا۔
عائزہ! فاطمہ نے ایک بار پھر اپنی نرم آواز میں اسے مخاطب کیا ۔ تمہیں ایسا تو نہیں لگتا کہ میں نے بہت گناہ کرلیے ہیں اور میرے گناہ اتنے زیادہ ہیں کہ اللہ تعالی اب مجھے معاف نہیں کریں گے؟
"تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں"
تیری رحمتوں پہ ہے منحصر
میرے ہر عمل کی قبولیت
نہ مجھے سلیقۂ التجاء ،نہ مجھے شعور نماز ہے
عائزہ نے اثبات میں سر ہلایا فاطمہ نے ایک گہری سانس لی اور اس سےکہا کہ میں نے پورا قرآن پڑھا ہے شروع سے لے کر آخر تک پڑھا ہے تمہیں پتہ ہے اس میں شروع سے لے کر آخر تک اللہ تعالی کے غضب سے زیادہ اس کی رحیم والی صفت کا ذکر ہے۔
اس نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور کہنا شروع کیا سورہ التحریم میں اللہ تعالی نے توبۃالنصوح کےبارے میں بتایا ہےجس میں اللہ تعالی فرماتے ہیں"
اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ سےتوبہ کرو خالص توبہ بعید نہیں کہ اللہ تم سے تمہاری برائیاں دور کردے۔"( القرآن سورۃ تحریم)
تم بھی اچھی طرح وضو کرنا اورپھر دو رکعت نفل توبہ کے ادا کرنا۔ ان شا ء اللّٰہ ،اللہ تعالی تمہیں معاف کردیں گے عائزہ مجھے تم پررشک آرہا ہےکیونکہ تمہارا یہ ٹوٹا ہوا دل اب اللہ تعالی خود اپنی یاد سے جوڑیں گے اور اگر تمہیں کوئی مسئلہ ہو تو تم قرآن کھولنا جو بھی آیت سامنے آئے اسے پڑھنا ،تمہیں اللہ تعالی خود بتائیں گے کہ اب تم نے کیا کرنا ہے مگر ہاں خوف اور امید کے درمیان رہنا ! اعتدال ہونا چاہیے۔ وہ وقت جو اس نے فاطمہ کے ساتھ گزارا وہ اس کی زندگی کا سب سے حسین وقت تھا اور فاطمہ کی باتوں نے عائزہ کے دل کو زندگی کی امید دلائی تھی بلکہ اس کی روح کوچھوا تھا ۔اس کی پوری زندگی میں اسےجتنی محبت فاطمہ سےتھی اتنی کسی سے بھی نہ ہوسکتی تھی کیونکہ وہ اسےاپنی روح کا حصہ سمجھتی تھی جیسے شفق سے روشنی پھوٹتے ہی سارا منظر روشن ہو جاتا ہے اسی طرح اللہ کا رنگ جب ایک وجود میں سرایت کرتا ہےتو وہ اسب وجود کو جلا بخشتا ہے۔
رات کے تین بجے وہ جائے نماز پر بیٹھی ندامت کے جذبات سے لبریز اپنے اللہ سے ہم کلام تھی جس کی محبت کا احساس اسے اب ہوا تھا ،جو دل اسے نماز سے اس قدر دور جانے کو کہتا تھا ،اب وہ محسوس کر رہی تھی کہ وہی دل اللہ کی جانب مائل ہے۔وہ اللہ سے سچی معافی طلب کر رہی تھی اور اس سے اس کی محبت مانگ رہی تھی۔
اس کے رنگ میں رنگنے کا سوال کر رہی تھی ،اس کی آنکھوں سےگرتے سفید موتی اس کے دل کی سیاہی کو دھو رہے تھے ۔ اس کے ہاتھ کا کٹورہ گناہوں کی کالی سیاہی کو نامہ اعمال سے مٹا رہاتھا۔ وہ بہت سکون محسوس کر رہی تھی اور فاطمہ کو دل و جان سے دعائیں دے رہی تھی۔ صبح پانچ بجے تمام پرندے اداس نہیں بہت خوش تھے کیونکہ آج ایک اور وجود اللہ سے محبت کی جستجو لیے دن کا آغاز کرنےوالا تھا ۔وہ نماز پڑھ کر اپنے ہلکے وجود کو جو ایک وقت میں اسے بہت بھاری محسوس ہوا کرتا تھا آہستہ آہستہ قدم بڑھاتے ہوئے کمرے کے اندر داخل ہوئی تو اس کے قدم وہیں رک گئے۔ شیطان اسے پھر مایوسی کی جانب لے جانے کی کوشش کرنے لگا اس نے خود کوسنبھالتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کیں اور سورہ فاتحہ کی وہ آیت تلاوت کی۔
( دکھا مجھے سیدھا راستہ ان لوگوں کا راستہ جن پر تونے انعام کیا نہ کہ ان کا جو مغضوب ہوئے اور جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں) ۔
آنکھیں کھولی تو سامنے رانا صاحب شکر سے بھرے وجود کے ساتھ ہاتھ پھیلائے چہرے پر مسکراہٹ سجا کرکھڑے تھے وہ بھاگتی ہوئی ان کی جانب بڑھ گئی اور ان کے سینے سے لگ کر کسی بلکتے ہوئے بچے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
بابا مجھے معاف کر دیں ۔
بابا پلیز مجھےمعاف کردیں ۔میں نے بہت غلط کیا ہے۔ آپ کا بھروسہ توڑا ہے اور بھی بہت بڑے بڑے گناہ کیے ہیں۔
رانا صاحب نے آہستہ سے اسے اپنے آپ سے الگ کرتے ہوئے صوفے پر بٹھایا اوراس کے سر پر ہاتھ رکھا اور پھر کہنا شروع کیا بیٹا مجھے کبھی احساس ہی نہیں ہو سکا کہ میں نے اپنی ساری زندگی کہاں لگا دی ۔ کس اندھے کنویں میں چھلانگ لگا دی اور نہ جانے کون سے راستے کا تعین کر بیٹھا ،بیٹا جب ہم شیطان کی پکار پر لبیک کہتے ہیں تو پھر کچھ نہیں بچتا کیونکہ وہ ہمارا کھلا دشمن ہے اس نے آدم علیہ السلام اور بی بی حوا علیہ السلام کو بھی جنت سے نکلوایا تھا اور جبکہ اللہ نے ہمیں اس سے دور رہنے کی ہدایت دی لیکن ہم انسان واقعی بڑے ناشکرے ہوتے ہیں ۔
مجھے میرے اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کی خوشخبری دی میرے آنگن میں چاند جیسی بیٹی میری پہلی اولاد ہوئی لیکن میں نےتمہیں اس راستے کی طرف جانے سے نہیں روکا جو گمراہی سے بھراہے لیکن اس کی مہربانی اور کرم اتنا ہے کہ اس نے تمہیں ہی ذریعہ بنا کر مجھے حقیقت سے روشناس کروایا مجھے معاف کر دینا میری پیاری بیٹی! ان کی آنکھوں سے آنسو صاف جھلک رہے تھے۔ اس نے اللہ تعالی کی محبت کو ایک بار پھر شدت سے محسوس کیا تھا عالیہ بیگم کمرے میں چائے کی پیالی ہاتھ میں لیے ششدر کھڑی تھیں۔
عائزہ !
یہ کیسی تبدیلی ہے بیٹا۔۔۔۔۔
اس بارعائزہ نے نہیں فاطمہ نے جواب دیا تھا وہ کچھ دیر پہلے ہی عائزہ سے طے کیے گئے وقت کے مطابق قرآن کلاس لینے کے لیےاس کو پک کرنے کی غرض سے پہنچی تھی اورکمرے کے دروازے پر کھڑی کہہ رہی تھی کہ یہ تو اللہ کا رنگ ہے ۔ وہ جسے چاہے دے ، یہ رنگ اسی پرچڑھتا ہےجس کے اندرچاہت ہوتی ہے،آنٹی ۔۔چاہت تو چاہت ہےاوراسی پر تو زندگی کا دارومدار ہےکبھی وقت ملے تو ضرورسوچیے گا،عالیہ بیگم نے ایک مسکراہٹ کے ساتھ عائزہ کو گلے لگایا۔
عائزہ کی زندگی کا مقصد بھی اب اپنے آپ کو سارے پھیکےرنگوں سے بے نیاز کرکے اس ایک ہی رنگ کا انتخاب کرنا تھا اور وہ انتخاب کر چکی تھی اسے صبغتہ اللّٰہ کےرنگ کی تمنا تھی اوراب جبکہ انتخاب کیا جاچکا تھا تو زندگی کا سفرایک مختلف راہ ہموار کر چکا تھا ۔
وہ وجود جس کی سیاہی نے عائزہ کی زندگی میں کبھی روشنی کے میسرنا آنے کا ڈر اور نا امیدی کے خدشات کو جگہ دے دی تھی ،اسے اس وقت سے لے کر آج تک اس کی زندگی میں کبھی اس کا سایہ بھی نظر نہیں آیااوریقیناً اللّٰہ کا رنگ جب سرایت کر جاتا ہےتو پھر سکینت اور محبت کے خوبصورت ترین احساسات پروان چڑھنے لگتے ہیں یہی تو وہ متاع ہے جس کی تمنا دراصل خاص لوگوں کو ہی میسرآتی ہے اور وہ خاص لوگ واقعی بہت قیمتی ہوتے ہیں کیونکہ انہیں چن لیا جاتا ہے اور اگر وہاں سے کسی کا چناؤ ہوجائے تو پھر نفس مطمئنہ پر ہی اتمام حجت ہوا کرتا ہے۔ وہ اور فاطمہ اب ایک دوسرے کو جنت میں ساتھ دیکھنا چاہتےتھے،چاہت کا مفہوم عائزہ کو سمجھ آ چکا تھا۔ اب فاطمہ اور عائزہ ایک آوازملا کر کہہ رہے تھے کہ صبغتہ اللہ ہی تو
اصل چاہت ہےباقی تو جو چاہت ہے اس میں سکون کہاں ۔۔۔۔۔۔
فاطمہ عائزہ کی زندگی کا وہ حصہ ہے کہ اس کا ذکر جہاں بھی آئے اس کے دل کو خوشی سے بھرپور کر دیتا ہے اور جب اس کا ذکر اس کی دعاؤں میں آتا ہے اور وہ تو لازمی طور پرآتا ہی ہے تو اس کی آنکھوں میں اشکوں کی ڈول بھر آتی ہے۔
تیرے نور ہی کا کمال ہے
جو ہے کائنات میں ہر جگہ
تیرے نور ہی کمال ہے کہ
چمک اٹھے میری ہر دعا
تیرا نور ہی تو طویل ہے
تیرا نور ہی تو کریم ہے
ختم شد





































