
عریشہ اقبال
دل ڈوبنے کی سی کیفیت اختیار کرگیا ہے، وجودساکت ہوگیا ہے اورآنکھیں تو گویا آئنہ ہوں کوئ جو حقیقت کو ایسے میرے
سامنے پیش کررہا ہے کہ جھٹلانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔۔آج جب 2024 کا پاکستان دیکھتی ہوں تو گزشتہ 77 سالہ تاریخ اور اس میں موجود حقائق پر نظر ثانی کرنا ایک فریضہ معلوم ہوتا ہے جس کی ادائیگی شاید مجھ پر نہیں بلکہ ہر اس فرد پر لازم و ملزوم ہے جو حب الوطنی کے جذبے سے دھڑکتے دل اور یوم آزادی کی کی حقیقی خوشی منانے کا دعوے دار ہے جی ہاں یہ وہ منظر ہے جس کو محض ایک عظیم داستان اور تحریک آزادی پاکستان میں پیش آنے والی مشکلات اور گزرنے والے مصائب و آلام کا ذکر کرنے کا درجہ حاصل ہے گویا کوئی تسبیح ہے جو پڑھے جانے کے نتیجے میں اجر و ثواب کی امید اور وطن سے محبت کا منہ بولتا ثبوت سمجھا جا رہا ہے اور ایک طویل مدت سے ہر سال یہ سلسلہ جاری و ساری ہے مگر سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ جس حب الوطنی کے جذبے کی ترجمانی جس شان سے کی جارہی ہےکہ پاکستان ذندہ باد کے نارے پوری آب و تاب کے ساتھ لگاۓ جارہے ہیں اور کان چیر دینے والے باجوں سے اپنی آزادی کے دن کو منایا جارہا ہے اور اس سوچ کو بھلاۓ وطن عزیز کے حصول کی بنیاد اور اس کی خاطر دی جانے والی قربانیوں کو بطور تعمیر کردار کا اثاثہ سمجھنے کے اور اس نظام کے حق میں جدو جہد کرنے کے لیے ہر وطن سے چاہت رکھنے والے کو تیار کرنے اور اپنی تہذیب و تمدن کے ذریعے اس نظریے کے مطابق اس ملک و ملت کا نظام اور معاشرے کی تعمیر کی فکر کہیں بہت دور نکل گئی ہے۔
آج وہ پاکستان جو کلمہ حق کی روشنی سے منور تھا ،جہاں انصاف کا بول بالا تھا جس پاکستان کی تلاش کا سفر علامہ اقبال کے خواب سے شروع ہوا اور اس خواب کی تعبیر قائد محمد علی جناح کے ذریعے ممکن ہوئ زرا تصور کیجیے جس وطن کا پرچم آج ہم یوم آزادی کے موقع پر بلند کرتے ہیں اور پاکستان ذندہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں تو کیا یہ پاکستان آج کا پاکستان واقعتاً زندہ ہونے کی مثال ہے کیا یہ 2024 کا پاکستان ہمارے تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہوئی بے حیائ اور فحاشی کے مناظر پیش کرتے ہوۓ ہمیں آزاد پاکستان کا تصور پیش کرتا ہے؟؟؟
اور اس دو قومی نظریے کہ ہندو اور مسلم ایک دوسرے سے بلکل جدا ہیں کیا ہمیں
اس انفرادیت کی تصویر پیش کرتا ہے ؟؟
اور انہیں انگریزوں کی تہذیب جن کی غلامی سے آزاد ہونےکی آج ہم خوشیاں منانےکا اعلان کررہے ہیں یقین جانیے درحقیقت ہم اپنے ایمان کی توہین اور اپنے ضمیر کو آغوشِ غفلت میں سلاکر اس فرنگی تہذیب سے مرعوب ہوچکے ہیں اور ہمارے ذہن اور ہمارے دل اس غلامی کو تسلیم کرچکے ہیں جس کے نتیجے میں ان غیر اسلامی رجحانات کو فروغ دینے کے منصوبے کامیاب ہورہے ہیں اور میں اور آپ اس خام خیالی میں مبتلاۓ حال ہیں کہ ہم آزاد ہیں خود سے سوال کیجیے کیا واقعی آپ آزاد ہیں آپ کی مملکت میں موجود تعلیمی ادارے ،آپ کے معاشی و معاشرتی معاملات کی موجودہ صورتحال کیا واقعی اس نظریے پر مشتمل ہے جس نظریے کی عکاسی کرتا ہوا منظر 77 برس قبل پیش کی جانے والی عظیم قربانیاں اور جس کلمہ حق کی گواہی اور جیتی جاگتی تصویر وہ خون آلود ریل گاڑیاں ہیں جو ہجرت کے دوران آزادی کا حقیقی تصور رکھنے والے اور اسے حاصل کرنے کی صحیح فکر پر مشتمل جدو جہد کرنے والے وجودوں سے بھری پڑی تھیں جی ہاں وہ صرف زبانی اقرار کرنے اور قول و فعل میں تضاد رکھنے والے لوگ نہیں تھے بلکہ وہ تو آزادی کی روح سے پوری طرح آشنا لوگ تھے اب یہاں اس موجودہ صورتحال کا ایک نظر جائزہ لیا جاۓ تو دل خون کے آنسو روتا ہے کہ کہاں ہے وہ آزادی اور کہاں ہے وہ نظام جس کے لیے میں اور آپ آج یوم آزادی منا رہے ہیں کیا واقعی ہمیں حق ہے کہ حکومتی سطح پر کی جانے والی نا انصاف یوں اور غیر ملکی دوروں کی نذر کرنے والے عوام کے حقوق ،اور مغربی تہذیب کی اسیری میں مبتلا ہمارے سروں پر مسلط کیے جانے والے حکمران ہمیں آزادی منانے کا حق دیتے ہیں............
اپنی ہی بیٹی کو دشمنان حق کے حوالے کردینےوالے بے ضمیر،امت مسلمہ پر ڈھاۓ جانے والے مظالم پر خاموش رہنے والے دینی حمیت کو فراموش کردینے والے یہ جابر اور سفاک حکمران کہاں واقف ہیں کہ پاکستان کا مطلب لا الہ الااللہ ہے اور اس لا الہ الااللہ میں موجود نظام کے نفاذ ہی کی خاطر اس وطن کے لیے محبت کے جذبے دلوں میں ابھرے تھے اور نہ جانے کتنی ہی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کو وہ شجاعت و بہادری کا مظہر لوگ تیار تھے جو اس کلمہ حق کی سربلندی اور اس وطن عزیز کی اساس کو عظیم امانت کا درجہ دیتے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر آزادی کی روح کو سمجھتے ہوۓ آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوۓ تھے اور سر پر کفن باندھ کر رخت سفر باندھ نکلے تھے اسی لمحے ایک شعر ذہن میں گردش کررہا ہے اور دل اس کی صدا پر لبیک کہہ رہا ہے کہ
تلاشتا ہوں جب اِس وطن کو
تو ایسے لگتا ہے
دیس میرا
وہ کھو چکا ہے
چہار جانب سیاہ اندھیرے ہیں
جو میری جانب بڑھ رہے ہیں
آج تلاشوں گر اس پاکستان کو تویہ 14 اگست کا موقع میرے لیے پاکستان ذندہ باد کی عکاسی کرتا ہوا نظر آنے کے بجاۓ پاکستان مردہ باد کی تصویر پیش کرتا ہے
ابھی بھی وقت ہے اپنے ایمان و یقین سے وفا کیجیےاپنے وطن سے محبت کا حق ادا کرنے کی خاطر اسی سنہری تاریخ کو ایک بار پھر رقم کردینے کا عہد کرلیجیے یقین جانیے اگر آپ نے اس یوم آزادی پر اس عہد کو وفا کرنے کا چراغ اپنے دل میں روشن کرلیا تو یہ روشنی تاریکیوں میں ڈوبے ہوۓ پاکستان کو پھر سے روشنیوں میں تبدیل کرنے کی طاقت رکھتی ہے آپ اور میں اس قوم کا سرمایہ ہیں اس ملک کے امین ہیں اس امانت کا حق ادا کرنے کی فکر میرا اور آپ کا ہتھیار ہے خدارا ہوش کیجیے بیدار ہو جائیے اس خواب غفلت سے اور جواں عزم لے کر حب الوطنی کے اصل جذبے سے سرشار ہوکر اپنے پاکستان کی تلاش شروع کیجیے روشن مستقبل منتظر ہے آپ کا ان شا ء اللّٰہ!
زمانہ منتظر ہے پھر نئ شیرازہ بندی کا
چلو تیار ہو جاؤ اجالے کی طرف آؤ
اللّٰہ تعالیٰ ہماری قوم کو بیدار اور ہمارے حکمرانوں کی مردہ ہوئ غیرت کو پھر سے زندہ کردے اور ہمیں ہمارا خوشحال پاکستان واپس لوٹا دے جہاں کلمہ لا الہ کی گونج ہر جانب سنائ دے اور ہر فرد کا کرادار اس کلمے کا منہ بولتا ثبوت ہو امت مسلمہ پر ڈھاۓ جانے والے مظالم کے حق میں پاکستان کو حق کی گواہی دینے والا بنادے۔ آمین یا رب العالمین
نوٹ : ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )





































