
عریشہ اقبال
باب ہفتم
چاند کی سفید دودھیا سی خوبصورت روشنی رات گئےنہر کے پانی میں جب اپنا عکس دکھاتی ہے تو آنکھوں اور دل کو قرار
نصیب ہوتا ہے اسی طرح جب اللہ کا رنگ انسان کے وجود میں سرائیت کر جاتا ہے تو چہرے پر سکینت اور ایک نور اجاگر ہوتا ہے ۔ جو کبھی کسی وقت گناہوں کی تاریکی کے ساۓ میں گھرا ہوتا ہے۔
وہ جب بوجھل قدموں سے گھر میں داخل ہوئ اور اس پر رانا صاحب کی سلگتی ہوئی شعلہ بارنظریں جم سی گئیں ، وہ دو منٹ کے لیے عائزہ کو ایک نگاہ سے دیکھتے رہے اور پھر نہایت تیز قدموں سے اس کی جانب بڑھنے لگے عائزہ کے قدم وہیں رک گئے جب وہ اس کے قریب پہنچ گئے تو اس کے پھڑپھڑاتے ہوۓ لبوں سے صرف با۔۔۔۔۔۔با ادا ہوا ہی تھا کہ رانا صاحب نے ایک زور دار طمانچہ نہایت بے رحمی کے ساتھ اس کے چہرے پر مارا اور دوسرا مارنے کے لیے ہاتھ بلند کیا ہی تھا کہ انہیں اپنے ہاتھ پر کسی کی مضبوط گرفت محسوس ہوئی جب انہوں نے نظریں اوپر اٹھائیں تو اپنے بھتیجے فاران کو کھڑا پایا عائزہ کی خوفزدہ نظریں آہستہ آہستہ اوپر اٹھنے لگیں، جب اس نے فاران کو دیکھا تو اس کی کیفیت کچھ اس طرح ہوگئ جیسے اس کے سر پر گویا آسمان گرگیا ہو، فاران نے ہاتھ کے اشارے سے عائزہ کو آگے چلنے کو کہا اور رانا صاحب کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے بس اتنا کہ کر عائزہ کے پیچھے چل دیا کہ "جوان بیٹی ہے آپ کی ... کچھ تو خیال کریں اس کی سماعت سے جب یہ آواز ٹکرائی تو شرمندگی سی شرمندگی تھی کہ وہ کبھی فاران کے سامنے اس طرح بھی آسکتی تھی ۔جب وہ اپنے کمرے تک پہنچ گئی تو فاران نے اسے مخاطب کیا اس وقت تک کمرے سے باہر مت نکلنا جب تک کہ میں آکر نا کہوں
ٹھ ۔۔۔۔۔ی ۔۔۔ک لفظ ٹوٹتا چلا گیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو گرتے چلے گئے فاران کے دل پر جو اس وقت ٹھیس لگی تھی وہ شاید کوئ دوا کم نا کرسکتی اور نا ہی کوئ مرہم اس کے اس درد کو راحت فراہم کرسکتا تھا ۔ عائزہ نے کپکپاتے ہوئے ہونٹوں سے کچھ کہنا چاہا ۔
سنیں آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے بچایا اور میری مدد کی بس ایک اور احسان کردیں بابا سے کہیں کہ مجھے معاف کردیں وہ تو آپ کی بات کو کبھی بھی رد نہیں کرتے ہمیشہ سے آپ کی بات کو سمجھتے ہیں فاران یک ٹک بغیر پلک جھپکاۓ اسے دیکھ رہا تھا وہ اپنے دل و دماغ سے قبول ہی نہیں کر پارہا تھا کہ یہ عائزہ بنت رانا خاور ہے اسے دل میں خیال آیا کہ یہ وہی عائزہ ہے جس کو معافی مانگنا تو دور کی بات معافی جیسے لفظ کا مطلب تک نہیں پتہ تھا ، خود سری اور انا اس کی فطرت ثانیہ تھیں اور آج یہی عائزہ مجھ سے کہ رہی ہے کہ بابا سے کہیں مجھے معاف کردیں اس کی کانپتی ہوئی ٹانگیں اور لرزتے ہوئے ہاتھ دیکھ کر اس سے مزید رہا نہ گیا ۔ عائزہ کو پانی دے کر وہ عائزہ کے سامنے کرسی لگا کر بیٹھ گیا ، کچھ دیر کی خاموشی میں وہ صرف ایک ہی سوال سوچتا رہا اور وہ سوال صرف یہ تھا کہ آخر کیوں؟؟؟ اس گتھی کو سلجھانا اب اس کے لیے نا گزیر ہوگیا تھا ۔۔ فاران ابتدا ہی سے ایک مضبوط ارادے اور آہنی اعصاب کا فرد تھا ، وہ جب کچھ کرنے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو پھر اس کام کو انجام دینے تک وہ چین سے نہیں بیٹھتا یہ اس کی وہ عادت تھی جس سے تمام لوگ واقف تھے ۔ فاران کی نگاہوں کے سامنے کچھ دیر کے لیئے ماضی کے واقعات کسی فلم کی طرح چلنے لگے ۔۔۔۔فاران بھائ میری بات سنیں ، وہ اپنی سیاہ فراک پہنے اپنے ریشم جیسے بالوں پر پیارا سا ہیئر بینڈ لگاۓ اس کے پاس آگئی اور ہمیشہ کی طرح وہ آج بھی بلکل کوئ کوہ قاف کی پری ہی لگ رہی تھی اس کے سرخ و سفید گال اور اس پر جب مسکراہٹ کھیلتی تو فاران کی تو بس خوشی کی انتہا نا رہتی ۔اور وہ اپنی روداد سنانا شروع ہوجاتی اور نہایت ہی لمبی چوڑی تمہید کے بعد آخر بات اس طرح اختتام پر پہنچتی کہ بس بہت ہوگیا امی ہمیشہ اسی طرح کرتی ہیں میرے ساتھ ۔ جس کے بعد وہ گھٹنوں کے بل بیٹھے اس کے بال سہلا تا اور پھر مسکراتے ہوئے پوچھتا ۔ ہاں تو پھر عائزہ اب کرنا کیا ہے ،کیا کہا ہے ایسا ممانی جان نے جو اتنا ناراض ہوگئ ہے ہماری گڑیا ۔جس پر وہ اپنے مخصوص انداز میں ہاتھ ہلاتے ہوئے کہتی ۔۔فاران بھائ بس مجھے نہیں معلوم آپ کچھ بھی کریں امی سے کہیں کہ میں نے میوزیم جانا ہے۔ اگر مجھےمیوزیم نہیں لے کر جائیں گی تو میں بھی انہیں مارکیٹ نہیں جانے دوں گی۔
عائزہ کا بچپن فاران کی نظروں کے سامنے گزرا تھا ۔ وہ اس سے بالکل چھوٹی بہنوں کی طرح محبت کرتا تھا اور آج اسے اس حال میں دیکھ کر وہ اضطرابی کیفیت میں تھا کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس نے لہجے کو نہایت نرم رکھتے ہوۓ عائزہ کو مخاطب کیا ۔
عائزہ ۔۔۔۔وہ ایک دم سے چونک گئی اور نڈھال لہجے میں بولی۔۔ جی میں سن رہی ہوں ۔۔ مجھے بتاؤ یہ سب کیا ہے اس نے سوالیہ لہجے میں پوچھا جس کے بعد عائزہ نے بلا کم و کاست پوری بات فاران کو بتادی۔۔ فاران نے تحمل سے پوری بات سننے کے بعد ایک طویل سانس لی اور کہا ، دیکھو عائزہ اس وقت ماموں جان شدید غصے کے عالم میں ہیں اور اس وقت انہیں سمجھانا بہت بڑی بے وقوفی ہوگی میں تمہیں قطعی یہ نہیں کہہ رہا کہ میں ماموں سے بات نہیں کروں گا مگر ایک صحیح وقت آنے تک ہمیں انتظار کرنا ہوگا مجھے امید ہے کہ تم میری بات سمجھ گئی ہوگی میں آج ہی پاکستان پہنچا ہوں اور یہ ساری صورتحال دیکھ کر بہت حیران ہوں کہ آخر تم جیسی مضبوط اور ذہین لڑکی ایک آوارہ لڑکے کے ٹریپ میں آ کیسے سکتی ہے مجھے تم سے اس بے وقوفی کی ہر گز امید نہیں تھی عائزہ۔ تمہیں کیا ہوگیا تھا بتاؤ مجھے ہاں ۔۔لیکن عائزہ کے پاس خاموشی اور آنسوؤں کے علاوہ کوئ جواب نہیں تھا ۔ اس نے وہاں سے اٹھتے ہوئے عائزہ کو پانی کا گلاس دیتے ہوئے کہا کہ پانی پیو اور آرام کرو ،ان شا ء اللّٰہ کل صبح ہی ہم کاؤنسلر کے پاس چلتے ہیں مجھے تمہاری حالت بالکل ٹھیک نہیں لگ رہی عائزہ نے اس کو ایک بار نظر اٹھا کر دیکھا اور پھر اس کی نظریں زمین کی جانب جھک گئیں۔۔ فاران وہاں سے جا چکا تھا۔
وہ تیز قدموں سے چلتا ہوا ، رانا صاحب کے کمرے کے باہر پہنچ کر دروازے کو دستک دینے لگا اندر سے لاک کھولنے کی آواز سنتے ہی اس نے سکون کا سانس لیا تھا ۔ عالیہ نے اسے اندر آنے کا اشارہ کیا اور وہ اندر چلا آیا ۔رانا صاحب اپنے بستر پر نیم دراز تھے قدموں کی آہٹ سے ان کی آنکھ کھلی ان کے چہرے کے آثار بتارہے رہے تھے کہ ان کا غصہ اب کچھ ماند پڑ چکا ہے فاران نے تمہید باندھنا شروع کی ماموں جان دیکھیں وہ آپ کی بیٹی ہے اور جس عزت اور جس ساکھ کے خراب ہوجانے کا غم آپ کو کھائے جارہا ہے تو اس بات کو فراموش مت کیجیئے کہ عزت اور ذلت اللہ کے اختیار میں ہے ، یہ الیکشن اور یہ تمام تر کامیابیاں جن کے حصول کی کوشش میں بھاگتے بھاگتے آپ نے ساری زندگی گزاردی۔ اب بس کردیں خدارا!
میں مانتا ہوں آپ کے لیئے یہ سب کچھ بہت اہم ہے اور آپ کا فکرمند ہونا بھی جائز ہے لیکن اس وقت آپ کو سوچنے کی ضرورت ہے، آپ کی بیٹی کی پوری زندگی آپ کے سامنے ہے ،اور اس کی زندگی سے زیادہ آپ کے لیئےکچھ بھی اہم نہیں ہونا چاہیے ۔اس وقت عائزہ کی جو حالت میں دیکھ کر آرہا ہوں آپ کو یقین نہیں آئے گا یہ وہ لڑکی تھی جس کو اگر کوئی اس کی مرضی کے خلاف کچھ کہہ دے تو یہ اس فرد کو کہاں تک پہنچا کر آتی تھی ۔ آج جب میں نے اسے اس کی غلطی کا احساس دلانے کی کوشش کی تو اس کی زبان اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی ۔خاموش آنسوؤں کے علاوہ اس کے پاس کچھ نہ تھا ،اسے ڈاکٹر کی ضرورت ہے ورنہ وہ کسی ٹراؤما کا شکار بھی ہوسکتی ہے ۔رانا عبد المجید اور اس کے خبیث بیٹے کو تو ہم دیکھ ہی لیں گے لیکن ابھی انہیں اپنے ذہن سے نکال کر عائزہ کی جانب توجہ دیں اس کے ساتھ ضرور کچھ ایسا ہوا ہے ، جس کا ہمارے علم میں ہونا بہت ضروری ہے ۔ رانا صاحب سب کچھ کرسکتے تھے لیکن فاران کی سمجھداری اور دور اندیشی کو کبھی چیلنج نہیں کرسکتے تھے ،کیونکہ وہ ہمیشہ سے بہت سنجیدہ مزاج کا حامل اور گہری سوچ رکھنے والا شخص تھا ۔ انہوں نے فاران کو ڈاکٹر سعدیہ کا نمبر فارورڈ کیا جو شہر کی ممتاز سائیکاٹرسٹ تھیں ، صبح 9:00 بجے کا اپائنٹمنٹ طے کر کے فاران نے انہیں ایک تسلی بخش مسکراہٹ کے ساتھ شب بخیر کہا اور کمرے سے نکل گیا ۔
" بے شک انسان کا دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہے وہ چاہے تو اسے ہدایت کی جانب موڑدے اور چاہے تو گمراہی کی جانب"
فاطمہ کلینک میں کام کرنے سے بہت خوش تھی ، اسے آج اللہ کی مخلوق کی خدمت کرنے کا ایک اور موقع جو نصیب ہوگیا تھا اور یقیناً بہت خاص ہوتے ہیں وہ دل جو اللہ کی یاد سے دھڑکتے ہیں اور اللہ انہیں اپنی یاد کے لہلہاتے ہوئے پھولوں کی طرح مہکاتا ہے فاطمہ کا دل بھی اللہ نے چنا ہوا تھا ۔ وہ جب کلینک پہنچی اور اندر آکر ڈاکٹر کے برابر میں کرسی کھینچ کر بیٹھنے ہی لگی تھی کہ اس کے پیروں کے نیچے سے گویا زمین نکل گئی تھی اور سر پرآسمان گر گیا ۔وہ اپنے دل کو کس طرح سمجھاے اسے سمجھ نہیں آرہا تھا سامنے عائزہ تھی اور زار و قطار روئے جارہی تھی ، ڈاکٹر سعدیہ اس سے سوالات پوچھنے کی کوشش کررہی تھیں ۔ فاطمہ نے ڈاکٹر سعدیہ سے کان میں کہا کہ زرا باہر آئیں فوری طور پر آپ سے مجھے ضروری بات کرنی ہے ۔ ڈاکٹر سعدیہ فاران سے معذرت کرتے ہوئے باہر آگئیں ،
ڈاکٹر سعدیہ نے حیرانی سے فاطمہ کی جانب دیکھا ان کے تاثرات اس وقت نہایت پریشان کن تھے تم آخر کیسےجانتی ہو اس لڑکی کو فاطمہ ؟ مجھے کچھ تو بتاؤ فاطمہ نے دل میں کہا کہ میں آخر کیسےبتاؤں کہ میرا کس قدر گہرا تعلق ہے اس لڑکی سے پھر اس نے ایک گہری سانس لی اور بس اتنا کہہ کر ٹھہر گئ کہ میری یونیورسٹی میں پڑھتی ہے آپ اسے کچھ بھی کر کے میرے ساتھ بھیج دیں میں آپ کی بے حد مشکور ہوں گی اس وقت مجھے آپ سے یہ مدد درکار ہے پلیز۔
ڈاکٹر سعدیہ نے جواباً اس پر ایک گہری نگاہ ڈالی اور کہنے لگیں کہ ٹھیک ہے انہوں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اٹس اوکے فاطمہ مگر یہ صرف تم ہو جس پر اعتماد کررہی ہوں تمہارا اور میرا تعلق بہت پرانا ہے اگر تمہاری جگہ کوئ اور ہوتا تو میں ہر گز ایسا نا کرتی۔ فاطمہ نے جواباً ایک دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ گہراسکون کا سانس لیا اور کہا کہ مجھے معلوم ہے اور دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا ۔ قدموں کی آہٹ سنتے ہی عائزہ نے بے قراری سے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس کے دل کی دھڑکن مزید تیز ہونے لگی ۔ ڈاکٹر سعدیہ نے فاران سے کہا کہ آپ بالکل پر سکون ہو جائیں میں عائزہ کا کیس مس فاطمہ کو ریفر کررہی ہوں یہ ایک کاؤنسلر ہیں اور اسپرچول وے میں لوگوں کے کیس رسولو کرنے میں مہارت رکھتی ہیں آپ مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے عائزہ کو ان کے ساتھ بھیج دیں یہ ان کا سیشن لیں گی فاران کو چونکہ رانا صاحب کی جانب سے یہ بات واضح طور پر کہی گئی تھی کہ ڈاکٹر سعدیہ کی ہدایات کے مطابق ہی عمل کرنا ہے کیونکہ وہ ان کی فیملی ڈاکٹر تھیں اسی وجہ سے وہ عائزہ کو فاطمہ کے ساتھ بھیجنے پر بمشکل راضی ہوا ، فاطمہ نے عائزہ کو دیکھ کر نرم مسکراہٹ کے ساتھ چلنے کو کہا تو عائزہ نے شرمندگی سے اپنی نظریں جھکا لیں اور کرسی سے اٹھ کر قدم بڑھانے لگی ڈاکٹر سعدیہ نے فاطمہ کو بیسٹ آف لک کہ کر گلے لگایا اور ایک گرم جوش مسکراہٹ کے ساتھ اپنے کاغذ اور قلم کی جانب متوجہ ہوگئیں وہ بھی مسکراتی ہوئی عائزہ کا ہاتھ تھام کر اپنا بیگ اٹھاتی آگے بڑھ گئ
یہ عشق نے دیکھا ہے یا عقل نے پنہان ہے
قطرے میں سمندر ہے
زرے میں بیاباں ہے





































