
عریشہ اقبال
سورج غروب ہونےکو تھا وہ سفید چادر اپنے چہرے کےگرد لپیٹے کھڑی آسمان کو دیکھ رہی تھی اور کتاب سینےسے لگائےکسی گہری سوچ میں
گم تھی۔۔
زندگی کےگزرے لمحات کی کتاب میں موجود ابواب سےاس کی آج پھرملاقات ہوئی ۔ یہ ملاقات اسےحقیقت کے روبرو پیش کررہی تھی ۔ یہ لمحہ اس سفرکےدرمیان آنے والے ہرموڑ کی گواہی تھا جس رخت سفر کو باندھنے کے لیے جو راہ اس نے اختیار کی تھی وہ دراصل ان ہجرت کےراستوں پرچلنے کی روداد تھی،جن راستوں کےذریعے ایک اذیت ناک قید میں مبتلا وجود ،دنیا کے متاع الاغرورہونےکا ثبوت دینے والےاوردل کو پارہ پارہ کردینے والے تلخ رویوں سے لے کر رب کی رحمت کے سائے میں موجود سکینت اور دل کو اس کی یاد کے خوبصورت جہاں سے آباد کرنا ممکن ہوتا ہے اور اس احساس کے ساتھ آخری سانس تک اس حقیقی محبت پر مبنی ہجرت کے وعدے کی ایک بار پھر تجدید کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں شکرکے آنسو رواں تھے اور وہ وہیں کھڑی اس ڈوبتے سورج کودیکھنے کےساتھ اک مدھم سی آوازسے وہ اس کتاب کی جانب متوجہ ہوئی وہ آوازاس قطرے کے ٹپکنے کی تھی جو اس کتاب پرگرا تھا ۔
وہ قطرہ اس کےعہد میں موجود پاکیزگی اوراس کے جذبات کی شفافیت کو ظاہر کرتا کسی موتی کی مانند اس کتاب کی بیرونی جلد پرچمک رہا تھا یہ وہ کتاب تھی جس نے اس مقدس ہجرت میں اس کا ساتھ ایک بہترین دوست کےطور پر نبھایا تھا اوراپنے آنسو صاف کرتے ہوئے وہ دھیمی مسکراہٹ اورنم آنکھوں کےساتھ قرآن کو واپس سینے سے لگائےسجدہ شکربجالانے رب کے حضور پلٹ گئی ۔ ایسی ہوتی ہے ہجرت جو راہ گزر کو پیش آنے والی سختیوں اور دشواریوں سے بے پرواہ کرکےاسے مضبوطی عطا کرتی ہیں اورپھر مسافر اپنی منزل پرنگاہیں مرکوز رکھتے ہوئے اسے پالیتا ہے مگر فرق محض اتنا سا ہےکہ جو گزرتے لمحوں کےفاصلے ہم طے کرتے ہیں کیا وہ ہمیں تاریکیوں سے نکال کر روشنیوں کی جانب ہجرت کا مفہوم سمجھاتے ہیں یا پھراندھیروں میں بھٹکتا چھوڑ دینے کا کام انجام دیتے ہیں ۔
فیصلہ آپ کا اور میرا ہے





































