
نیرنگِ خیال/ عریشہ اقبال
شفاء محض ہراس درد کی تو نہیں ہوتی جودرد ظاہری طور پرنگاہوں کے سامنے ہواور یہ ہراس زخم سے بھی مشروط نہیں جس سے لہو بہتا
نظرآتا ہے۔ شفاء تو اپنے اندراتنا گہرا مفہوم رکھتی ہےکہ اس مفہوم کو سمجھنے والا ہرشخص اس کی طلب میں نکل پڑتا ہےاوریہ طلب کا راستہ انسان کی آنکھ پراس کےباطن کوظاہرکردیتا ہےاورپھروہ اس حقیقت کا آئنہ داربن جاتا ہےجہاں ضمیرپرچڑھے قفل اتاردیےجاتے ہیں، جہاں احساس اور قدر سےخود غرضی کو تبدیل کیا جاتا ہے،
جہاں اخلاص اور محبت کے پھولوں سے دل کی بنجرزمین کو آراستہ کیا جاتا ہےاورجہاں عاجزی و انکساری سے کبروغرور کا بت پاش پاش کیا جاتا ہے ۔
ہاں یہی تو وہ حقیقی شفاء کا مفہوم ہےجو ہمیں اس کے اندر موجود گہرائی کی سیڑھیوں کےذریعے خود شناسی اوراپنے نفس کی اصلاح کی راہوں کا مسافر بناتی ہےاورپھرنتیجتاً قلب ونظرکا زاویہ بدلتا ہے ۔ آنکھوں کے سامنے موجود منظر بھی تبدیل ہوجاتا ہےاورجب یہ منظر تبدیل ہوتا ہےتو پھرہر ان دیکھےزخم مندمل اورہرگمشدہ مرہم کاحصول ممکن ہوتا ہے، یہ شفاءاسی قلب سلیم اورانہیں صفات مؤمنین سےممکن ہوسکتی ہےجب اس کےحصول کی خواہش اوران امراض کی جانب میں اورآپ توجہ کریں گےاورربوبیت کا سچا اقرارکریں گے۔
اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کے لیے حقیقی شفاء اور اپنی رضا کا حصول ممکن کردیں آمین یا رب العالمین۔





































