
حصہ اول
عریشہ اقبال
آرزو اپنےچہرے پر مسکراہٹ سجاۓ کمرے میں کھڑکی کا شیشہ کھولے چاندنی رات کا منظر دیکھ رہی تھی۔ آج کی رات اس کی آنکھوں سے نیند ویسے ہی
کوسوں دور تھی اور کیوں نہ ہوتی صبح اس کی منگنی کا دن تھا ، گزشتہ ڈیڑھ سال سےاس کے دل میں محبت کا ہر احساس حمزہ کے نام سے شروع ہو کر اسی کے نام پر آکر ٹھہر جاتا تھا۔ زندگی کا محور ہی گویا حمزہ کی ذات بن گئی تھی۔ کہاں کونسا حصہ اور کونسی گفتگو اس کے ذکر سے خالی ہوا کرتی تھی ۔دوستوں کی محفل ہو یا خاندان کا کوئی ایونٹ ہر دفعہ موضوع گفتگو حمزہ کی ہی ذات ہوا کرتی تھی ۔
آرزو خواہ کوئی بھی رنگ پہنے یا پھر کھانے میں اسے جس طرح کی چیز بھی پسند ہو حتیٰ کہ اس کے رووم میں موجود فرنیچر کا رنگ کے متعلق بھی یہی بات کی جاتی کہ یقیناً حمزہ نے ہی پسند کیا ہوگا۔ آرزو اب تک وہ لمحہ نہیں بھولی تھی جب پچھلے سال دسمبر کے مہینے میں تایا زاد کزن لائبہ کی شادی پر اس نے جو لہنگا سلوایا تھا۔ وہ بلا کا خوبصورت تھا اور اس کے ہاتھوں میں لگی مہندی کے ساتھ کانوں میں چمکتی ہوئی جھمکیاں اس کی خوبصورتی کو یقیناً چار چاند لگا رہی تھیں ۔ وہ اس شام کمرے میں آئنے کے سامنے کھڑی اپنا لہنگا سنبھالتے ہوۓ اپنی چھوٹی بہن دانیہ کو کہنے لگی ۔۔۔ دانیہ میرے گجرے کہاں ہیں ۔ ان کے بغیر تو میری خوشی اور تیاری دونوں ہی ادھوری ہیں۔ لائبہ آپی کی شادی کا نا جانے کتنا انتظار کیا ہے اور اس انتظار کی گھڑیاں بھی کوئی صدیوں سے کم نہیں لگتی تھیں ۔ وہ کسی گہری سوچ میں گم یہ باتیں دانیہ سے کہہ رہی تھی اور دانیہ کی عمر بھی کوئی اتنی بڑی تو نہ تھی کہ وہ آرزو کی ان باتوں کا مطلب سوچنے یا سمجھنے پر اپنا وقت لگاتی ۔ اسے بھی تیار ہونا تھا اور جاکر تصاویر بنوانی تھیں کیونکہ اس کے خیال میں اگر تیاری میں زیادہ دیر ہوگئی تو چچیاں مامیاں اور خالائیں ۔سب نے فوٹو گرافر کو موقع ہی نہیں دینا کہ وہ ہم بچوں کی بھی الگ سے تصاویر بنالے لہذا وہ آرزو کو اس کے گجرے پکڑا کر ہمیشہ کی طرح اس کو چڑانے والے انداز میں یہ کہہ کر باہر نکل آئی کہ آپی جلدی تیاری مکمل کرلیجیے گا ،ورنہ امی سے خیر نہیں ہوگی۔ کہیں ایسا نہ ہو امی شادی پر لیا جانے والا اپنا اعلی کوالٹی کا جوتا آپ پر ہی آزما کر دیکھ لیں کہ کتنا مضبوط ہے ۔۔۔۔۔۔ آرزو غصیلی نگاہ سے اسے دیکھنے لگی کیونکہ اگر وہ اس کے پیچھے چھترول کرنے کے لیے بھاگتی تو یقیناً اس کی گھنٹوں کے حساب سے خود پر کی گئی محنت ضائع ہو جاتی۔ اسے ابھی صرف ایک ہی چیز کی فکر تھی کہ وہ حمزہ کو کیسی لگے گی ؟ کیا وہ اس پر سے اپنی نگاہیں ہٹا سکے گا یا نہیں لہذا اپنی نازک سی کلائیوں میں گجرے پہنے،اپنا آخری جائزہ لیتی سنبھلتے سنبھلتے سیڑھیاں اترنے لگی ۔۔
سارا گھر لائٹوں سے جگمگارہا تھا اور وہ سیڑھیاں اترتےنیچےآئی ہی تھی کہ تائی جان نےاسےدیکھتےہی اس کی بلائیں لینا شروع کردیں اورپرجوش انداز میں کہنے لگیں ما شا ء اللّٰہ!!! کتنی پیاری لگ رہی ہے میری بچی ۔ میں قربان جاؤں آج تو میں بھابھی سے بات کر ہی لوں گی کہ بس اب میری بچی کو مجھے سونپ دیں ۔ زیادہ انتظار نہیں کرنا ۔ہمیں لائبہ کے فرض سے سبکدوش ہوتے ہی اپنی بیٹی کو گھر لے آؤں گی میں اور حمزہ کا انتظار بھی تو ختم ہوجائے گا ناں آخر میرا بچہ کس قدر محبت کرتا ہے اور کیوں نہ کرے اتنی حسین اور خوبصورت بچی جو ہے ہماری ۔ آرزو نے قدرے شرماتے ہوۓ اپنی نگاہیں تائی جان سے چرائیں اور بھاگتی ہوئی یہ کہہ کر باہر لان میں چلی گئی تائی جان اصل میں لائبہ آپی دلہن بنی ہیں ناں تو میرا انتظار کررہی ہوں گی میں زرا انہیں دیکھ آؤں ،
تائی جان بھی دروازے سے داخل ہوتے مہمانوں کےاستقبال میں مصروف ہوگئیں ابھی آرزوباہر لان میں داخل ہوئی تھی اور اسٹیج پر اس نے قدم رکھے ہی تھے کہ لائبہ نے فوراً اسے مخاطب کرکے تنگ کرنا شروع کردیا ۔ آہا محترمہ آج تو چاند سے بھی زیادہ حسین لگ رہی ہیں کیا خیال ہے ۔اتنی تیاری کر آئی ہو تو اب یہیں دلہن نہ بنادیں تمہیں۔ آرزو نے جواباً کہا لائبہ آپی اب بس بھی کریں آپ سب تو حد ہی کرتے ہیں ۔ ان دونوں کی گفتگو ابھی جاری ہی تھی کہ آرزو کی امی نے آکر کہا جاؤ تمہیں تمہارے ابو بلارہے ہیں۔ ان سے زرا مٹھائیوں کا ٹوکرا تو لے آؤ لائبہ کےسسرال والے بارات لے کر بس آنے ہی والے ہیں اور یہ میز دیکھو سجی ہونے کی بجاۓ خالی رکھی ہوئی ہے، جاؤ جلدی مٹھائی کے ساتھ سارا سامان بھی میز پر لگا آؤ آرزو نے کہا مگر ۔۔۔ امی لائبہ آپی کے ساتھ کون رہے گا وہ اکیلی ہیں تو اسماء بیگم نے یہ کہہ کر آرزو کو روانہ کردیا کہ ابھی میں موجود ہوں اس کے پاس تم جاؤ یہ کام دیکھ کر آؤ پھر لائبہ کے ساتھ تمہیں ہی رہنا ہے ۔ وہ مٹھائی کا ٹوکرا لے کر پلٹی ہی تھی کہ اس کے عقب میں کھڑا حمزہ اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا اور کچھ کہنے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ امی کی زوردار آواز سنائی دی۔ آرزو۔۔۔۔ آرزو کہاں ہو تم ؟ میں نے سامان سجانے کے لیے کہا تھا ناں تم سے حمزہ نے اپنے کھلتے لب دوبارہ بند کرلیے کہ اسماء بیگم اگر کچھ سن لیتیں تو دونوں کی خیر نہیں تھی کیونکہ ابھی باقاعدہ طور پر حمزہ کی والدہ نے آرزو کے لیے رشتہ نہیں مانگا تھا۔ لہٰذا آرزو اپنا لہنگا سنبھالتی اسماء بیگم کی آتی آواز کی جانب بڑھ ہی رہی تھی کہ وہ اندر داخل ہوگئیں اور حمزہ نے آہٹ سنتے ہی خود کو دروازے کی اوٹ میں چھپا لیا ۔
آرزو جی امی کہتے مسکراتے ہوۓ باہر کی جانب چل دی بالآخر رخصتی ہوگئی اور لائبہ کو بھی الوداع کہنے کا لمحہ آ ہی گیا آرزو کی تائی رابعہ بیگم بھی اب خود کو تنہا محسوس کرنے لگی تھیں اور وہ پہلے ہی سے چاہتی تھیں کہ لائبہ جاۓ تو آرزو میرے گھر میری بہو کی صورت میں آجائے اور میں اسے اپنی بیٹی بنا کر رکھوں ،مگر کسے معلوم تھا کہ اگلے لمحوں میں کیا کچھ بیتنے والا ہے۔ رخصتی کی رات ہی ہال میں جانے سے قبل رابعہ بیگم نے اسماء بیگم اور آرزو کے والد سے منگنی طے کرنے سے متعلق بات کرلی تھی اور وہ چاہتی تھیں آئندہ آنے والے ہفتے میں ہی آرزو اور حمزہ کی منگنی ہوجاۓ تاکہ وہ گودھ بھرائی کی رسم بھی کردیں ،اس طرح آرزو کا آنا جانا بھی ہوجاۓ گا اور ان کا خیال تھا کہ حمزہ کی پڑھائی مکمل ہونے میں چونکہ ابھی وقت ہے تو آرزو کا پیر ان کے گھر میں منگنی اور گودھ بھرائی کی رسم سے کھلا ہوجاۓ گا اور اگلے روز ولیمے کے دن آرزو کے والد اوراسماء بیگم نے انہیں رشتے سے کے لیے ہاں میں جواب بھی دے دیا تھا۔
آرزو کو یہ خبر فون پر لائبہ نے سنائی تھی اور اب اگلے ہفتے آرزو کی آنکھوں میں سجے وہ خواب پورے اور اس کے دل میں موجود جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اب سکون میں آجانا تھا مگر حقیقت کا رنگ کچھ اور ہی ہوتا ہے، اگر حقیقی محبت سے دیکھنے والی آنکھ اور دھڑکنے والا دل کسی کے سینے میں ہو تو وہ اس محبت کو کسی قیمتی خزانے کی طرح سنبھال کر رکھتا ہے اور اس کی اہلیت رکھنے والے فرد کے سپرد کرنے کے لیے صحیح وقت کا تعین کرتا ہے مگر آرزو کو اس بیش قیمت خزانے یعنی اس کی محبت اور اس کے جذبات اس کی خواہشات کا صحیح حق معلوم نہ تھا یا شاید اسے لا علم رکھنا اور اس جیسی کئی پھول کی کلیوں کو ان کی قدر و قیمت اور ان کا مول بتانے سے لا پروائی برتنا اس ستم گر ماحول نے اپنا فرض اولین سمجھ لیا ہے ۔ جیسے ماہ کشش سے لے کر دن میں پسندیدگی اور دنوں سے لمحوں میں محبت تبدیل ہو گئی یا یہ کہہ لیجیے کہ تبدیل کردی گئی وہیں منگنی کا دن آگیا اور سارا گھر پھولوں سے مہک رہا تھا ۔ وہ پارلر سے تیار ہوکر حمزہ کی دلہن کے روپ میں خود کو آئنے میں دیکھتی یہی سوچ رہی تھی کہ میں اور میرا وجود اب حمزہ کے ہی نام ہے ۔
سلور رنگ کے کامدار جوڑے اور پرپل رنگ کا ویلویٹ کا نازک سی نلکیوں سے جڑا ہوا سر پر سجاۓ ماتھے کے ایک جانب ٹیکا لگاۓ وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی اور یقیناً خاندان میں آرزو سے زیادہ خوبصورت لڑکی کوئی تھی بھی نہیں تبھی تو حمزہ کے لیے اس کی تائی رابعہ بیگم نے اسے چنا تھا کہ ایسی من موہنی صورت والی لڑکی تو میرے بیٹے ہی کی دلہن بننی چاہیے۔وہ اپنی آنکھوں میں ساری زندگی کے لمحوں کو حمزہ کے ساتھ ایک تصویر کی صورت میں قید کرچکی تھی اور اس محور سے باہر آنا اب اس کے لیے گھٹن کا باعث تھا ،وہ اپنا عکس آئنے میں دیکھ رہی تھی کہ دانیہ نے دروازہ کھول کر اس سے کہا آرزو آپی لائبہ آپی آرہی ہیں ۔ آپ کو لے جانے، آپ تیار ہیں ناں۔
فوٹوگرافر نیچے انتظار کررہا ہے ۔آرزو نے دانیہ سے کہا ہاں میں تیار ہوں۔ ان سے کہو آجائیں۔ دانیہ بھاگتی دوڑتی لائبہ کو بلا لائی اور پھر کیا تھا ظالم سماج جو آج تک اپنی بیٹیوں کے ساتھ اور ان کی پاکیزہ زندگی کا آغاز ہونے سے پہلے ہی ان کے ایمان کو چھین لینے کا جو کردار ادا کرتی آیا ہے اسی کردار کی ادائیگی کا آغاز ہوچکا تھا ۔ گزشتہ ڈیڑھ سال سے حمزہ سے متعلق آرزو کے دل میں محبت کے جذبات بھڑکانے اور اس کی نگاہ کو فریب میں مبتلا کرنے کا کام آرزو کا پورا خاندان اور اس کی دوستیں کرتی آئی تھیں ۔۔۔ لائبہ اسے سیڑھیوں سے نیچے لاتے ہوۓ کہہ رہی تھی آج تو میرا بھائی اپنے ہوش ہی گنوا بیٹھے گا ۔ لگتا ہے اس قدر حسین لگ رہی ہو تم کہ میں کیا بتاؤں اف کیا حال ہوگا حمزہ کا ۔۔۔۔ آرزو شرماتی ہوئی اس کے ساتھ چلتی چلی گئی وہ اسٹیج پر پہنچے تو تائی جان رابعہ بلائیں لینے کے لیے منتظر کھڑی تھیں، آرزو نے سیڑھیوں پر قدم رکھا ہی تھا۔





































