
عریشہ اقبال
حصہ دوم
آرزو نے سیڑھیوں پر قدم رکھا ہی تھا کہ رابعہ بیگم نےحمزہ کو مخاطب کیا،آؤ بھئی حمزہ ہاتھ پکڑو آرزو کا اب کیا میری بہو سےایسا برتاؤ کرو گے۔۔۔
حمزہ یہی سوچ رہا تھا کہ میرے لیے آرزو کسی سونے کی چڑیا سے کم نہیں۔ اتنی خوبصورت اور دل ربا سی منگیتر اگر ہر کسی کو تھوڑی ہی ملتی ہے، اب مجھے مل گئی ہے تو خوب ناز اٹھواؤں گا۔ ہمارے یہاں تو ویسے بھی منگنی پر محرم ہی سمجھ لیا جاتا ہے۔ بھلا بیوی بنا کر اس کی ذمہ داری اٹھانے کی مجھے کیا ضرورت ، اس نے سوچتے ہوئے رابعہ بیگم کے کہنے پر فورا آرزو کا ہاتھ تھاما اور اسے اپنے قریب اسٹیج پر بٹھالیا ۔ سب بہت خوش اور مطمئن نظر آرہے تھے گویا حمزہ اور آرزو اب ایک دوسرے کے لیے حلال ہوگئے ہوں ۔ وہ خواہ اس کا ہاتھ پکڑ کر انگھوٹی پہناۓ یا چمچ سے اسے کیک کھلائے کسی کو کوئی اعتراض نہیں تھا ۔ سب نے اپنی نگاہ سے اسے محرم ہی تو دیکھا تھا۔
زوردار آواز میں گانے لگاۓ گئے تھے۔ واقعی یہ کسی مسلمان کے شایان شان تو نہیں تھا ، خیر وہیں دور بیٹھی آرزو کی پھپو زاد کزن جو خود ایک نوجوان لڑکی تھی اور مکمل پردے میں تھی ، ان کا انداز ان کی پر وقار سی شخصیت ہونے کا پتہ دے رہا تھا ،وہ یہ سب دیکھ کر اپنے دل میں پاکیزہ زندگی سے متعلق بہت سے سوالات کررہی تھیں کہ کیا واقعی یہ محبت ہے؟
کیا یہ سب محبت کے شایان شان ہے؟اگر ہاں توخدیجہ رضی سے آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا معاملہ تھا ؟
کہ انہوں نے محبت کی تو پاکیزہ زندگی کی شرط پر کی اپنےجذبات کا اظہار اس کی اصل قدرو قیمت کےمطابق کیا مگر یہ سب یہاں کیا ہورہا ہے۔انہوں نے خود کو سمجھاتے ہوئےیہ عہد کیا کہ وہ آرزو کو ضرور سمجھائیں گی کہ یہ محبت نہیں ہے۔وہ تمہارا محرم نہیں ،اس کو تمہاری قربت کا حق حاصل نہیں ہوا ہے ۔ کچھ ہی دیر میں منگنی کا اختتام ہوا اور سب خوشی کے فریب میں مبتلا اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔
آئندہ ایک سے ڈیڑھ ہفتے تک مستقل بنیادپر حمزہ کا آرزو کو باہر لے جانےکا سلسلہ چلتارہا،کبھی کسی کافی کے بہانے
کبھی شاپنگ اور کبھی پکنک پر فیملی فرینڈز کےساتھ جانے پر اسرار اورآرزو تو اپنی زندگی کا سارا حق اسے دے چکی تھی اس مستقل بنیاد پر جاری رہنے والے حرام سلسلے کے دوران نمل آرزو کی پھپو زاد کزن کو اس سے بات کرنے کا موقع ہی نہ مل سکا کیونکہ وہ شہر سے باہر اسلام آباد میں موجود یونیورسٹی کےاندر اپنی تعلیم مکمل کررہی تھیں اوروہیں ہاسٹل میں رہتی تھیں خیر جس دن صبح فارم ہاؤس سے آرزو کی واپسی ہوئی اور وہ دروازے سے داخل ہورہی تھی کہ نمل وہیں چاۓ کا کپ ہاتھ میں لیے کھڑی تھی ۔ آرزو اس سے گرم جوشی سے ملی اور کہا نمل میں زرا چینج کرکے فریش ہو آؤں پھر بات کرتی ہوں نمل کو تو سنہرا موقع مل گیا تھا۔ سو وہ وہیں آرزو کا انتظار کرنے لگی ۔ اب اس کے جانے کے دن بھی قریب تھے ،لہذا وہ چاہتی تھی کہ آرزو کی نگاہوں کا منظر تبدیل کرتی ہوئی جاۓ تاکہ اس سمیت دنیا میں موجود ہر لڑکی کو اپنے پاس محفوظ خزانے اور قیمتی متاع کو سنبھالنے کا شعور آجاۓ۔ آرزو فریش ہوکر نیچے اتر کر آئی ہی تھی کہ اسماء بیگم نے رو رو کر گھر سر پر اٹھا کر رکھا تھا۔آرزو اور نمل بھاگتی ہوئی آئیں اور دانیہ کو آواز لگا کر کہا کہ جاؤ پانی لے کر آؤ امی کےلیے آرزو نے دانیہ سےلےکر اسماء بیگم کو پانی پلایا اور خاموش کروانے ان کے پاس بیٹھ گئی۔ نمل بھی سرہانے بیٹھ کر ان سے دریافت کرنے لگی کہ آخر ماجرا کیا ہے۔آپ کیوں رو رہی ہیں تو اسماء بیگم نے رندھی ہوئی آواز میں کہا نمل نمل۔۔۔ میری آرزو ۔۔۔۔ میری بچی کی زندگی برباد ہوگئی حمزہ نے کہیں اور اپنی یونیورسٹی کی کسی لڑکی سے شادی کرلی ہے۔ یہ جملہ سننا تھا کہ آرزو کے پیروں تلے زمین نکل گئی اور اسے محسوس ہورہا تھا آسمان اس پر ٹوٹ پڑا ہے۔ اس نے تو اپنی زندگی کی ہر سانس حمزہ کے نام کردی تھی۔ وہ تو اپنے جذبات اور اپنے دل میں موجود ہر احساس اس کے سپرد کرچکی تھی اور یہ اس کی زندگی میں کیا ہوگیا۔ یہ کیسا طوفان تھا جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا اس کے سارے خواب چکنا چور ہوچکے تھے اور آنسو اس کی آنکھوں سے بہے چلے جارہے تھے نمل نے اسماء بیگم کو تسلی دی اور پانی پلا کر خاموش کروایا
اس کے بعد انتہائی نرمی سے آرزو کا ہاتھ تھاما اورکہا آرزوجانتی ہومحبت کیا ہے؟ تم نے محبت کااعتبار ہی نہیں کیا کیونکہ تم نے کبھی جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ یہ جو ہمارے دل میں پنپتا پیار کا احساس ہے ،یہ بہت خالص ہوتا ہے اور یہ دل ہمارے رب کا گھر ہوتا ہے ۔ یہاں کی کنجیاں حوالے کرنے کا اختیار صرف اسی کو ہے جو رب کی حدود کو پہچان کر پاکیزگی کو اپناتے ہوئے اس دل کی اور اس میں موجود محبت کی کنجیاں اپنی حوالگی میں لے لے۔ اس وقت تک یہ احساسات اس معتبر شخص کی امانت ہوتے ہیں ، یہ تو کسی عطرکی خوشبو کی طرح ہوتے ہیں جو اگر بوتل میں محفوظ نہ کی گئی ہو تو ضائع ہوجائے گی ۔ اسی طرح اپنے دل کو بھی اور اپنی نگاہوں کو بھی صرف اپنے محرم کی امانت سمجھ کر سنبھالنا ہوتا ہے اورسب سے بڑھ کر اس قیمتی خرانے کا جو حق ہے ،وہ اس کی تخلیق کرنے والے کا ہے یعنی تمہارے اور میرے رب کا ۔ ہم سمجھ بیٹھتے ہیں کہ چند لمحوں کی کشش اور اس کی خوبصورتی دائمی ہے اور ہمیشہ کا حاصل ہے جبکہ اصل محبت تو رب کی محبت ہے جو حیا یعنی حفاظت سکھاتی ہے ۔ اپنے جذبات اور اپنے احساسات کی قدر کرواتی ہے اور اصل قدردان تو تمہارا اور میرا رب ہے ناں !۔۔
اس نے آرزو کا چہرہ نرمی سےاپنی جانب کرتے ہوۓ سمجھانے والے اندازمیں کہا
آرزو ڈئیر تمہیں معلوم ہے کہ اس روز جب حمزہ تمہارا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر انگوٹھی پہنا رہا تھا اورپھر فوٹوگرافر جب تم دونوں کے پوز بنوا رہا تھا اور کسی کو اس بات سے کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا تھا، وہیں اس لمحے مجھ پر کیا گزری تھی میں لرز گئی تھی ۔
"سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی آدمی کے سر میں لوہے کی سوئی ٹھونس دی جائے، یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ غیر محرم عورت کو چھوئے، جو اس کے لیے حلال نہیں ۔“
یہ غیر شرعی تعلق محبت کی دلیل اور جیسے پاکیزہ جذبے کی قدر نہیں ۔میری گڑیا چلو اٹھو اللہ تعالیٰ سے جاکر معافی مانگو اس کے غضب سے زیادہ اس کی رحمت بڑی ہے ۔ وہ تمہیں تھام لے گا بشرطیکہ سچائی سے اپنی غلطی کا اعتراف کرو اور دوبارہ نہ دہراؤ ۔سمجھیں اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے وہ مسکرارہی تھی۔۔۔۔
آرزو کے دل پر سے بوجھ اترتا گیا اور نمل کا ایک ایک لفظ گویا اس کی روح میں اترتا چلا گیا۔ اسےمحسوس ہورہا تھا کہ کسی نے اس کی نگاہوں کے سامنے موجود طلسم توڑ دیا ہےاور اس کی نگاہ اب اصل بصارت سے آشنا ہوئی ہے ۔اس نے اپنے آنسو پوچھتے ہوئے نمل کے گلے لگ کر سچا اقرار محبت کیا اور اپنی غلطی پر نادم ہوکر اعتراف کیا کہ وہ اور اس سوسائٹی میں رائج یہ جاہلانہ تصورات انسان سے اس کی انسانیت اور مومن سے اس کا ایمان چھین لیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم اصل محبت سے نا آشنا رہتے ہیں اور ہماری نگاہ میں وہ ہمارا نا محرم ہو کر بھی محرم بن جاتا ہے۔ ساتھ ہی شیطانیت کے مکروہ چہرے پر خوشنما خول چڑھا کر ہمارا حفاظتی حصار یعنی ہماری حیا چھین لیتا ہے اور وہ اس راز کو سمجھنے سے قاصر سے ہوجاتا ہے کہ میری نگاہ میں میرا محرم تو ہوسکتا ہے مگر حقیقت میں نکاح سے ایک سیکنڈ پہلے تک وہ میرے لیے نامحرم ہی ہوتا ہے۔





































