
عریشہ اقبال
وہ درخت جو کسی کے تھکن سے چور ہوتے ہوئے وجود کو سایہ فراہم کرے اور تپتی دھوپ میں ایک سائبان کی طرح کسی کا سہارا بن جائے
وہ ہر اس احساس کی قبولیت محسوس ہوتا ہے جو ایک مؤمن کےدل میں دھڑکتی ہوئی رب کی محبت کا ثبوت اوراس کی روح میں سرائیت کرجانےوالی خدا سےوفاکی گواہی کا درجہ رکھتاہےمگریہ مقام جو حب الہٰی سےسرشار کرتے ہوئے ایک روح کو پاکیزگی سےآشنا کراتا اور رب کی قربت کا حق بتاتا ہے۔
اس مقام تک پہنچنے کے لیےاذن الہٰی کادروازہ تب جاکرکھلتاہےجب اخلاص نیت اورعمل صالح کےذریعے فتنوں کی دیوارکوگرانےکی قوت اپنے اندر پیدا کی جائے اور فکر آخرت کو خواہشات نفس کےخلاف ایک مضبوط ہتھیار کےطورپراستعمال کیاجائےمگر جس طرح سونے کو کندن بنانے کے لیے آگ میں تپانے کی ضرورت ہوتی ہے،بالکل اسی طرح ایک مؤمن کو ایمان کی تکمیل کے لیے آزمائش کی بھٹی میں جل کر عزیمت کا راہی بننا ہوتا ہے اور یہ عزیمت کے راہی سفرمیں پیش آنے والی دشواریوں اور دامن سے ٹکرانے والے کانٹوں سے خود کو اپنے رب کے حوالے کر دیتے ہیں، ساتھ ہی اپنے ارادوں کوتزکیہء نفس کےذریعےنہ صرف مضبوطی فراہم کرتے ہیں بلکہ ابلییسی شکنجوں سے چھڑانے کے لیے اپنے وجود کو رب کی امانت سمجھ کر زندگی کو بندگی میں تبدیل کرتے ہوئے جنتوں کی بشارت کے حقدار ٹھہرتے ہیں۔ جب میں مصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کرنے والی ان خصوصیات سے متعلق سوچنے لگی تو دل ایک لمحے کے لیے گویا دھڑکنا بھول گیا اور افکار کی گہرائی نے سچے گواہ کا کردار ادا کیا کیونکہ میرےتصور کی آنکھ نےاس سیرت فولاد کا مجسم دیکھا، وہ عدل و انصاف کا مثالی نمونہ جس نے نظام عدالت کی بنیاد صدق و راستی کے اصول پر رکھی، تصویر کا منظر تو دیکھیے ایک یہودی اس مرد مجاہد کے خلاف مقدمہ درج کراتا ہے اور وہ قاضی کے سامنے خلیفہء وقت کے طورپر نہیں بلکہ عام شہری کےطور پر پیش ہوتے ہیں، دیکھنے والے کیا دیکھتے ہیں اور سننے والے کیا سنتے ہیں آئیے جانتے ہیں۔
قاضی خلیفہء ثانی کو دیکھ کر احتراماً یا امیر المومنین کہہ کر مخاطب کرتا ہے اور وہ سراپاراستی جواباً کیاکہتے ہیں۔"یہ پہلا ظلم تم نےکیا کہ میرے اور مدعی کے درمیان فرق کیا! "
آئیے ایک اور تصویر کا رخ دیکھتے ہیں
خشیتِ الہی کا عالم یہ ہے کہ نیم شب میں آنکھیں آنسو بہاتی ہیں۔ رعیت پر اپنےحق سےمتعلق خوف اورخداکےحضوراحساسِ جوابدہی کا عالم یہ کہ راتوں کوامت کی خبر گیری کرتے اورتواورمسلسل خود احتسابی کےترازو میں اپنی ذات کو تولتے رہتے ،اس کے بعد بھی یہ حال ہے کہ بیان کرنے والےگواہی بیان کرتےہیں کہ ایک بار آپ نے فرمایا۔۔
" اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو عمر سے اس کا حساب لیا جائے گا ۔"
عالم اسلام کی عظیم الشان فتوحات کا دروازہ اس مرد مؤمن کے دور خلافت میں کھلا عراق سے لے کر شام، مصر سے لے کر ایران اور سرزمینِ انبیاء جیسی سرزمینیں اسلامی سلطنت کا حصہ بنیں اور ان فتوحات کے دور میں حضرت عمر مسلسل جنگ و جدل کے مراحل میں شجاعت و بہادری کے ساتھ پیش پیش رہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی کو اگر بندگی کا سلیقہ سکھانے کی کتاب سے تعبیر کیا جائے تو ہر گز غلط نہ ہوگاکیونکہ انہوں نے حقوق العباد کے تقاضوں اور حقوق اللہ کی بنیادوں پر نہ صرف اپنی ذات بلکہ معاشرے کی تعمیر کو بھی کامیابی کے ساتھ عملی تصویر کے طور پر پیش کیا ہے۔
اگر آج حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنایا جاۓ تو وہ فتنوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں روشن مینارہ بن سکتی ہے اور اندھیری شب میں قندیل رہبانی کا کردار ادا کرسکتی ہے جس سے ابلیسیت کا خاتمہ ممکن اور شر پسند عناصر کو شکست ہونا یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان کے ہمارے لیے چھوڑے جانے والی نقوش سفر کو اپنا زاد راہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین۔





































