
لبنیٰ مزمل
ظہیر کی واپسی دس بجے ہوئی تھی اور یہ وقت میں نے اپنے رب سے دعاؤں میں گزارا تھا ۔ ظہیر کو کھانا دینے کے بعد میں ان کے چہرے پر کچھ کھوج
نے لگی ، انہوں نے مجھے دیکھا اورمسکرا دیئے۔ سمیرا یہ گھر گھراچھا لگا ہے، مجھے تم کل تیار رہنا مغرب کے بعد چلیں گے دیکھنے ۔
سچ میری خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ نہ تھا کیوں کہ تقریباً ایک سال ہو چکا تھا ہم اپنے لیے گھر ڈھونڈ رہے تھے لیکن دن رات کی محنت کے باوجود کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا تھا ،کہیں پانی کے مسائل تھےتو کہیں قیمتیں بہت زیادہ ۔ بہر حال میں اپنی آ نکھوں میں اپنے گھر کے خواب سجائے سونے کے لیے لیٹ گئی ۔ رات کوخوابو ں میں بھی میں اپنے گھر کوسجا رہی تھی اور سے سنوار رہی تھی فجر کی اذان کے ساتھ ہی میری صبح ہو جاتی ہےاورپھر پورا دن انتہائی مصروفیت میں گزرتا ہے ظہیر کے آ نے سے پہلے ہی میں چائے اور اس کے لوازمات کے ساتھ جانے کے لیے تیار تھی مغرب کی نماز کی ادائیگی کے بعد ہم جانے کے لئے تیارتھے۔
بچے بھی بضد تھے جانے کے لیے لہذٰا ہم سب مطلوبہ علاقے پہنچے گلی کافی لمبی تھی اور مطلوبہ مکان تقریباً درمیان میں تھا مکان سب ہی کو پسندآیا قیمت بھی مناسب تھی اور باقی تمام سہولیات بھی موجود تھیں مکان سےنکلتے ہی میری سامنے والے گھر پر نظر پڑی جو کہ انتہائی خستہ حالت میں تھا بند دروازوے کی جھریوں سےجھلکتی روشنی سےظاہر ہو رہا تھا کہ گھر میں زندگی کےآ ثارموجود ہیں ، سنیے اس گھر کی وجہ سے تو ہمارے گھر کی لک خراب ہورہی ہے، میں نے ظہیر کے کان میں سرگوشی کی اور ظہیر ہممممممم کہ کر خاموش ہو گئے۔ رقم کی ادائیگی اور ضروری کارروائیوں کے بعد مکان کے کاغذات ہمارے ہاتھ میں تھے۔ سامان کی منتقلی کا مرحلہ بھی اپنے اختتام کو پہنچا گھرکی سیٹینگ بھی کافی حد تک ہوچکی تھی گھر کے کاموں سے فارغ ہونے کے بعد میں کبھی کبھی کھڑکی کاپردہ سرکا کرگلی کا نظارہ کرتی تو سامنے اسی گھر پر نظر پڑتی چھوٹے چھوٹے بچے کھیلتے ہوئےنظر آتے گھر کے باہر موجود نل سے خواتین اور بچے پانی کے کین بھرتے نظرآتے
اس بارے میں ظہیر سے پوچھنے پر پتہ چلا کہ اس علاقے کی پیچھے کی گلیوں میں پانی نہیں آ تایا بہت کم آتا ہے،اس لیے عابد صاحب نے فی سبیل اللّٰہ بورنگ کروا کر پانی کا انتظام کیا ہے اوراس مہنگائی کے دور میں اپنی پانی کی موٹرچلا کر لوگوں کی ضرورت پوری کرتےہیں۔ مجھے تو یقین ہی نہ آ یا اور میں نے ظہیرسے کہ بھی دیا کہ پانی بیچتے ہوں گے۔
ظہیرنے دلوں کا حال اللّٰہ بہتر جانتا ہےکہ کربات ہی ختم کر دی ۔ ایک چیز میں نے اور نوٹ کی کہ اگر کوئی سائل دروازے پرآ تاتو خالی ہاتھ واپس نہ جاتا یہ چیزیں مجھے پریشان کرتیں مگرپھرمیں خود ہی اپنے دل کو دکھاوا کہ کر تسلی دے لیتی۔
رمضان کی آمد تھی اس لیے رمضان کے حوالے سےدرس قرآن کا پروگرام بنایا
محلے میں دعوت دینے نکلی تو اس گھر کو نظر انداز کر کےآ گے بڑھنے لگی تو فریحہ نےمجھے ٹوکا۔امی اس گھر میں بھی چلیں نا دعوت دینےچھوڑوبیٹااتنے گندے سے تو لگتے ہیں یہ کہاں آ ئیں گے درس میں ۔۔
مگر امی ہمارا تو محلہ ہےدعوت تو دینی چاہیے۔فریحہ کی بات پرمیں جھنجھلا گئی تھی۔اچھا چلو دستک دو دروازے پراور زرا کم بولا کرو میں نے زرا غصےسے فریحہ کو مخاطب کر کے کہا۔ دستک دینے پر ایک خاتون نے پردہ سرکا کر باہر جھانکا۔میں نے سلام کیا اور اپنا تعارف کروایا۔ میں سامنے والے گھرسے آ ئی ہوں ۔ آئیے اندرآ ئیے۔۔۔ نہیں نہیں بس میں آ پ کو دعوت دینے آئی تھی درس قرآن کی آپ آیئے گا کہ کیوں نہیں میں سلام کر کے آ گے بڑھ گئی ۔
درس قرآن کا دن اور وقت بھی آپہنچا مدرسہ وقت پرموجود مگرمحلے سے ابھی تک کوئی بھی نہیں آیا۔ تھا مجھے بہت دکھ ہورہا تھا میں نے اہتمامِ بھی اچھا خاصا کیا تھا۔ دروازے پر دستک ہوئی فریحہ نے دروازہ کھو لا تو سامنے والی خاتون تھیں میرے چہرے پرکچھ ناگواری کے تاثرات ابھرے چہرے پرزبردستی کی مسکراہٹ سجا کرمیں نے انہیں کمرے تک پہنچایا ۔ وقت کافی گزر چکا تھا میں نےمدرسہ سے درس قرآن شروع کرنے کے لئے کہااسی دوران محلے سے دس بارہ سال کی دو بچیاں اور تین خواتین آچکی تھیں، درس بہت اچھا ہوا تھا مدرسہ نے میرے گھر دورہ قرآن کے اہتمام کا بھی اعلان کیا۔
پہلے روزے والےدن ٹھیک دس بجے وہی خاتون میرے دروازے پرتھیں میں نےانہیں کمرے میں بٹھایا اورمدرسہ کا نمبر ملانےلگی دو تین مرتبہ کوشش کرنے کے باوجود رابطہ نہ ہو سکا۔ میں نے ان خاتون کو بتایا۔
تو کہنے لگیں جب مدررسہ آجائیں تو آپ میرے دروازے پردستک کروا دیجیے گا۔ میں آجاؤں گی۔میں نے اثبات میں سر ہلا دیا دوسرے دن دس بجے پھر وہ میرے دروازے پر تھیں میں نے انہیں کمرے میں بٹھایا اور مدرسہ کو فون ملایا رابطے پر پتہ چلا کہ مدررسہ کے بیٹے کی طبیعت ناسازہےجس کی وجہ سے دورہ قرآن کا ہونا مشکل ہے۔ میں نے جب اس بات سے ان خاتون کو مطلع کیا تومجھے ایسا محسوس ہوا کہ اچانک ان کے چہرے کی روشنی ماند پڑ گئی ہویا ان سے کوئی قیمتی چیز چھین لی گئی ہو میں حیران ہو رہی تھی اوروہ اپنے دل کا حال اپنے لفظوں میں بیان کر رہیں تھیں کہ سارا دن گھر ہی گھر میں گزرجاتا ہے۔
رب سے تعلق توبس واجبی ساہے اورعبادتیں بھی ٹوٹی پھوٹی سی، میں نے سوچا تھا کہ بس یہ ایک ڈیڑھ گھنٹہ صرف اپنے رب کے لیے دوں تا کہ میں بھی سمجھ سکوں کہ اس کتاب میں میرا رب مجھ سے کیا کہ رہا ہے اور پھر میں اپنے بچوں کو بھی سمجھاؤں گی اورقرآن کے مطابق ان کی تربیت کرنے کی کوشش کروں گی۔ میری تو نظریں نہیں اٹھ رہی تھیں، ان کے الفاظ مجھے شرمندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں لیے جا رہےتھے میں اپنی بد گمانیوں پراپنے آ پ کو ان خاتون کےسامنے نہایت پستہ قد محسوس کر رہی تھی۔





































