
لبنیٰ مزمل انصاری
فرزانہ چہرے پر مسکان لیے گھر میں داخل ہوئی۔وانیہ نے دیکھا اوربولی۔مما اہل محلہ کو دعوتیں دے دیں ؟ ہاں بیٹا کہہ آئی ہوں سب سے ۔بڑی ہی
توجہ سے بات سنی سب نےمگر تمہاری چچی ۔!اتنے سوال جواب مت پوچھو۔ بھابھی کیوں ٹائم ضائع کر تی ہیں اپنا ۔یہ سیاست عورتوں کے لئے نہیں ہے ۔نہیں معلوم کوئی دہشت گرد ہو وہاں ۔کوئی بم پھٹ جانے ،وغیرہ وغیرہ۔
میں نے بھی بیٹا ہار نہیں مانی۔میری مستقل تکرار ایک ہی بات پر رہی ۔صفیہ تم ایک مرتبہ چل کر دیکھو ۔صرف ایک مرتبہ چل کر دیکھو ۔ایک مرتبہ ۔۔ آخر کار تمہاری چچی نے ہامی بھر ہی لی ۔۔
یہ تو گڈ ہو گیا مما ۔وانیہ خوشی سے جھوم اٹھی ۔ہاں بیٹا بس اللہ ہدایت دے اسے۔بہت زیادہ دنیاداری میں گم ہے ۔ ریلی سے واپسی پر فرزانہ کو صفیہ کچھ خاموش سی لگی ۔مگر فرزانہ نے فی الحال پوچھنا مناسب نہیں سمجھا ۔۔
ہڑتال کی کال پر فرزانہ پھر صفیہ کے دروازے پر کھڑی تھی ۔ صفیہ نہایت گرم جو شی سےملی فرزانہ صفیہ سےبولی۔صفیہ 26 اپریل کو حماس کی اپیل پر پوری دنیا میں ہڑتال ہے ۔میں اسی سلسلے میں آ ئی ہوں ۔۔
ہاں ہاں بھابھی مجھے معلوم ہےاورمیں نے جاوید سے کہہ بھی دیا ہے۔26 اپریل کو اسٹور مکمل بند ہوگا اورکہیں مظاہرہ ہو تو بتا دیجیےگا۔جاوید بھی جائیں گے اور اسد بھی۔ارے ہاں بھا بھی میں نے مکمل بائیکاٹ بھی کر دیا ہے ۔ریلی میں حافظ صاحب نے کہاتھا نا کہ اسرائیلی مصنوعات کا بایکاکرنا ہے ۔گھر میں بھی اور اسٹور میں بھی اسرائیلی مصنوعات الگ کر کے ان کی خرید وفروخت پر پابندی لگا دی ہے ۔۔ٹھیک کیا نا بھابھی ؟۔
ارے ہاں صفیہ میری بہن بہت اچھا کیا ۔ یہ ہی تو ہے ہمارے بس میں ۔جو ہم ان مظلوموں کے لیے کر سکتے ہیں۔فرزانہ نے آ گے بڑھ کر صفیہ کو گلے لگا لیا۔





































