
سلمیٰ نور
دھیمی دھیمی سی دل کو فرحت بخشتی ہوا اور چہار سو خاموشی کا راج۔
شاید ہی کوئی جاگ رہا ہو۔ آسمان ہے۔۔۔۔۔ آسمان کی بلندیاں ہیں ۔۔۔۔اور یہ چمکتے ہوئے خاموش ستارے ۔۔۔۔
اس خاموشی کی بھی اپنی ہی ایک زبان ہے، الفاظ ہیں اور آواز بھی جو شاید ہر کسی کو سنائی نہیں دیتی۔ خاموشی کے پردے میں لپٹی یہ آوازیں زندگی کی حقیقت ہیں جن میں ہمیشہ ہمارے لیے رہنمائی ہوتی ہے۔ سوچ رہی ہوں ۔۔۔۔ سناٹے میں ابھرتی ہوئی آواز تو دور تک سنائی دیتی ہے، پھر ہم کیوں نہیں سنتے؟ ہمیں اپنے رب کی پکار۔۔۔۔ ساتویں آسمان پر آ کر پکارے جانے والی آواز سنائی کیوں نہیں دیتی؟ ہم کیوں غفلت کی نیند سوۓ رہتے ہیں؟
اور وہ بھی ایسے خوبصورت وقت میں ۔۔۔ جب خالق کائنات خود آسمان دنیا پر آ کر پکارتا ہے
”ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟
ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا کہ میں اسے عطا کر دوں؟
ہے کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا کہ میں اس کو بخش دوں؟" (متفق علیہ)یہ رہنمائی پیارے نبی صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمائی ہے کہ ہمارا برکت والا اور اعلىٰ وبرتر رب ہررات کے آخری ایک تہائی حصے میں آسمان دنیا پر اترتا ہےاور اپنے بندوں کو دعا کرنے کی ترغیب دیتا ہے کیوں کہ وہ دعا کرنے والے کی دعا سننا چاہتا ہے۔ وہ ان کو اس سے اپنی مرادیں مانگنے پر ابھارتا ہےکیوں کہ وہ مانگنے والوں کی خالی جھولیاں بھر دینا چاہتا ہے۔ وہ ان کو اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرنے پرآمادہ کرتا ہے، کیوں کہ وہ اپنے مؤمن بندوں کو بخشنا دینا چاہتا ہے۔
ہم کیوں دیر کر رہےہیں اس کے سامنے جھکنے میں؟ اس کی پکارپرلبیک کہنے میں؟ اگراِس وقت ہم بیدار ہو جائیں تو یقینا اوج ثریا کی بلندیاں ہمارا مقدر ہوں۔ ہمارا نصیب بھی چمکے ہماری قسمت بھی بیدار ہو ہم بھی فلاح کی راہ پائیں۔ رات کے ان خاموش لمحوں میں اپنے رب کو منا لیں۔ وہ تو کہتا ہے
”میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں اورجب وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور جب وہ مجھے مجلس میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اس سے بہتر فرشتوں کی مجلس میں اسے یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے ایک بالشت قریب آتا ہے تو میں اس سے ایک ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے ایک ہاتھ قریب آتا ہے تو میں اس سے دو ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آ جاتا ہوں۔“ ( متفق علیہ)





































