
نزہت عثمان/ لاہور
طلع البدر علینا
کیا بہترین چاند ہم پر طلوع ہوا ہے
ازل سےآج تک دنیا میں کوئی بشر ایسا پیدانہیں ہواجن کے چہرے کے پرنورحسن کے نہ صرف انسان دیوانےہوں بلکہ جانور تک رک رک کے دیکھتے ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی بہن آپ کوبکریاں چراتے وقت ساتھ لے کر وادی میں جاتی ہیں توواپس آکر اپنی والدہ سے کیا بہترین تذکرہ کرتی ہیں کہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ ہوتے ہیں تو بکریاں گھاس چرنے کے بعد خودہی آکر جمع ہو جاتی ہیں اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقدس کی طرف محبت سے دیکھنے لگ جاتی ہیں۔
حضرت کعب بن مالک کہتے ہیں،جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم حوش ہوتے تو چہرہ دمک اٹھتا گویا چاند کا اک ٹکڑا ہو ، ان کا حسن عالم ماہتاب ، وہ اللّٰہ کے حبیب جن کے نام کا چاند ابتدائےآفرینش سے آسمان دنیا پرچمک رہا ہے ، اس کے باوجود محبت کی ایسی کوئی مثال نہیں ملتی ۔ آج تک کوئی بشر کوئی نبی ایسا پیدا ہواہو جو اپنے سے بعد میں آنے والےامت کے لئے بھی تڑپ تڑپ کردعائیں مانگتا ہو۔ کیا دنیا میں کوئی ہستی ایسی ہے جو اپنی امت سے محبت کی انتہا کر دے ۔ راتوں کوسب دنیادن بھرکی تھکی نیند کوعافیت سمجھتےہوئے بستروں میں دبکی پڑی ہواورایسے وقت میں حبیب خداسرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم, جو دن بھر تبلیغ دین کے فرائض سرانجام دیتے ہیں ۔ رات بھرکھڑے ،بیٹھے لیٹے ہر حال اپنے پالن ہارکی محبت کے پودے کو بہترین عمل سے سینچ رہے ہوں اوراپنی امت کے غم میں سرتا پا آنسوؤں میں ڈوبے ہوئے ہوں آہ و زاری ، نالہ نیم شب میں مصروف ہوں کس کی خاطر، خوش بختی دیکھئے آپ کی اور میری حاطر۔
آہ ہم کس قدرخوش قسمت ہیں ،ہم اس نبی کی امتی ہیں جو ہمیں اپنی دعاؤں کے سائےمیں چھوڑ کرگئے ہیں، ہم تو قرض دارہ یں ان کی بے لوث اورپاکیزہ محبت کی فکر تھی تو بس امت کی نماز کی،امت کی آخرت کی ،کیا خوب راضی کیا۔ رب کریم نے کہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بروز قیامت شفاعت کا حق دیا۔ کفار کے ستانے پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل کوثرعطا کیا گیا ۔
کیا حوب عطا ہے، رب کریم کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سےمحبت ہمیں روز قیامت ان کے ساتھ لا کھڑا کرے گی۔ اس وقت ہمارے فحر اور حوشی کا کیا عالم ہوگااور صحابہ کرام بے انتہا خوش ہوا کرتےتھے،اس بات پر قیامت کے دن وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی وجہ سے ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ ایک شحص نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ قیامت کب قائم ہو گی ؟اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کی ہے؟۔
اس نے کہا" کچھ بھی نہیں سوائے اس کےکہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں ۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تمہارا حشربھی ان ہی کے ساتھ ہوگاجن سےتمہیں محبت ہے،حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں کبھی اتنی خوشی کسی بات سے نہیں ہوئی جتنی اپ کی یہ حدیث سن کر ہوئی کہ تمہارا حشر ان ہی کےساتھ ہوگاجن سے تمہیں محبت ہے۔
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے محبت رکھتا ہوں اوران سے اپنی اس محبت کی وجہ سے امید رکھتا ہوں کہ میراحشر ان ہی کےساتھ ہوگااگرچہ میں ان جیسے عمل نہ کر سکا، صحیح البخاری 3688 صحیح مسلم 2639۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی میں آئیں تو قرآن کہتا ہے کہ" بے شک آپ اخلاق کے اعلیٰ مرتبے پرہیں "کہ ادھر قریش کے بدبخت سرداررحمت اللعالمین کےقتل کی ناپاک سازشیں کررہےہیں،جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جبرائیل امین کے ذریعےاطلاع ملتی ہےاورہجرت کا حکم ہوتا ہےتوعلی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کو اپنے بسترپر سلا دیتے ہیں اورکہتے ہیں کہ صبح سب کی امانتیں واپس کردیں ( واللہ قریش آپ کی جان کے درپے ہیں اورآپ کو ان کی ان کی امانتوں کی حفاظت کا خیال ہےاور جب صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی معیت میں کوچ کا حکم دیا تو فرط جذبات سےان کی آنکھیں بھیگ گئیں کہ وہ کتنےدنوں سےاس وقت کے انتظار میں تھےاور جب وہاں سے الوداع ہوتے ہیں تو پیچھے مڑکردیکھتے ہیں اورکہتے ہیں مکہ تومجھے سب شہروں میں زیادہ عزیزہےمگرتیرے رہنے والے ظالم ہیں۔ آہ اس وقت ان دل پرکیا بیتی ہو گی مگراللہ کےہرحکم پربلا چوں چراں لبیک کہنے والی ہستی تھی وہ ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہی اعلیٰ اورقابل اتباع و قابل تقلید ہے۔ ایک بہترین شوہر،ایک بہترین جج، ایک بہترین استاد،ایک بہترین سپہ سالار ایک بہترین رفیق اور ساتھی ،ہر لحاظ سے اخلاق کی اعلی مثال ہے۔
فاین تذھبون
پھر تم کہاں بھٹکے چلے جا رہے ہو۔
وما علینا الاالبلاغ۔





































