
نزہت عثمان/ لاہور
سیاسیات میں پڑھا تھاکہ!"ریاست ماں جیسی ہوتی ہے"
یہ بات روز روشن کی طرح سچ ہیکہ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے جس کی گود میں لاکھوں کروڑوں لوگ پلتے بڑھتے ہیں اور دفن بھی اسی کی گود میں ہوتے ہیں،
مگر کسی آنکھ نے دیکھا نہیں کسی کان نے سنا نہیں روز اول سے کسی غیرت مند باپ نے اپنی عیاشیوں کے لئے اپنی عزت مآب بیٹیاں بیچ دی ہوں، اور فحر سے اپنی کتابوں میں اس شرمناک عمل کا اقرار کیا ہو،
اسلام آباد کے امریکی سفارتخانہ میں ایک مچھر بھی مر جائے تو پورے ملک میں بھگڈرمچا دی جائے مگرناکردہ گناہ کی پاداش میں جبر مسلسل اور قید تنہائی کاٹتی امت کی بیٹی ، فولاد کی مانند عزم و ہمت رکھنے والی ، اور چٹان جیسا بلند حوصلے کی مالک عافیہ صدیقی ماہر علم الاعصاب یعنی نیورو سائنسز بھی ہیں ،
جب 20 سال کے طویل عرصے بعد فوزیہ صدیقی کو ملنے کی اجازت دی گئی ، تو درمیان کئی شیشےاورتاروں کی کئی رکاوٹیں تھی۔ کیونکہ امریکی بزدلوں کو بیس سال سے اذیت ناک اور کرب ناک حالات سے گزرتی، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتی دھان پان سے وجود سے آج بھی کئی حطرات لاحق تھے۔وقت کہاں تھمتا ہے ، وقت کہاں کسی کا انتظار کرتا ہے ،ان گزرے ماہ وسال میں عافیہ صدیقی کی والدہ بیٹی کا سینے سے لگائے حالق حقیقی سے جا ملیں ، بیٹی ڈاکٹربن گئی اور بیٹا جو چھ ماہ میں ان سےالگ ہوا تھا، اب نوجوان ہےمگر ان کی تصویریں تک دکھانے کی اجازت نہیں دی گئی کہ برسوں سے بچھڑی ماں ایک نظر اپنے بچوں کی تصویریں ہی دیکھ لیتی۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی جس نے
جانے کس جرم کی سزا پائی یاد نہیں
اس معصوم عورت سےانتقام کی آگ سرد پڑنے کو تیار ہی نہیں۔ انہیں سر میں چوٹ لگنےسےقوت سماعت متاثر ہو گئی جنہیں روز بہانوں بہانوں سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ ان پر سنگین الزام یہ ہے کہ عافیہ نے امریکی گیڈروں پراٹھائی ہے۔ بالفرض بندوق اٹھائی بھی ہے تو ان کی ایک انگلی تک زحمی نہیں ہوئی مگر یہ جرم سب سے بڑا جرم تھا ، یا شاید ڈاکٹر عافیہ پر لگانے کے لیے کوئی بھونڈا سا جرم تلاش کرنا تھا جو انہیں مل چکااور اس جرم کو بنیاد بنا کر انہیں اپنے بنائے ہوئے جہنم میں ڈال دیا ،جہاں ڈالے جانے کا مستحق شاید دنیا کا سب سے بڑا مجرم بھی نہ ہوتا ۔ انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں نے بغیر گواہوں اور شواہد کے ڈاکٹر عافیہ پر خود سیاختہ الزامات کی یلغار کر کے بین الاقوامی ہی نہیں انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی کی ہے اور اب گوانتا نامو بے میں کئی قیدیوں کو رہائی مل چکی ہے اور عافیہ صدیقی کے خلاف کیس تو بہت کمزور ہے،اس کے باوجود آخر کون سی بات ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہا کرنےسےروکےہوئےہے،یا ان کا کیس مچھرجیسا کمزور ہو کر بھی ہاتھی جیسا طاقتور ہوگیا ہے ، آخر اس نہتی مظلوم عورت سے کون سے ناقابل خدشات ہیں ، کہ ان کی رہائی تادم مرگ ممکن نہیں ۔





































