
نزہت عثمان / لاہور
ایک مجاہد کی للکارہےکہ کیا تمہیں یاد ہیکہ تم اس زمین پرخلافت کا تاج لے کر آئے تھے؟،شرافت کا معیار لے کرآئے تھے ؟ تم اس زمین پر
حکمران بنا کر اتارے گئے تھے ، تم اس زمین پر محافظ بنا کر اتارے گئے تھے،تم روزی کے لیےبھیک مانگنے والےنہیں تھےتم تو روزی بانٹنے والےتھے۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر آہ کہاں سنائی دیتی ہےکسی مجاہد کی للکار، کہاں سنائی دیتی ہے اسرائیل کےطنزیہ قہقہےجووہ ہم مسلمانوں پہ لگاتا ہے، کہاں سنائی دیتی ہیں دہشت وبربریت میں لمحوں کوصدیوں کی طرح کاٹنے والوں کی آسمان ہلا دینےوالی چینخیں ،کیا ہم ان کے صبرکا بوجھ سہارسکیں گے۔
آرام دہ اور گرم بستروں پرسونےوالوں کو کیا خبرکہ ننھی جانوں کا، ٹھٹھرتی راتوں میں ،برف جیسے سرد پڑتے پتھروں پرسونا کس قدر اذیت ناک ہوتا ہوگا۔
زخموں سے چوربدن گھسیٹ کرہسپتال پہنچتےہوئےوہ کتنی بارمرتے ہوں گے،کتنےہی راستوں میں دم توڑدیتےہوں گے، زندگی کی ٹمٹماتی ہوئی شمع لیےصبح وشام گزارتے ہوں گے۔بھوک اس قدربے قرارکرتی ہوگی کہ سامنے پڑی پیاروں کی لاشیں بھی دھندلی نظرآتی ہوں گی۔ اذیت ،کرب ،دکھ ، ہرلفظ ہی اپنی انتہا کوپہنچاہواہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگرسالوں بعد ایک ایسےمنظر نامےکامجھے سامناکرنا پڑے کہ لوگ مجھ سےپوچھیں کہ میں نےاس وقت کیا کیا۔
پھراس وقت یہ جواب دینا ممکن نہیں کہ میں خاموش رہا ،سوال یہ ہےکہ ان عرب اورمسلم ممالک کےرہنماؤں نےکیا کیا، تاریخ ان کے بارے میں کیا کہےگی۔ کیا مورخ سرخ بین کرتےلفظوں سے لکھے گا کہ اکثرمسلم ممالک اپنےعمل سےاوراپنے کردار سےاسرائیل کے حمایتی بن کرکھڑے تھے ۔؟
فلسطینی شیخ علامہ تقی الدین النبھانی نےکیا خوب کہا تھا کہ اسرائیل عرب حکومتوں کاسایہ ہےجب کوئی چیز غائب ہو جائے تو اس کا سایہ بھی غائب ہوجاتا ہے۔
ملت اسلامیہ کے غدار، مغربی ایجنٹ اورصیہونی حکمران ،صرف اسلام اور مسلمانوں کے خلاف لڑنے کےلئےاکٹھے ہو سکتے ہیں ۔
ایسےوقت جب اپنوں کی اکثریت غداری پہ اترآئی ہے،چند ایک غیرہی سہارادینے نکلے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔۔آئرلینڈ میں ایک پورا شہرغزہ کاحمایتی ہےگھروں ، لباس ، موبائل ہر جگہ فلسطینی رومال ، فلسطینی پرچم،فلسطینی مزاخمت کے نشانات اورنعرے ہرجگہ نظر آتے ہیں ۔
یورپی ملک آئرلینڈ فلسطین کا مضبوط ترین حمایتی کیوں ہے؟ آئرلینڈ نے ماضی میں برطانوی قبضے کو برداشت کیا تھا اور لارڈ بالفورجس نےاسرائیل سے فلسطین کی سرزمین کا وعدہ کیا تھا۔ آئر لینڈ کی آزادی کا ایک بڑا مخالف تھا اورآج آئر لینڈ فلسطینیوں کے حقوق کے مضبوط حامیوں میں سےایک ہے۔
شمالی آئرلینڈ کے دارالحکومت بیلفاسٹ کی سڑک ،سب سےمشہورِاورسیاحوں سے بھرپورسڑکوں میں سے ایک ہےجسےان کےفنکاروں کی طرف سے تیار کردہ شاندارپینٹنگز سے سجایا گیا ہےجنہوں نے اپنے فن اوربیداری کے ذریعے فلسطینیوں سے اظہار یک جہتی کیا، پینٹنگزبنائی ہیں۔
ایک بہادرعورت اورغزہ کے بارے میں طاقتورآواز ہسپانوی وزیر برائےسماجی حقوق لون پیلیراکی ہےجس نے فلسطین پہ ٹوٹنے والی بربریت کے خلاف فلسطینیوں کی ترجمانی ان الفاظ میں کی ہیکہ ،
اسرائیل نےہسپتال کے اندر خیموں میں رہنے والے درجنوں بےگھر فلسطینیوں کو زندہ جلا دیا۔ یہ نازی ازم سےمختلف کیسے ہے ۔؟
کیلمارنوک کے ساتھ میچ میں سکاٹش سیلٹک ٹیم کے شائقین نے نعروں اور بینرز کے ذریعےاحتجاج کیا کہ
بالفور سے اسٹامر تک، سلطنت برطانیہ کے جرائم جاری ہیں
برطانیہ غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسے وقت میں جب اپنوں کی مضبوط آواز ،مضبوط عمل اوریہود سے پائیدار معاشی مقاطعہ (بائیکاٹ) کی ضروت ہے، سوشل میڈیا پر کیمپئن چلانے کی ضرورت ہے۔ جانے سب مسلمان کہاں سو چکے ہیں کہ جنہیں فلسطین سے آتی ہوئی بلند و بانگ صدائیں بھی نہیں جگا سکتیں ۔
مجاہدین وہ چند لوگ ہیں جوآج بھی فلسطین کی آزادی کے لیےتن تنہا لڑ رہے ہیں ، مجاہدین کی جانب سے 400 دن گزرنے کے باوجود مزاحمت بہرحال جاری ہے۔مارٹر گولوں اور 107 راکٹوں کے ساتھ" نیٹزارم "محور میں دشمن کے مراکز پربمباری کی اوراس کے علاوہ بھی مزاحمت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔
اللھم انصر المجاہدین فی فلسطین
اے اللہ فلسطین میں مجاہدین کی مدد فرما
اللھم اھزمھم و زلزلھم الیہود
اے اللہ اہل یہود کو شکست دے اور انہیں ہلا دے
وانصرھم بجنود الملائکہ
اے اللہ فرشتوں سے ان کی مدد فرما
اللھم انصرھم کنصر یوم بدر
اے اللہ بدر والے دن جیسی ان کی مدد فرما
اللھم انصرھم واحفظھم
اے اللہ ان کی مدد فرما اور ان کی حفاظت فرما





































