
نزہت عثمان / لاہور
مفکراسلام سیدابوالاعلیٰ مودودی انٹرنیشنل کانفرنس اچھرہ میں مودودی تحریک کےعلمبرداروں کی جانب سے صبح میں
خواتین اورشام کو مرد حضرات کے لئے نشست کا اہتمام کیا گیا۔
پروگرام کاباقاعدہ آغازتلاوت کلام پاک سےہواجس کےبعد نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کی گئی۔
"اللّٰہ کی نظر میں پسندیدہ مردوعورت " کےموضوع پرسورہ احزاب کی روشنی میں شازیہ عبد القادرنےمدلل گفتگوکی جس کے اہم نکات یہ ہیں ۔ حدیث شریف کےمطابق بہترین عورتیں حضرت خدیجہ (رض)،حضرت فاطمہ (رض) اورحضرت مریم علیہ،حضرت آسیہ علیہ ہیں،صحابیات ترقی یافتہ خواتین کی انمول مثال ہیں۔ بہترین مرد اوربہترین عورت وہ ہیں جواپنی خواہشات اوراغراض ومقاصد کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کے مطابق رکھیں ۔
نشست میں چارمقالہ جات پیش کیےگئےجن کامختصرجائزہ اوراہم نکات پیش کیےگئے۔اس کےبعدباری تھی ہمارے قیمتی اثاثہ حمیرامودودی صاحبہ کی تقریرکی جس کہ چیدہ چیدہ نکات یہ ہیں۔
اللّٰہ رب العزت ان گھروں کوبلند کرتا ہےجواللّٰہ کی یاد میں رہتےہیں،جسے اللّٰہ چاہتا ہے اپنی یاد کی توفیق عطا کرتا ہے،جنت میں جنتی رب کی نعمتوں کو دیکھ کر اللّٰہ کی دی ہوئی نیکیوں کی توفیق پرشکر گزارہوں گے اللہ آزمائش اور تکالیف پرصبر کے نیتیجے میں اتنی ہی نعمیتیں عطا کریں گے ۔۔
حدیث قدسی
"جو میری طرف چل کرآئے گا میں اس کی طرف دوڑ کر آؤں گا "
پھر باری آتی ہے محترمہ ثمینہ سعید صاحبہ کی انہوں نے کہا کہ خواتین کی گود سےانقلاب جنم لیتا ہے۔مولانا مودودی اسلام کے منفرد استاد ہیں۔ انہوں نے دین کو دنیا کہ تقاضوں سےقریب ترہو کرپیش کیا،اقامت دین کی تحریک کےروح رواں مولانا مودودی،
عورت اورحسب استطاعت معاشرے کی اصلاح ،عورت معمار ہے نسلوں کی جو آنے والا کل تیار کرتی ہے،مولانا مودودی نےدیگر علماء سے الگ نظریہ پیش کیا۔عورتیں خدیجتہ الکبری کے نقش قدم پر چلیں ،دین کے راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کریں ۔
مولانا مودودی کا قول ہے کہ
عورتوں کے بگڑنے سے نسلوں کی ذہنی حالت مصموم ہو جاتی ہے،عورت تہذیب وتمدن پر اثرات ڈالتی ہے۔آخرمیں ڈاکٹر حمیرا طارق صاحبہ نے کہا کہ مولانا اس صدی کے انسانوں کے لئے محسن آعظم ہیں،انہوں نے دین اسلام کے مسخ شدہ تصور کا احیاء کی۔مولانا کا قول ہےکہ تربیت خانقاہوں اور تربیت گاہوں میں نہیں ہوتی بلکہ میدانوں میں ہوتی ہے۔سوئمنگ پول سے باہر رہ کر سوئمنگ نہیں ہوتی۔
صحیح مسلم کی حدیث کا مفہوم ہے کہ
ام عطیہ نے سات غزوات میں باقاعدہ جنگ کی ۔بعض صحابیات جو باقاعدہ جنگ میں حصہ لیتی تھیں اورمال غنیمت بھی لیتی تھیں۔ جنگ میں حصہ لینے والی عورتوں میں حصوصا تزکرہ ہے ام سلیم اور حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا۔
مولانا کے مطابق عورت حسب ضرورت ہتھیار اٹھا سکتی ہے ۔ہماری بچیوں کورائیڈنگ ، سوئمنگ ، سیلف ڈیفنس کی تربیت ہونی چاہیے، ہم اقامت دین کی ذمہ داریوں سے غفلت برت کر اللّٰہ کی رضا کو نہیں پہنچ سکتے،
جماعت اسلامی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی نہیں ،ایک تحریک ہےجوجذبوں سے چلتی ہے۔
ہمارے زوال کا اصل سبب انفرادی تقوی ہے، دین کے غلبے کے لئے اجتماعی تقوی کو اہمیت دینی ہو گی۔ یوں حمیرا طارق صاحبہ کا لیکچر اپنےاحترام کوپہنچا اورایک بہترین علمی وادبی نشست تقسیم اسناد کے بعد اپنے اختتام کو پہنچی۔





































