
ام ربیعہ/شائستہ سلیم
ساری عمر شوہر دبئی میں رہے،برینڈڈ اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی چیزیں استعمال کیں،میک اپ شیمپو کریمیں، جیولری کپڑے ،پرس ٹوتھ پیسٹ، لوشن حد تو یہ تھی شوہر
سگریٹ تک یہاں سے نہ لیتے۔ ایک واحد چیز جو یہاں سے لیتی تھی وہ جوتے تھےجو کسی برینڈ کے ہی لیتی ملکی چیزوں کو ہمیشہ حقارت کی نظر سے دیکھا ۔کوالٹی پر کمپرومائز کبھی نہیں کیا ،سرف صابن بھی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے استعمال کئے،مگر غزہ کے مظلوم عوام پر ظلم نے سوچ بدل دی ۔ اپنے بچوں کو اپنا ہم خیال بنایا اور ان تمام کمپنیوں کا بائیکاٹ کردیا اور گھر سے ہر وہ چیز نکالنے کی کوشش شروع کردی جو کسی ایسی کمپنی کی تھی ۔وہ ظالم کا ساتھ دے رہے تھی۔ وہ کہتے ہیں ہم کسی کی عینک سے دیکھتے ہیں وہی دکھائی دیتا ہے جو وہ دیکھانا چاہتا ہے۔
جی بالکل جب غیر ملکی عینک اتری تو اپنا ملک نظر آنا شروع ہوا اور اس کی چیزیں بھی تلاش کرناشروع کر دی اپنےملک کم قیمت اورمعیاری اشیاء کی۔ وہ کیا کہتے ہیں ڈھونڈنے سے خدا بھی مل جاتا ہے اور مجھے بھی میری مطلوبہ چیزیں ملنا شروع ہوگئیں دھوکا بھی کھایا مگر ہمت نہ ہاری پاکستانی اشیاء استعمال کیں تو دل نے کہا اتنا بھی برا نہیں ہمارا ملک۔
آج میں فخر سے کہہ سکتی ہوں میرے گھر میں اب تمام اشیاءپاکستانی برانڈ کی استعمال ہورہی ہیں کچھ کی قیمت آپ کو زیادہ ضرور لگےگی مگرمعیار بھی اچھا ہوگا ۔
اٹھارہ اورانیس جنوری کو جماعت اسلامی کےمرکزی امیرحافظ نعیم الرحمن صاحب ایکسپو سینٹرمیں میرابرانڈ پاکستان کی اوپننگ کی جو مستحسن قدم ہے ۔لوگوں نے بڑی تعداد میں اس نمائش میں شرکت کی اور اس کو سپورٹ کیا یہ خوش آئند بات ہے ،امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا تھا کہ اس نمائش سے حاصل تمام آمدنی اہل فلسطین پرخرچ کی جائے گی ۔اپنی پراڈکٹ کو اپنائیےاوراپنے ملک کی معیشت کو مضبوط کیجئے،نہ کےمسلمانوں کے دشمن اسرائیل کی ۔ہم نےعہد کرلیا ہےکہ اپنی مصنوعات کوفروغ دیں گے،آپ بھی یہ عہد کیجئے ۔
زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی




































