
ماہنور شاہد
پھول چاہے کتنے ہی حسین ، قیمتی ، عزیز اور من پسند کیوں نہ ہوں وہ مرجھا جاتے ہیں۔وہ اپنی خوبصورتی ورعنائی کھو دیتے ہیں ۔ان کی خوشبو وقت کے ساتھ ساتھ ختم
ہونے لگتی ہے ۔
آپ انہیں اپنی من پسند حالت میں ہمیشہ کے لیے نہیں رکھ سکتے۔
اسی طرح کا معاملہ ہماری زندگیوں کا بھی ہے ۔۔۔
کیسے ؟؟؟
کیا ہماری زندگیاں بھی کتنی ہی حسین،خوبصورت ،قیمتی ،من پسند اورعزیز ہونے کے باوجود اپنی خوبصورتی وقت کےساتھ کھونے نہیں لگتیں ؟
کیا وہ روز بروز اختتام کی جانب نہیں بڑھ رہیں ؟
کیا ہر گزرتے دن کے ساتھ ہم موت کے قریب نہیں ہو رہے؟
آپ اپنی زندگی ہمیشہ اپنی من پسند حالت میں نہیں گزار سکتے۔ آپ کو اختتام پذیر ہونا ہی ہےبلکل پھولوں کی طرح ۔
کیا ہماری حالت پھولوں سےمختلف ہے ؟؟
نہیں ہم اور پھول بالکل ایک جیسے ہوتے ہیں ۔
ہم نے روز بروز اختتام کی جانب بڑھنا تو ہے لیکن جب ہم اپنے جڑ اور اصل سےجدا ہوجاتے ہیں تو بہت جلد انجام کو پہنچ جاتے ہیں اور جب ہم اپنی اصل سےجدا ہو جاتے ہیں تو پھولوں کی طرح دنیا ہمیں اپنے حساب سے استعمال کرتی ہی ۔پھول ہمیں زینت اور خوشبو دیتے ہیں ہم ان کے محتاج ہیں وہ ہمارے نہیں ۔اسی طرح ہم اپنی زندگیوں کو خوشبو دار خود بناتے ہیں نا صرف اپنی بلکہ دوسروں کی بھی ۔کیا ہماری زندگیاں اور پھول ایک جیسے نہیں ؟؟؟………




































