
لبنیٰ مزمل
جنگ بندی کے بعدسب ہی اپنےآشیانوں کی جانب گامزن تھے۔ان ہی پریشان حال لوگوں میں طاہرہ بھی شامل تھی۔اسرائیلی بمباری میں وہ بھی اپنا
شوہراور ایک بیٹی رب کے حوالے کرچکی تھی۔شوہر کی شہادت کے بعد چند ماہ خیموں میں زندگی گزارکر۔اب نئے حوصلے اور ہمت کے ساتھ اپنے گھر جانے کی خوشی سے لبریز دل لیےسرور کی سی کیفیت میں خراماں خراماں چلی جا رہی تھی ۔
آ ٹھ سالہ فاطمہ اوردس سالہ بلال ارد گرد کی تباہی دیکھ کرحیران تھے جبکہ طاہرہ اطراف میں پھیلی ابتری کے باوجود دور بہت دورخیالوں میں گم تھی ۔
یوسف گھر بنواتے ہوئے تھوڑا سا حصہ کچا ضرور رکھنا۔میں وہاں باغیچہ بناؤں گی ۔موسمی پھل اور سبزیاں لگاؤں گی اورپھولوں کے پودے لگاؤں گی۔ہمارے بچے بھی باغیچے میں کھیلا کریں گے ۔اچھا اچھا ٹھیک ہے ۔یوسف نے ہنستے ہوئے کہا ۔
یوسف باورچی خانہ بڑا بنوانا ۔عورت کی آ دھی زندگی تو باورچی خانےمیں گزر جاتی ہے ۔اس لیے باورچی خانےکوبہت اچھا ہونا چاہیے ۔ ہاں ہاں کیوں نہیں یوسف نے تائید میں سر ہلایا اور بولا ۔جب تمہارا باورچی خانہ اچھا ہوگا تو تم کھانے بھی مزے مزے کے بناؤ گی۔ٹھیک کہا نہ میں نے ۔طاہرہ یوسف کی بات سن کر کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
فاطمہ نے طاہرہ کا بازو ہلا کراپنی جانب متوجہ کیا۔طاہرہ یادوں سے حقیقی دنیا میں لوٹ آئی اور بولی جی بیٹا ۔
مما ہمارا گھر آ گیا ۔طاہرہ نے دائیں جانب دیکھا۔اسے بھی اپنے آ شیا نے کے آ ثار دکھائی دیئے ۔
طاہرہ فاطمہ اور بلال کے ساتھ گھر کے ملبے پر آ کر کھڑی ہو ئی اور اطراف کا جائزہ لینے لگی۔مما میرا تکیہ نہیں مل رہااور گڑیا بھی نہیں مل رہی ،مما میرا بیگ کہاں ہے ؟
مما ہم یہاں کیسے رہیں گے ؟بلال نے ایک اور سوال کیا ۔طاہرہ بچوں کے سوال سن رہی تھی اورسوچ رہی تھی کہ اسے اپنے بچوں کو مطمئن کر نا ہے۔اگر آ ج اس نے کم ہمتی دکھائی تو اس کے بچے کل کس طرح یہود کامقابلہ کر یں گے۔
طاہرہ نے فاطمہ اور بلال کو اپنے قریب کر لیا اور بولی بیٹا یہ ہمارا گھر ہے اور تم دونوں ایک بہادر یوسف شہید کےبچے ہو ۔ آ پ دونوں کو بھی مجاہد بننا ہے ۔قبلہ اول کو یہود کے پنجوں سے آ زاد کروانا ہے۔اس لیے یہ سوچنا کہ ہم کیسے رہیں گے ۔کیا کھائیں گے ۔کہاں سوئیں گے ۔تمہیں زیب نہیں دیتا ۔تمہارے یہ ہاتھ بظاہر چھوٹے چھوٹے ہیں.مگر یہ مستقبل کے یحییٰ سنوار کے ہاتھ ہیں۔ ابو عبیدہ کے ہاتھ ہیں۔ان ہاتھوں کو بہت بڑے بڑے کام کرنے ہیں۔چلو شاباش اب ہم اس ملبے کو ہٹا کر چادریں تان کر اپنا گھر بنائیں گے ۔اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کریں گے کیونکہ ہمارا گھر تو ہمارے رب نے جنت میں موتیوں سے بنایا ہے جہاں تمہارے بابا ہمارے منتظر ہیں ۔




































