
انیلا عمران/ لاہور
واقعہ معراج انسانی تاریخ کا وہ حیرت انگیزواقعہ جس نے پوری انسانیت کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔اس نےایک طرف تو انسان کو ٹائم ٹریول
سے روشناس کروایا اور دوسری طرف اسے نبی مہربان کی زندگی کا ایک معجزہ بنا کر قیامت تک کے لیے محفوظ کر دیا ۔
نبیوں کی زندگی میں پیش آنے والے واقعات ، معجزات بے مقصد نہیں ہوتے اور ان میں انسانیت کے لیے بہت سے اسباق پوشیدہ ہوتے ہیں ۔یہ معجزات حسی بھی ہوتے ہیں اور مافوق الفطرت بھی اور نبیوں کے علم الیقین کو عین الیقین اور حق الیقین تک پہنچانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ یہ معجزات اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہوتی ہیں۔ اللہ اور نبیوں کے تعلق کا واضح ثبوت ہوتے ہیں۔
جتنے بھی نبیوں کو معجزات ملے ان کا تعلق اس مادی دنیا اور اس کے معاملات کے ساتھ تھا لیکن نبی اخر الزماں کو ملنے والا معجزہ بھی ان کی ذات کی طرح منفرد تھا ۔زمان و مقام کی قید سے آزاد تھا جو اس عالم اسباب سے نکل کر عالم بالا میں رونما ہوا اللہ نے اپنے محبوب کی خاطر زمان و مقام کے فاصلے مٹا دیے اور براہ راست مشاہدہ کروا کر حق الیقین عطا کیا ۔
حرا کی تنہائیوں سے شروع ہونے والایہ سفر المنتہی کی بلندیوں پرمنتج ہوا۔آپ نے یہ روحانی سفر اپنےمادی وجود کے ساتھ کیا اور اپنے حواس کے ساتھ اسے محسوس کیا ،واقعہ معراج اپنے اندر بہت سے اسباق چھپائے ہوئے ہے ۔ایک طرف تو یہ نبی پاک کا ایک بہت بڑا اعزاز اور معجزہ ہے تو دوسری طرف یہ پستی سے بلندی تک کی کہانی ہے۔
مکی زندگی کی طویل ناکامیوں اور طائف کی وادی میں اپنا سب کچھ لٹانے کے بعد جب آپ تہی دامن ہو گئے اور تمام دنیاوی وسائل اور اسباب اختیار کرنے کے باوجود کامیاب نہ ہو پائے تو پھر اللہ نے اپ کو معراج کی وہ سعادت نصیب کی جو کسی انسان کے حصے میں نہ آئی انسانوں نے جب آپ کے مقام اور مرتبے کی قدر نہ کی تو اللہ تعالی نے آپ کو انبیاء کی امامت کا اعزاز نصیب کیا، یعنی اللہ کی خاطر خود کو مٹانے والے کو ہی اللہ سرداری نصیب کرتا ہے ۔عاجزی سے جھکے ہوئے سر کو سرفرازی عطا کرتا ہے اور جو اللہ کی بندگی میں اپنا سب کچھ لٹا دے تو اللہ بدلے میں اسے اپنا قرب عطا کرتا ہے ۔تمام فاصلے مٹا دیتا ہے اور فرش سے عرش معلیٰ تک لے جاتا ہے کائنات کے تمام راز اس پر کھول دیتا ہے۔ وقت کی رفتار روک دیتا ہے ۔فاصلے سمیٹ دیتا ہے اور اپنے لامحدود امکان سے وہ عطا کرتا ہے جو انسانی امکان سے بالاتر ہوتا ہے۔
یہی وہ سبق ہے جو واقعہ معراج میں پوشیدہ ہے کہ خدا کی خاطر خود کو مٹانے والے امر ہو جاتے ہیں خدا کی خاطر کھونے والے ہی پاتے ہیں ۔خدا کی خاطر مرنے والے ہی ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اور اپنی ذات کی نفی کرنے والے ہی رب کی ہستی کو پہچان پاتے ہیں۔




































