
کنزا خالد
میرے سامنے آئینہ ہے۔ جی ہاں وہی آئینہ جو مجھے میرا عکس دکھاتا ہے۔ آئینہ شیشے کی ایک قسم ہے اور مختلف مراحل سے گزر کر بنتا ہے۔
ریت اور سوڈے(سوڈیم یا پوٹاشیم کاربونیٹ) کےآمیزے میں ان بجھا چونا (کیلشیم کاربونیٹ یا لائم) ملا کربنانے کا طریقہ سب سے زیادہ عام ہے۔
آئینے کی تاریخ بھی بہت پرانی ہے اور یہ قدیم زمانوں سےاستعمال ہو رہا ہے۔ یہ بہت سے غلط کاموں میں بھی استعمال ہوتا رہا ہے جیسے جادو ٹونا وغیرہ۔ ابھی بھی کچھ لوگ اسے توہم پرستی کے تحت اچھے شگون یا برے شگون کی علامت سمجھتے ہیں۔
کچھ لوگ آئینے کو دیکھ کر خود سے باتیں بھی کرتےہیں جوسائیکالوجی میں تندرست ذہن کی علامت ہے۔ یہ سرگرمی انسان کو خود سےملاقات کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے اور خودشناسی میں مددگار ثابت ہوتی ہے جوایک تندرست ذہن کے لیے ضروری ہے۔
آئینہ دیکھ کر تسلی ہوئی
ہم کو اس گھر میں جانتا ہےکوئی
اگر میں اپنی بات کروں تو میں آئینہ محض خودکو دیکھنےکے لیےاستعمال کرتی ہوں۔ یہ مجھے میرا عکس دکھاتا ہے اور میں جیسی ہوں مجھےویسا دکھاتا ہے۔ میں مسکرا کر آئینے میں دیکھتی ہوں تو اپنی ذات اچھی لگتی ہے۔ یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس قدرتی زیور مسکراہٹ کے ہوتے ہوئے کسی زیور یا سجاوٹ کی ضرورت ہی نہیں پھر جب روتے ہوئے خود کو آئینے میں دیکھتی ہوں تو اپنا غم ہلکا کرنے کے لیے خود کو دلاسہ دیتی ہوں اور خود کو حوصلہ دیتے ہوئے مضبوط بناتی ہوں۔
میں آئینے میں خود کو دیکھ کرپراعتماد محسوس کرتی ہوں کیونکہ یہ دوسرے لوگوں کی طرح مجھے یہ نہیں بتاتا کہ بظاہرمجھ میں کیاکمی ہے۔ یہ نہیں بتاتا کہ میں خوبصورت نظر آتی ہوں یا بدصورت۔ یہ میرے ظاہر پر لوگوں کی طرح خوشامد کرتا ہے، نہ طنزیہ لہجے میں مجھے کوئی کمی بتاتا ہے۔ میں جیسی ہوں مجھے ویسا دکھاتا ہے۔ اب اس کا انحصار مجھ پر ہے کہ میں خود کو دیکھ کر شکر گزاری کرتی ہوں کہ اللہ نے مجھے کس قدر خوبصورتی سے بنایا ہے اور کوئی کمی نہیں رکھی یا اپنے ظاہر میں خامیاں تلاش کر کے انہیں بدلنے کا ارادہ کرتی ہوں۔
اس آئینے میں ایک ہی کمی ہے کہ یہ مجھے میرا ظاہر تو دکھاتا ہے لیکن میرا باطن نہیں۔
آئینہ یہ تو بتاتا ہے کہ میں کیا ہوں مگر
آئینہ اس پہ ہے خاموش کہ کیا ہے مجھ میں
میرے اخلاق، میرے اعمال اور میرے دل کا حال یہ سب آئینہ نہیں بتا سکتا۔ یہ سب جاننے کے لیے مجھے خود اپنا محاسبہ کرنا ہو گا۔ محاسبہ کر کے اپنے احتساب کے ساتھ اپنے اخلاق کو بہتر بنانے کے لیے کوشش اور دعا کرنا ہو گی۔
اللّٰهُمَّ أَنْتَ حَسَّنْتَ خَلْقِيْ فَحَسِّنْ خُلُقِيْ۔
ترجمہ: "اے اللہ! جیسے تو نے میری صورت اچھی بنائی تو میرے اخلاق بھی اچھے کردے۔"




































