
صائمہ عبدالواحد
وادی کشمیر ۔۔۔۔جنت نظیر۔۔۔۔ اگرزمین پہ کوئی جنت ہوتی تو وہ کشمیر ہوتی۔۔۔۔۔ کشمیر میں بسنےوالے بچوں کے چہرے پرعجب استفسار ہے۔ ماں کشمیر تو
جنت ہے نا۔۔ جنت میں طوفان کیوں؟حق تو حیوانوں کے بھی ہیں ۔۔۔ درد میں پھرانسان کیوں؟ یاد ہے تم کو ہساروں کے دکھ میرا دکھ کیوں یاد نہیں؟ اب تو ہے آزاد یہ دنیا پھر میں کیوں آزاد نہیں ؟
مسئلہ کشمیر دو ملکوں کے درمیان تنازع نہیں اور نہ کسی لڑائی کا شاخسانہ ہے بلکہ یہ وعدہ خلافی، حق تلفی اور ظلم کی داستان ہے۔ یہ ایک کروڑ تیس لاکھ انسانوں کی آزادی اور حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے۔ اٹھارہ سو انیس میں جدوجہد کشمیر کا آغاز آج سے تقریباً دوسوسال قبل ہوا جب مسلمانوں سے سیاسی اقتدار چھین لیا گیا۔
اٹھارہ سو اکتیس میں سید احمدشہید کی سربراہی میں مجاہدین نے کشمیرکی طرف کوچ کیا۔ بالاکوٹ کے مقام پر سکھوں کے جنرل شیر خان کی بارہ ہزار کی فوج نے چند سو مجاہدین پر حملہ کیا،بالاکوٹ کا مشہور واقعہ پیش آیا جس کی داستان طویل اور اذیت ناک ہے۔اٹھارہ سو چھیالیس میں معاہدہ امرتسر برٹش انڈیا کمپنی نے پچھتر لاکھ نانک شاہی سکھوں کے عوض ریاست جموں کشمیر کا سودا ڈوگرہ راج گلاب سنگھ سے کر دیا گویا "ساڑھے تین روپے فی کشمیری "انگریزوں کی مدد سے ڈوگرہ راج قائم ہو گیا جو سو سال تک قائم رہا ۔
انیس سو سینتالیس میں دو قومی نظریےکی بنیاد پر برصغیر کی تقسیم کا عمل شروع ہوا پانچ سوپینسٹھ ریاستوں کویہ اختیار دیا گیا کہ وہ پاکستان اور ہندوستان جس کے ساتھ چاہیں اشتراک کر لیں جموں کشمیر کی جغرافیائی، فطری، تہذیبی حیثیت، اس کے دریاؤں کا رخ، اس کی تہذیبی روایات، مسلمانوں کی تعداد، خواہش ان کی سرحدی اتصال سب کچھ اس بات کا متقاضی تھا کہ جموں و کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہواور قیام پاکستان کی جدوجہد میں جموں و کشمیر کے مسلمان بھی شانہ بشانہ شریک رہےمگر انگریز کی بددیانتی کہ عین وقت پرگورداس پور کی راہداری انڈیا کے حوالے کر کے کشمیر کے مستقبل تاریک کر دیا ۔ اکتوبر انیس سو ینتالیس کو قبائلیوں کی مدد سے کشمیر کا اڑتیس فیصد حصہ آزاد کروا لیا گیا جبکہ بقیہ حصہ پر انڈیا قابض ہو گیا ۔انڈیا مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے گیا جہاں جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل دونوں نے اپنی الگ الگ قراردادوں میں کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کرتے ہوئے استصواب رائے اور سیز فائر کا فیصلہ دیا ۔بھارتی حکمران حق رائے دہی کے وعدوں کو اب تک مختلف حیلوں بہانوں کے ذریعے ٹالتے ٹالتے آرہے ہیں۔ بھارت کی ہٹ دھرمی کہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا رہا اور ساتھ ہی کشمیریوں پر مظالم کی انتہا کر دی ۔
جس طرح اسرائیل فلسطین کودنیا کے نقشے سےغائب کرنا چاہتا ہے۔اس طرح بھارت بھی کشمیرکودنیا کے نقشے سےمٹا دینا چاہتا ہے ۔بھارت کسی بھی طرح کے مظالم سے اب تک کشمیریوں کی حوصلے پست نہ کر سکا۔
پانچ اگست دو ہزار انیس کو بھارتی آئین میں تبدیلی کے ذریعے بھارت نےکشمیرمیں مظالم کے ایک نئےدورکا آغازکیا۔وادی جموں کشمیرکودنیا کے بڑے جیل خانے میں تبدیل کر دیا اور ساتھ ہی بھارتی وزراء پاکستان کو آزاد کشمیر، گلگت بلتستان پر قبضے کی دھمکیاں دیتے رہے۔بھارت نہ صرف کشمیر پر مذاکرات سے انکاری ہے بلکہ بلوچستان سے فاٹا تک پاکستان کو ہر ممکن نقصان پہنچا رہا ہے۔ایسے میں بنگلہ دیش کی نوجوان نسل کا انقلاب برپا کرنا، بھارتی ایجنٹ کا اپنے ملک سے نکال باہر کرنا،حکومت پاکستان کے لیے ایک نادر موقع تھا کہ وہ تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ مل کر بھارت پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے دباؤ ڈالتے مگر حکومت پاکستان کی سرد مہری اور موجودہ حکومت کا کشمیر کاز کو پیچھے دھکیلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت پاکستان مسئلہ کشمیر پر بات کیے بغیر بھارت سے امن کی خواہاں ہے۔
مگر پاکستانی عوام آج بھی ایسےبامقصد اورجامع مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں جس کے ایجنڈے میں سر فہرست مسئلہ کشمیر ہو پاکستانی عوام سوشل میڈیا اورہرممکن ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے کشمیری عوام کا ساتھ دینے کی ہرممکن کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ دنیا کے سامنے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا جائے۔




































