
ہماعدیل
افریقہ کے دل میں واقع سوڈان آج جس المیہ سے گزر رہا ہے، اس نے پورے خطے کو لرزا دیا ہے۔ ایک طرف غزہ کا غم تو
دوسری طرف سوڈان سے ملنے والے مناظر دل کو خون کے آنسورلا رہے ہیں ۔اسلام کی روشنی جب ساتویں صدی میں عرب سے نکل کر افریقہ کی گہرائیوں تک پہنچی، تو سوڈان اس روشنی کا ایک خاموش مگر مضبوط چراغ بنا۔
ایک زمانے میں خرطوم اسلامی علم و فکر کے قافلوں کی گزرگاہ تھا۔ مصر سے آنے والے علما اور حج کے قافلے اسی راستے سے گزرتےاور خرطوم کو "افریقہ کا دروازۂ مکہ" کہا جاتا مگر افسوس مساجد ، مدارس اور صوفی خانقاہوں کا یہ تاریخی شہر ظلم کی چادر اوڑھے کھڑا ہے۔سوڈان جو ایک سو فیصد کے قریب مسلم ملک ہے ، کسی غیر کے ظلم کا شکار نہیں ہوا بلکہ دو مسلم جرنیلوں کے تصادم کا میدان بن چکا ہے، ایک طرف جنرل برہان کی باقاعدہ فوج ایس اے یف ہے اور دوسری جانب حمیدتی کی ملیشیا فورس آر ایس ایف ، دونوں کے ہاتھوں عام شہری ، معصوم بچے اور عورتیں مارے جا رہے ہیں ۔ ہر طرف بھوک کا راج ہے، یہ جنگ اقتدار ، سونے کی کانوں اور درالحکومت خرطوم کے کنٹرول کرنے کی جنگ ہے اور طاقت کی اس بساط میں کئی خانے دھندلے ہیں اور اس دھند میں خاموشی سے مظلوم سوڈانی ظلم کا نشانہ بن رہے ہیں ۔
سوڈان کے دارفور خطے کا آخری بڑا شہر الفشر اس وقت آرایس ایف (ریپڈ سپورٹ فورسز) کے شدید محاصرے میں ہے اور آبادی کو تشدد ، خوراک ، پانی اور ادویات کی قلت کا سامنا ہے ۔اس پس منظر میں متحدہ عرب امارات کے کردار کا بار بار ایک متنازع حیثیت سے ذکر ہورہا ہے ۔ مغربی انٹلیجنس رپورٹس اور سوڈانی حکومت ایس اے ایف کے الزامات کے مطابق ، یو اے ای ، آر ایس ایف کو اسلحہ اور مالی امداد فراہم کرتا ہے تاکہ خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو قائم رکھ سکے ۔
ماضی میں یو اے ای نے دارفور کے سونے کے کاروبار میں سرمایہ داری کی اور آر ایس یف انہیں سونے کی کانوں کو کنٹرول کرتا ہے ۔ تاہم ابو ظہبی نے ان تمام الزامات کو مسترد کردیا ہے اور یہ کہا ہے کہ وہ مالی امداد صرف انسانی مدد اور فلاحی کاموں کے لئے کرتا رہا ہے ،بہرحال ایک طرف غزہ ہے کے مسلمان جہاں بے یار و مددگار، دنیا کے سب سے زیادہ محصور علاقے میں، گولیوں اور بارود کے نیچے اپنے بچوں کو دفنا رہے ہیں۔ وہاں ظلم بیرونی ہاتھوں سے ہے اور یہاں (سوڈان میں) اندرونی مگر دکھ دونوں کا ایک ہی ہے ۔۔۔۔۔ مسلمان لہو میں نہا رہے ہیں، ایک جگہ دشمن کے ہاتھوں، دوسری جگہ اپنے ہی بھائیوں کے ہاتھوں ان دونوں المیوں نے دل کو بوجھل کر دیا ہے۔سوڈان اور غزہ ۔۔ دو خطے، دو کہانیاں ، مگر زخم ایک ہی ہیں ۔ امت وہی ہے، درد وہی ہےاور چیخ اب بھی آسمان تک جا رہی ہے مگر افسوس زمین پر کوئی سننے والا نہیں۔





































