
اقراء حسن / کراچی
کچھ عرصہ پہلےتک "ورچوئل دوست" صرف سائنس فکشن کاحصہ لگتے تھےلیکن آج وہ حقیقت بن چکے ہیں۔ اب مصنوعی ذہانت سے چلنے والے دوست
نہ صرف ہماری بات سنتے ہیں بلکہ جذباتی سہارا بھی دیتے ہیں۔
آج کی مصروف زندگی میں جہاں تنہائی عام ہے،ایسےدوست بغیرکسی تنقید کےہمیشہ دستیاب رہتےہیں۔وہ رات کےکسی بھی پہر بات کرنے کو تیار ہوتے ہیں اور لوگوں کو سکون محسوس ہوتا ہے کہ کوئی ہے جو سنے گا اور انکار نہیں کرے گا۔
یہ صرف وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں بلکہ لوگ ان سے بات چیت کی مشق کرتے ہیں۔اپنےجذبات کو سنبھالتے ہیں اور بعض اوقات ذہنی سکون بھی محسوس کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ مصنوعی دوست مزید ذاتی نوعیت اختیار کر لیتے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ جب ہم ان پر بہت زیادہ انحصار کرنےلگیں تو حقیقت اورمصنوعی جذبات میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔انسانوں کے ساتھ تعلقات کی پیچیدگیاں ہمیں بوجھ محسوس ہونے لگتی ہیں۔
مصنوعی ذہانت سے چلنے والے دوست انسانوں کی جگہ تو نہیں لےسکتے لیکن وہ ہمارے جُڑنے کے طریقے ضروربدل رہےہیں۔ ایک ایسا دوست فائدہ مند ہو سکتا ہے مگر اصل خوشی تبھی ملتی ہےجب ہم ایک دوسرے سے سچے اور بے لوث رشتے قائم کرتے ہیں،کچھ بھی ہو جائے انسان کو ہمیشہ حقیقی اور دل سے جُڑے رشتوں کی ضرورت رہے گی۔





































