
نائلہ تبسم
لیلتہ القدر میں قیام اور اس رات کو تلاشنا وہ باسعادت عمل ہے جسکی سعادت بھی کسی کسی کو ملتی ہے۔مختلف علماء اور مفسرین کی آرا کا مطالعہ
کر نے کے بعد جو رائے میرے دل کو لگی وہ سید قطب شہید کی ہے۔فی ضلال القرآن میں وہ لکھتے ہیں کہ انسانوں کی پیدائش سے پہلے ہی کائنات کی تقدیر مقرر کردی گئی تھی یعنی آغاز سے انجام تک سارے فیصلے پہلے ہی کر لئے گئے تھے مقررہ وقت پر انبیاء کو دنیا میں بھیجنا،کتابوں کا نازل کرنا سب اللہ تعالیٰ کی پلاننگ کا حصہ ہے،اسی لئے تو دنیا کا پہلا انسان مکمل ہدایت کے ساتھ دنیا میں آیاپھر اسکے ساتھ نیکی اور بدی کا اختیار انسانوں اور جنوں کو دیا گیا،پھر زمینی مخلوقات میں یہ اختیار انسانوں کے پاس آیا۔
اب اتنی تمہید کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ لیلتہ القدر کی پلاننگ بھی اللہ تعالیٰ کی اس تقدیر کا حصّہ ہے۔یہ رات ہزار مہینوں سے افضل رات ہے اتنی شاید انسانی زندگی بھی نہیں جتنی نیکیاں اور ثواب ان راتوں کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہےکہ شاید اب ہی یہ بندے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرلیں۔خود سورہ القدر کی رو سے اس کے بابرکت ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ قرآن اس رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب اطہر پر نازل ہونا شروع ہوا یہ اتنا عظیم واقعہ تھاکہ انسان کی قوت ادراک(محدودسمجھ)اس رات کو پا ہی نہیں سکتی۔
اس رات تقدیروں کے فیصلے ہوتے ہیں اللّٰہ تعالیٰ ہمیں ہمارے محدود علم کے ذریعے اس رات کو پانے کی توفیق عطا کرے۔جو سراسر سلامتی،رحمتیں اور خیر ہی خیر لئے ہوئے ہے(آمین)





































