
کعب حسین انصاری
ہم اپنے اسکول کے ایک دوست سےملنےاس کےگھرگئے ہوئے تھے اورجناب نےہمیں اپنےگھرمیں بیٹھا دیا،میں نے دیکھا وہاں پر ایک بوڑھے صاحب
بیٹھے ہیں۔دوست نے بتایا یہ ان کے والد محترم ہیں اور ہم کسی بڑے بوڑھےسےملتے وقت کےتمام آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے آگے بڑھے اور سر جھکا کر ان کو بڑے ادب سے سلام کیااور وہ ہمیں گھورنے لگے، شاید کہ انہیں ہم سے ایسےآداب کی امید نہ تھی یا پھر کبھی کسی نے ان سے ایسے آداب میں سلام نہیں کیا تھا۔
وہ مسکرائےاور پھر حال احوال اور تعلیم کے بارے میں دریافت کرنے لگےاورہم نےان کوبڑے ادب سے تمام سوالات کے جوابات دیے اور بات چیت ہوتی رہی۔اچانک انہوں نے مجھ سے سوال کیا"ہاں بھئی برخوردار، پاکستان کے نظام تعلیم کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟"ہم نے مسکرا کر انہیں دیکھا اور پھر اپنے دوست کو اور دوست ہمیں اشاروں میں کچھ کہنے لگا لیکن ہم سمجھ نہ سکے اور تھوڑےسےتوقف کے بعد ہم نے فلسفیانہ انداز میں انہیں جواب دیا:" جناب پاکستان کے نظام تعلیم میں صرف دو چیزوں کی کمی ہے۔ نظام کی اور تعلیم کی۔"
اور پھر جب ہم نے ان کے چہرے پرنگاہ دوڑائی تو ہمیں پتا چلا کہ ہم شاید کچھ غلط کہہ بیٹھےہیں لیکن ہمارے نزدیک تو یہ ہی سچائی تھی اور اب میں دوست کے اشارے بھی سمجھ چکا تھا،وہ کہہ رہا تھا:"میرے والد ایک سرکاری اسکول کے ہیڈ ماسٹر ہیں۔"یہ سننا تھا کہ ہماری تو سٹی گم ہو گئی اور ہم بھاگ نکلنے کا ارادہ کر رہے تھےکہ دوست کے والد نےغصیلی آوازمیں کہا:"وہ کیسے؟"اب تو ہم واقعی میں ڈر گئے کیوں کہ اس سے پہلے تک تو وہ ہمیں ہر جملے میں بیٹا وغیرہ کہتےآئے تھے لیکن پھر دل نے کہا اب حقیقت زبان پر آہی گئی ہے تو پھر اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنے ہی میں بھلائی ہے اور ہم نے کہنا شروع کیا:"جناب،آپ سرکاری اسکولز کےحالات خود ہی دیکھ لیں ،ورنہ پرائیویٹ اسکولز کھولنے کی ضرورت ہی نہ ہوتی ۔ یہ اسکولز اور کوچنگز وغیرہ بھی سرکاری اساتذہ نے کھول رکھے ہیں۔ اگرسرکاری اساتذہ سرکار کےاسکولز میں پڑھاتے (اول تو وہ پڑھاتے ہی نہیں) اور صحیح طریقے سے پڑھاتے تو کوئی بچہ پرائیویٹ اسکولز کا رخ بھی نہیں کرتا۔"
ہماری بات سن کر وہ آگ بگولہ ہوگئے اور کہنے لگے:"ہمارے اسکول میں ایسا کچھ بھی نہیں۔طلباء کی حاضری بھی ہو تی ہے اور پڑھائی بھی۔"ہم نے ان سے کہا:"جناب میں صرف آپ کی بات نہیں کر رہا بلکہ پوری قوم کی بات کر رہا ہوں، اکثر جگہوں پر تو یہ ہی حالات ہیں۔ اول تو تعلیم کا بجٹ ہی نہ ہو نے کے برابر رکھا جاتا ہے کیوں کہ اگر دیہات وغیرہ کا کوئی بچہ پڑھ لکھ گیا تو وہ جاگیر دار اور چودھریوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر ے گا اور پھر ان کے مضارعین پر سے ان کا رعب ختم ہو جائے گا اور ان کی پارٹی الیکشن میں ہار جائے گی کیوں کہ دیہات وغیرہ میں تمام ووٹ چودھری خود ہی ڈالتا ہے، وہ بھی اپنی ہی پارٹی کو۔"
ابھی ہم اور بھی کچھ کہنا چاہتے تھےکہ جناب بول اٹھے:"دیہات وغیرہ کی بات کیوں کرتےہو؟ہم شہری لوگ ہیں،ہم سے شہرکی بات کرو۔"یہ کہ کر وہ چپ ہو گئے اور ہمیں اس انداز سے دیکھنے لگے جیسے ہمارے دلائل ختم ہو گئے ہوں لیکن ابھی تو ہم نے دلائل دیے بھی نہ تھے کیوں کہ سرکاری اسکولز کے حالات پوری قوم کے سامنے ہیں۔میں نے بات دوبارہ شروع کرتے ہوئے کہا:"جناب تعلیم کا بجٹ پہلے ہی تھوڑا ہے اور جو تھوڑا بہت پیسا بھی آپ حضرات کو ملتا ہے وہ آپ کی جیبوں کی نظر ہو جاتا ہے۔" وہ ہمیں گھورنے لگے لیکن ہم نےبات کو جاری رکھتے ہوئے کہا:"ہو سکتا ہے آپ ایسا نہ کرتے ہوں لیکن کلاس رومز کے حالت کے بارے میں تو سب جانتے ہیں،سالوں گزر جاتے ہیں لیکن صفائی ستھرائی نہیں ہوتی، فرنیچر نہیں ہوتا اور تقریبا تمام سرکاری اسکولز کے باہر ایک کچرا کنڈی کا ہونا لازم ہے ورنہ اسے سرکاری اسکو ل نہیں مانا جاۓگا۔ "
یہ کہ کر ہم چپ ہوگئے۔تھوڑی دیرتک تو وہ خلا میں گھورتے رہے۔پھر کہنے لگے:"یہ کام تو عوام کرتی ہے،ہر سرکاری اسکول کےباہرایک کچرا کنڈی بنا دیتی ہے ۔"ان کی بات ختم ہوئی تو میں کہنے لگا :"جب اسکو ل کی حالت ہی ایسی ہو گی تو یہ تو ہو گا، کہیں سے کوئی دیوار ٹوٹی ہے تو کہیں کھڑکی نکلی پڑی ہے ۔آ پ حضرات بھی تو صبح اسکول جاتے وقت اپنے گھر کا کچرا اسکول ہی کی کچرا کنڈی میں پھینکتے ہیں۔"
اب تو جناب کے منہ پر تالا لگ گیا ،پھر خود ہی کہنےلگے:" ہاں بیٹا،اس میں ہماری کوتاہی بھی ہے،جب تک سرکاری اساتذہ نے پرائیویٹ اسکولز اور کو چنگز نہیں کھولے تھے تب تک سرکاری اسکولز کے حالات بہتر تھے اور ہم نے بھی ان ہی سرکاری اسکولز اور کالجز سے تعلیم حاصل کی تھی لیکن میں نے اپنے بیٹے کو پرائیویٹ اسکول میں داخلہ دلوایا اور یہ ہی میری غیر ذمہ داری کا سب سے بڑا ثبوت ہے اور یہ سب دیگر اساتذہ نے بھی کیا ہے۔"اور پھر میں اپنے دوست کو دیکھنے لگا کیوں کہ اگر وہ مجھے پہلے بتا دیتا کہ اس کے والد ایک سرکاری اسکول کے ہیڈ ماسٹر ہیں تو شاید میں یہ سب نہ کہہ پاتا اور ان کے آگے پاکستان کے نظام تعلیم کا صحیح نقشہ پیش نہیں کر پاتا۔ مجھے اس بات کا بھی یقین تھا کہ وہ کم از کم اپنی حد تک تو حالات صحیح کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔




































