
ثمینہ الیاس
روزہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے، رمضان المبارک کے مہینے میں ہر بالغ
مسلمان پر روزہ فرض کیا گیا ہے۔ روزہ صرف بھوکا اور پیاسا رہنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل تربیتی عمل ہے جو انسان کی روح، اخلاق اور کردار کو سنوارتا ہے۔روزے کا سب سے بڑا مقصد تقویٰ پیدا کرنا ہےجیسا کہ قرآنِ مجید میں فرمایا گیا ہے کہ "روزے تم پر اس لیے فرض کیے گئے ہیں تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو"۔ تقویٰ کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کا خوف اور ہر حال میں اس کی نافرمانی سے بچنا۔ جب انسان بھوک اور پیاس کے باوجود برے کاموں سے رکتا ہے تو اس کے اندر خود پر قابو پانے کی عادت پیدا ہوتی ہے۔
روزہ انسان کو صبر اور برداشت سکھاتا ہے،بھوک، پیاس اور خواہشات کو قابو میں رکھنا آسان نہیں لیکن روزہ ہمیں مشکل حالات میں صبر کرنا سکھاتا ہے۔ یہی صبر زندگی کے دوسرے معاملات میں بھی انسان کے کام آتا ہے۔روزے کا ایک اہم مقصد غریبوں اور ضرورت مندوں کا احساس پیدا کرنا بھی ہے۔ جب امیر انسان خود بھوک محسوس کرتا ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ غریب لوگ روزانہ کن حالات سے گزرتے ہیں۔ اس سے دل میں ہمدردی اور مدد کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ روزہ انسان کے اخلاقی اصلاح کرتا ہے، روزے میں جھوٹ، غیبت، لڑائی جھگڑے اور برے رویّوں سے بچنے کی خاص تاکید کی گئی ہے۔ یوں روزہ انسان کو اچھا مسلمان اور بہتر انسان بننے میں مدد دیتا ہے۔ روزہ صرف عبادت نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ تربیت ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے، اس کے اخلاق بہتر بناتا ہے اور معاشرے میں محبت، صبر اور ہمدردی کو فروغ دیتا ہے۔اس کو اس طرح کر لیں۔انسان بھوک اور پیاس کے باوجود اپنے آپ کو برے کاموں سے روکتا ہے۔




































