
ثمینہ الیاس
سانحہ گل پلازہ محض ایک عمارت میں پیش آنے والا حادثہ نہیں تھا بلکہ یہ ہمارے نظام، ہماری ترجیحات اور ہماری اجتماعی غفلت
کا المناک اظہار تھا۔ ایک لمحے میں خوشیوں، محنت اور خوابوں سے بھرے کئی چراغ بجھ گئے۔ کئی گھر اجڑ گئے اور کئی ماؤں کی گود ہمیشہ کے لیے سونی ہو گئی۔
گل پلازہ جیسے کمرشل مراکز میں روزانہ سینکڑوں لوگ رزقِ حلال کی تلاش میں آتے ہیں۔ کوئی دکان دار ہے، کوئی ملازم، کوئی خریدار، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان سب کی جانوں کا تحفظ ہماری ترجیحات میں شامل ہے؟
کیا فائر سیفٹی کے انتظامات، ایمرجنسی راستے، اور حفاظتی اصول صرف فائلوں کی زینت بن کر رہ گئے ہیں؟
سانحہ گل پلازہ نے ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کر دی کہ غفلت جب نظام کا حصہ بن جائے تو حادثات جنم لیتے ہیں۔
یہ سانحہ ہمیں جھنجھوڑ کر یہ سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے۔۔۔۔۔
کیا ہماری عمارتیں انسانی جانوں کے لیے محفوظ ہیں؟
کیا متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں؟
کیا ہم بطور قوم صرف حادثے کے بعد جاگتے ہیں؟
سب سے زیادہ دردناک پہلو وہ خاندان ہیں جو اپنے پیاروں کو کھو بیٹھے۔ وہ بچے جو باپ کی شفقت سے محروم ہو گئے۔ وہ مائیں جو بیٹوں کے انتظار میں آنکھیں بچھائے رہ گئیں، اور وہ بیوائیں جن کی زندگی ایک لمحے میں بدل گئی۔
یہ وقت صرف افسوس کا نہیں، احتساب کا بھی ہے۔
احتساب ان افراد کا جنہوں نے حفاظتی قوانین کو نظر انداز کیااور احتساب اس نظام کا جو ہر سانحے کے بعد وعدوں تک محدود رہ جاتا ہے۔
اگر ہم واقعی شہداء گل پلازہ کو خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں۔۔۔۔
حفاظتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرنا ہوگا/
انسانی جان کو منافع سے زیادہ اہم سمجھنا ہوگا۔
اور ہر سانحے کو بھلا دینے کی عادت ترک کرنا ہوگی۔
دعا ہے اللہ تعالیٰ اس سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کو اپنی رحمت میں جگہ دے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، اور ہمیں اتنی بصیرت دے کہ ہم آنے والے کل کو محفوظ بنا سکیں۔
آمین




































