
زین صدیقی
ہاتھوں میں فحش اورذومعنی جلموں پرمشستمل کتبےتھامے،چست لباس ،جینزکی
پینٹس اورٹی شرٹس زیب تن کیےخواتین کراچی کےفریئر ہال،اسلام آباد اورلاہورمیں پریس کلبوں کے سامنے8مارچ کوعورت مارچ کرتےنظرآئیں۔ان کتبوں کودیکھ کرہم کافی دیرتک یہ سوچتےرہےکہ یہ مارچ کس مقصد کیلئےہے،یہ خواتین اپنے گھر کے مردوں سے ازادی چاہتی ہیں یااس ملک کے اسلامی ماحول سے،یہ مردوں کواپنا غلام بنانے کیلئے تحریک لے کراٹھی ہیں یاان پرحکمرانی کیلئےمیدان عمل میں آئی ہیں۔
خواتین کےحقوق کےاس عجیب وغریب مارچ سےنہ صرف سوشل میڈیا بلکہ الیکٹرانک میڈیا پربھی ایک نہ ختم ہو نےوالی بحث چھڑگئی ہےاورلوگ ان پلےکارڈزوالی تصاویرکو شیئرکررہے ہیں اورساتھ ہی ساتھ ان پر طرح طرح کے تبصرے بھی کررہے ہیں۔ذراملاحظہ کیجیےخواتین کے ہاتھوں میں موجود ان پلے کارڈز پرکیاجملےدرج تھے،ایک پلے کارڈ پر تحریر تھا میری مرضی میرے کپڑے،ایک دوسرے پلےکارڈ پرلکھا تھا میراجسم میری مرضی،ایک اورپلے کارڈ پر لکھا تھا دوپٹہ اتنا اچھا لگتا ہےتواپنے منہ پرڈال لو،ایک بلے کارڈ پرتحریر تھا کہ پانی میں گرم کرتی ہوں تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کروجبکہ دیگرچند پلےکارڈز پرلکھا تھایہ سڑکیں ہماری ہیں،ناچ میری بلبل کوئی کچھ نہیں کہے گااوران جیسے اور بھی بہت سےشرمناک جملے درج تھے،جنہیں پڑھ کرہمارا سرندامت سے جھک گیا۔

یہ آئنٹیاں کون تھیں ،کس تہذیب کی ترجمانی کرنےآئیں تھیں ،پاکستان میں خواتین پر ڈھائےجانےوالے مظالم پرنوحہ کناں تھیں۔اپنے خاندان کے مردوں سے آزادی کا مطالبہ لیکرمیدان میں آئیں تھیں،پاکستان کے باشعور خواتین اورحضرات کو یہ بات ابھی تک سمجھ نہیں آئی،کون ہے جوان کی بات نہیں سمجھ پا رہا، ہمارااسلام تو 1400 سال پہلے عورت کوتمام حقو ق دےچکاہےاوریہ تاقیامت برقرار رہیں گے،عورت کی عزت وحرمت بھی بیان کی جاچکی ہے،ادب واحترام،جائیداد میں حصہ طے ہوچکا ہے،مرد کواس کے بیوی کیلئےافسر بھی قراردیا جاچکا ہے۔مرد کواس کے اہمیت بھی بتادی گئی ہےاوراسےعورت کی عزت کا پابند بھی بنادیا گیاہے،اسلام میں کہیں عورت پو ظلم کرنے،اس سے ناانصافی کرنے کا حکم نہیں ہے،بنی مہربان حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیمات بھی عورت پر ظلم کی سختی سےروکتی ہیں۔
اسلام میں عورت کوعزت اوراحترام جتنااسلام میں دیا گیا ہے،کسی مذہب میں نہیں دیا گیا،عورت کو حجاب کا حکم ہے اوراس پراللہ اورنبی مہربان کے احکام وتعلیمات بھی موجود ہیں۔آج کی عورت بااعتماد ہے،تعلیم یافتہ واپنا اچھابراسمجھتی ہے،جبکہ دنیا کے مغربی ممالک میں عورت کا کوئی پرسان حال ہے ،نہ ہی اس کی عزت ،اس کی حیثیت ٹیشو پیپرکی طرح کی ہے،یہی وجہ ہے کہ وہاں کی خواتین سب سے زیادہ نفسیاتی عوارض کا شکارہوتی ہیں اوربہت سی خواتین کو زندگی کی تلخیاں احساس کمتری ومحرومی کابھی شکارکردیتی ہیں،ان کے ساتھ ہونی والی زیادتیاں ان کے گھروں سے شروع ہوتی ہیں اوران میں ان کےاپنے قریبی رشتےملوث ہوتے ہیں۔وہاں کوئی خاندانی نظام ہے نہ کوئی اس کی مضبوط اساس۔

ہمارے یہاں بعض ناسمجھ لوگ مرداورعورت کی برابری کی بات تو کرتے ہیں مگر یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نےجنس کےاعتبارسےمرداورعورت میں واضح تفریق رکھی ہے،عورت نازک اندام ہے،ساخت کے اعتبارسےمردکوزیادہ قوت دی گئی ہے،یہ سب اللہ کی فطرت کےعین مطابق ہے،اسلام میں عورت اور مردمیں تفرق کیلئے خواتین کیلئے مردوں کی شکل وشباہت اختیارکرنے کی ممانعت ہےاورعورتوں کو بھی مردوں کی صورت ،چال ڈھال اختیار کرنےسے منع فرمایا گیا ہے،چست لباس پہنے کی ممانعت ہے،برہنگی اختیارکرنےسے بھی منع فرمایا گیاہے،عورت اورعورت ،مرداور مرد کو ساتھ سونےاورغیرمحرم مرداورعورت کی بیٹھک سے بھی روکا گیا ہے۔
خواتین کے مارچ نے ہمارے دل دہلا دیئے ہیں ،یہ آنٹیاں اپنی مرضی سے سڑکوں پر نکل آئیں،اسلامی اقدار کیخلاف علم بغاوت بلند کررہی ہیں،انہیں راستے میں کسی نہیں روکا ،کسی نے انہیں اف تک نہیں کہا،بیہودہ جملوں کا کسی نے نوٹس نہیں لیا، یہ آزادی کے ساتھ احتجاج کرنے گھروں نکل آئیں،نہ دوپٹےتھے،نہ حجاب، انہیں اورکون سےآزادی چاہیے۔ان پلے کارڈزکو دیکھ لگتا ہے،یہ خواتین مغرب کی تہذیب کے نفاذ کی خواہش مند تھیں یا پھر مدرپدرآزاد ماحول کی،جو اسلامی اقدار اورملکی تہذیب کےسراسرمنفی ہے۔

بعض سوشل ایکٹوسٹ میڈیا پرآکرمارچ پرسردھن رہے ہیں اور8مارچ کوہونے والےان مظاہروں کی حمایت میں زمین وآسمان کے قلابے ملارہے ہیں اور کہہ رہےہیں کی ملک میں خواتین کا قتل عام ہو رہا ہے،خواتین پرظلم ہورہاہے،ریپ کیسز ہورہے ہیں۔دنیا میں پاکستان کو ان مظالم میں پانچویں چھٹے نمبر پر پیش کیا جارہا ہے،لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ ان مظاہروں میں خواتین کے قتل ،ریپ،ظلم وستم اورحقوق سے متعلق ایک بھی پلے کارڈ نظرنہیں آیاجس میں عورت کے قتل عام ،ریپ یا دیگر حقوق کی بات کی گئی ہو۔
یہ کس کا ایجنڈا ہے،کن لوگوں نے یہ مظاہرہ منعقد کیا یہ ایک سوال ہے اوررہے گا،پاکستان میں انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیم ہیومن رائٹس نیٹ ورک نے مارچ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسےآئین پاکستان اورنظریاتی اساس کے منافی عمل قرار دیا ہے اورمظاہرے میں شریک فنڈڈ آنٹیوں کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ۔





































