
زین صدیقی
پانی انسانی ضروریات میں سب سے اہم اورلازمی ترین جز ہے ،جس طرح انسان کے لیے آگ، ہوا ،خوراک اوراچھا ماحول ضروری ہے،اسی طرح پانی بھی نہایت
اہمیت کا حامل ہے ۔یوں کہیں کہ انسانی بقا پانی کے بغیر ممکن نہیں ہے تو یہ بے جا نہیں ہوگا ،لیکن آج یہ دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے ۔بات ایشیا کی ہو یا کسی اور براعظم کی ،ہرخطے میں بسنے والوں کی زندگی کے لیے یہ ضروری ہے ،دنیا میں پانی کے مسائل بڑھ رہے ہیں کہیں غیرمحفوظ اور غیر معیاری پانی سے لوگ امراض کا شکار ہیں ،کہیں اس کے نہ ہونے سے زندگی کا نظام متاثر ہے ،دنیا سوچنے پر مجبور ہے کہ یہ مسئلہ حل کیسے ہوگا ۔آبی ماہرین کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ پانی کا مسئلہ سنگین ہوچکا ہے اوریہ مسئلہ اتنا نازک ہے کہ اس مسئلہ پر دنیا میں تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے ۔
پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ پانی استعمال کرنے والے ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے ، آئی ایم ایف، یو این ڈی پی اور دیگر اداروں مختلف رپورٹس کے مطابق پاکستان میں پانی کا بحران تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اور 2040 تک پاکستان خطے کا سب سے کم پانی والا ملک بن سکتا ہے۔پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کے صرف دو بڑے ذرائع ہیں جن کی مدد سے محض 30 دن کا پانی جمع کیا جا سکتا ہے۔ارسا کے مطابق پاکستان میں بارشوں سے ہر سال تقریباً 145 ملین ایکڑفِٹ پانی آتا ہے لیکن ذخیرہ کرنے کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے صرف 13.7 ملین ایکڑ فِٹ پانی بچایا جا سکتا ہے۔ پانی کے ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں ہر سال 21 ارب روپے مالیت کا پانی ضائع ہو جاتا ہے اور جتنا پانی سمندر میں جاتا ہے اسے بچانے کے لیے منگلا ڈیم کے حجم جتنے تین اور ڈیم کی ضرورت ہوگی۔
پانی کے ضیاع کی چند بڑی وجوہات میں موسمی حالات کی تبدیلی اور بارشوں کی کمی، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی بچانے کے انتہائی ناقص ذرائع ہیں۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں پانی کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے بھی بڑی تعداد میں پانی کا ضیاع ہوتا ہے اوراس سے متعلق درپیش مسائل کو سمجھنا بھی نہایت ضروری ہے۔
پاکستان میں اب بھی لوگوں کو صاف پانی کے مسائل کا سامنا ہے،ماضی میں شعورآگہی کی کمی کہ وجہ سے لوگ آلود ہ پانی کے استعمال پر مجبور تھے ،جس سے اسہال ،پیچش ،پیٹ اورجلدی امراض عام تھے اور ان سے اموات بھی ہوجایا کرتی تھیں ،مگر آج لوگوں میں صاف پانی کی اہمیت اوراسکی ضرورت سے متعلق شعور بیدا ر ہوچکا ہے اور ملک کی زیاہ تر آباد ی فلٹر پانی استعمال کر رہی ہے ۔
پاکستان کا سب سے بڑا فلاحی ادارہ الخدمت کئی دہائیوں سے اپنے کلین واٹر پراجیکٹ کے تحت عوام کی خدمت میں مصروف ہے ۔یہ جہاں اپنے پراجیکٹ کے ذریعے لوگوں کو صاف اورمعیاری پانی کی فراہمی کا ذریعہ بن رہا ہے ،وہاں ،شعور آگہی بھی فراہم کر نے میں مصروف ہے اوراس کیلئے یہ وقتاً فوقتاً واٹر سیمیناراورآگہی واکس کا بھی اہتمام کرتا رہتا ہے ۔
ملک بھر میں الخدمت کے تحت 88واٹر فلٹریشن پلانٹس لوگوں کو صاف پانی فراہم کررہے ہیں ،اس کے تحت ایک ہزار657کنویں کھودے گئے۔4ہزار717 واٹر ہینڈ پمپس اور433سمرسیبل پمس جبکہ پانی کے504 دیگر منصوبے قائم ہیں ۔ان منصوبوں سے یو میہ 16,81,300افراد استفادہ کررہے ہیں ،جبکہ ان پر 2015ملین روپے خرچ کیے جارہے ہیں ،اسی طرح کراچی میں بھی الخدمت کا کام بہت وسیع ہے جس کا اعتراف ہرسطح پر کیا جاتا ہے ۔
کراچی میں بھی اس وقت پانی کا شدید بحران ہے اورالخدمت رضائے الٰہی کے حصول کے لیے کراچی اوراس کی مضافاتی بستیوں میں قلت آپ کے مسائل سے نمٹنے کیلئے اپنی خدمات انجام دے رہی ہے ، کراچی میں لانڈھی ،کورنگی ،لیاری ،نئی کراچی ،نارتھ کراچی سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں 43واٹر فلٹریشن پلانٹس کام کر رہے ہیں ،جہاں ان سے سالانہ سو اکروڑ سے افراد استفادہ کررہے ہیں ۔ الخدمت نے گزشتہ بر س پانی کے 98منصوبے مکمل کیے۔ جاری منصوبوں میں 68 ہینڈ پمپ اورسمرسیبل پمپس کا اضافہ کیا ،10کنویں کھودے گئے،8واٹرفلٹریشن پلانٹس کی تنصیب کی گئی،پانی کے 12نئے منصوبوں کا آغاز کیا ۔الخدمت کے ان منصوبو ں میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے نئے واٹر فلٹریشن پلانٹس اورآراو پلانٹس قائم کیے جا رہے ہیں ،جن سے لوگ بھر پور استفادہ کر رہے ہیں ۔
الخدمت کی پانی کے شعبے میں خدمات کو نہ صرف ملک میں بلکہ بیرون ممالک میں بھی قدر کی نگا ہ سے دیکھا جا چکا ہے کیونکہ کراچی میں سابق ناظم کراچی نعمت ا للہ خان کی کوششوں سے حکومت جاپان بھی پاکستان میں 7 واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب کر چکی ہے اوریہ پلانٹس اب بھی لوگوں کی خدمت میں مصروف ہیں۔
پانی کی اہمیت ہے اور ہمیشہ ر ہے گی مگر صاف پانی کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے ،مگر اگر کو ئی اس معاملے میں ریاست کا ہاتھ بٹا تا ہے تو ریاست کوبھی بڑھ کر اس حوصلہ افزائی کرنی چاہیے ۔





































