
زین صدیقی
ملک میں معاشی بحران ہے ،24ہزارارب کے قرضوں اورکرپشن کا شورہے،سیاسی رسہ کشی جاری ہے،کہا جارہا ہے ملک میں
احتساب ہورہا ہے ،قوم کے سامنے مجوزہ بجٹ آچکا ہے ،جس میں کھانے پینے کی چیزوں کوکنگ آئل,، چینی کے ساتھ ،چکن، بیف ،مٹن اورمچھلی سے تیار اشیا پر ٹیکس عائد کیا جارہا ہے۔
نئے وفاقی بجٹ میں حکومت نے 36نئے ٹیکس عائد کیے ہیں ،جی ایس ٹی کی شرح 17 فیصد برقراررکھنے کا فیصلہ کیاہے ،6لاکھ سے زائد آمدنی والوں کو بھی ٹیکس دینا ہوگا، کھوکھا اوررہڑھی بانوں کو بھی ٹیکس کیلئے رجسٹرڈکرنے کا کہا جارہا ہے، خشک دوردھ اورپنیرپر 10فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے سیمنٹ ،ایل این جی ،سی این جی پر بھی ٹیکس میں اضافہ کیا جارہا ہے۔
دنیا بھر میں ٹیکس کا نظام ہے لوگ ٹیکس بھی دیتے ہیں لیکن ان کو سہولتیں بھی فراہم کی جاتی ہیں ۔پاکستان میں لوگ ٹیکس دینے سے اس لیے گھبراتے ہیں کہ ان سے ٹیکس تو مانگاجاتا ہے مگر سہولتیں نہیں دی جاتیں ،حالانکہ نظام کو موثر اور منظم بنایا جائے، عوام کا اعتماد ہوکہ ان کادیا ہوا پیسہ ٹھیک مقاصد کیلئے اورملک کی فلاح وبہبود کیلئے خرچ ہو گا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ٹیکس نہ دیں ۔
وزیر اعظم کا کہنا کہ ملک کے عوام اس تعدا د میں ٹیکس نہیں دیتے جس تعدا میں لوگوں کو دیناچاہیے، ٹیکس سے زیادہ لوگ خیرات دیتے ہیں ۔یہ بات ٹھیک ہے لوگ ٹیکس سے زیادہ خیرات دیتے ہیں لیکن یہ بات درست نہیں کی عوام ٹیکس نہیں دیتے ۔کون کہتا ہے عوام ٹیکس نہیں دیتے عوام سے تو ہر چیز پر ٹیکس لیا جارہا ،صرف ہوا بچی ہے جس کا ٹیکس نہیں لیا جاتا ،اگر ہواپر ٹیکس لگانا ممکن ہو تا شاید اس پر بھی سب سے پہلے ٹیکس کا نفاذ ہو تا ،مگرابھی تک یہ ممکن نہیں ہوسکا ہے۔
عوام تو اپنی زندگی سے منسلک ہر پر چیز پر ٹیکس دیتے ہیں۔ وہ اشیا جو ملوں اور فیکٹریوں سے اشیا تیار ہو کر مارکیٹ میں آتی ہیں، چاہیے وہ کھانے کی ہوں یا پہننے کی ان سب پر جنرل سیلز ٹیکس لگ کر آتا ہے اور وہ کمپنیاں اور فیکٹر ی مالکان عوام سے وصول کرتے ہیں ،بچوں کے کھلونے ہوں یا برتن،میک اپ کا سامان ہویاملبوسات ،مشروبات ہوں یا خشک راشن ،خشک دود ہو یا لکوئیڈدودہ ،پینے کا صاف پانی ہویالوہے کاسامان ،تعمیراتی میٹریل ہویا ٹرانسپورٹ ،گاڑیاں ہوں یا ٹرین کا سفر،بجلی کا بل ہو یا گیس کا الحمد اللہ قوم سے تمام چیزوں پر ٹیکس وصول کیا جاتا ہے اور وہ ددیتے ہیں ۔عوام کو کبھی یہ نہیں کہا جاتا کہ آپ ٹیکس دیتے ،آپ کو سلام ہے ،بلکہ ٹیکس چور کہا جاتا ہے ۔
سابقہ تما م حکمرانوں کی طرح موجودہ حکومت بھی کہہ رہی ہے کہ ملکی مسائل سابقہ حکمرانوں کی وجہ سے ہیں اور کا ان احتساب کرنے کا بھی کہا جارہا ہےاوراسی احتساب کی وجہ سے سابق وزیر اعظم نوازشریف اورسابق صدر آصف علی زرداری گرفتارہو چکے ہیں،لیکن موجودہ حکومت کے آتے ہی 24 ارب ڈالر تک کے زرمبادلہ کے ذخائر 31مئی تک 15ارب 8کروڑپر آگئے،اسٹاک مارکیٹ جو 50ہزار پوائنٹس کی جا نب رواں دواں تھی اب 35ہزار پر آچکی ہے ،ڈالر 20روپے تک بڑھ کر 157روپے کے قریب پہنچ چکا ہے ۔ڈالرکے کے ریٹ بڑھنے سے لیے گئے قرضوں پرسود بھی بڑھا کر دینا پڑے گا ،کیونکہ روپیہ مسلسل ڈی ویلیو ہورہا ہے ۔پٹرول کے کے نرخ 113روپے سے بڑھ چکے ہیں ۔بجلی بھی مہنگی ہوئی ہے۔پھر بھی کہا جارہا ہے قوم کو کڑوی گو لی نگلنا پڑے گی ۔اپوزیشن نے مجوزہ بجٹ مسترد کردیا ہے۔تاجروں کا ملا جلا ردعمل ہے ،مکان مالکان اور پرپرٹی ڈیلرز،فوٹو ویڈیو گرافی ،بیوٹی پارلرز،کھوکھے اوررہڑھی بانوں سمیت دیگر شعبہ جات کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کی تجویز ہے ۔
موجود ہ حکومت نے اقتدار آنے سے قبل جو وعدے کیے تھے وہ پورے ہو تے نظر نہیں آئے ،ابھی حکومت کی ساری توجہ معیشت کی بہتر ی کی طرف مرکوز ہے ۔کہا جارہا ہے کہ یہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے ،آئی ایم ایف کی سخت شرائط کی وجہ سے ملک کیلئے مشکل فیصلے کیے جاتے ہیں ،یہ بات اب قوم کو بھی سمجھ لینی چاہیے ۔
حکومت کہہ رہی کہ احتساب ہورہا ہے ،نیب عدلیہ آزادہے ،یہ خوش آئند بات ہے ،حکومت نے 10سال میں 24ہزار ڈالر کے اخراجات کی تحقیقات کر رہی ہے اور اس کیلئے ہائی پاورکمیشن بن چکا ہے ۔عوام بلاتفریق احتساب چاہتے ہیں ۔ایسا احتساب چاہتے ہیں جس میں پسند وناپسند نہ ہو۔
عوام ریلیف چاہتے تھے جو انہیںا بھی تک ملتا نظر نہیں آرہا ،ان تمام چیزوں میں جو مہنگی ہو چکی ہیں اور بجٹ کی منظوری کے بعد ان تمام اشیا پر مہنگا ئی کا طوفان آنے والا ہے ۔
بجٹ کے بعد ایف بی آر کے چیئر مین شبر زیدی کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بجٹ سے عوام متا ثر نہیں ہوں گے ،سیاست کا مزاج بن چکا ہے ،نہیں کا مطلب ہاں ہوتا ہے اور ہاں کا مطلب نہیں ،لہٰذز شبرزیدی کے بیان کو بھی اسی تناظر میں لینا چاہیے ،عوام بجٹ سے متاثر ہوں گے ۔ ملک میں چند کروڑسرکاری ملازم باقی نجی شعبوں سے منسلک ہیں ،بہت سے لوگوں کی تنخواہ 15ہزارسے20یا 25سے 30ہزار ہوتی ہے ،اس آمدن میں گزارا،علاج اورضروریات زندگی پوری کرنا انتہائی مشکل عمل ہے ۔سرکاری ملازمین کی تنخواہیں باقاعدگی سے بڑھا دی جاتی ہیں ،70سال سے نجی شعبے کو نظرانداز کیا جا رہا ہے ،جبکہ سرکاری ملازمین سے زیادہ تعداد نجی شعبے سے منسلک لوگوں کی ۔
حکومت کو اس بارے میں کچھ سوچنا چاہیے اورایسا سسٹم بنا نا چاہیے جس میں نجی ادارے پابند ہوں کہ وہ ملازمین کی تنخواہیں ان کے اسکیل کے مطابق دیں گے،انہیں صحت اور ای او بی آئی جیسی سہولتیں ملیں گی اوران کی تنخواہیں سالانہ بنیادوں پر بڑھا ئی جائیں گی ،ایسانہ کرنے والے نجی اداروں کیخلاف کارروائی بھی کی جائے ،جس سے ٹیکس لیا جائے انہیں ہیلتھ کارڈ وودیگر سہولتیں دی جائیں تاکہ وہ خوشی سے ٹیکس ادا کریں اوران کو درپیش صحت سے متعلق مسائل حل ہوسکیں ۔
بجٹ سے عوام پرمہنگائی کے منفی اثرات مرتب ہونا یقینی ہے، تاہم عوام کو ریلیف بھی دینا ہوگا ،تاہم صورتحال برقرار رہی توپی ٹی آئی کی حکومت سے عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملے گا ۔




































