
زین صدیقی
ماضی میں قومی کرکٹ ٹیم کی شکست پر کہا جاتا تھا”تم جیتو یا ہارو ہمیں تم سے پیارہے“ مگر وقت کے ساتھ قوم اس مصرہ
کو فراموش چکی ہے اوروہ پاکستانی ٹیم کی شکست کے ساتھ کسی طور کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں ہے ،کیونکہ قومی کرکٹ ٹیم شائقین کے اپنی کارکردگی سے مسلسل مایوس کررہی ہے ۔برطانیہ میں ہونے والے ورلڈ کپ 2019 کے حالیہ پاک بھارت میچ میں میڈیا نے ہمیشہ کی طرح قوم میں بھرپور جذباتی کیفیت پیدا کی ،یہ روایتی عمل تھا ،اس لیے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا مقابلہ روایتی حریف کے ساتھ تھا،مگر قوم کووہی مایوسی ملی جس کا اندیشہ تھا ،قومی ٹیم ورلڈ کپ 2019میں شرکت کیلئے تیاری اور امید کے ساتھ گئی تھی مگرنتیجہ سب کے سامنے ہے ۔
ورلڈکپ میں اب تک کے مقابلوں میں پاکستان اوربھارت 7مرتبہ مدمقابل آ چکے ہیں مگر پاکستان بھارت سے ایک میچ بھی نہیں جیت سکا،جبکہ اب تک کھیلے گئے 132 میچوں میں سے پاکستان نے 74بھارت نے 55 میچوں میں فتح حاصل کی ۔
بھارت نے پاکستان کو ایک نہ آدھے 89رنز سے شکست دی۔اس میچ کو وزیراعظم نے بھی دیکھا بلکہ کپتان سرفراز احمد کو ٹاس جیت کر بیٹنگ کر نے کا بھی مشورہ دیاتھا ،مگرکپتان سرفراز احمد نے اس مشورے کو نظرانداز کردیااور میچ کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ درست تھا ۔ہم یہ بھی توقع کر رہے تھے کی کپتان موسم اور بارش کو قصور وار ٹھہرائیں گے لیکن یہ ان کی مہربانی ہے کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا اورکرتے بھی کیوں کیا قوم کی آنکھیں نہیں تھیں کے وہ دھول جھونکتے ۔ تمام ہی کھلاڑیوں نے دل کھول کر غیرذمہ دارانہ بیٹنگ کی ۔
وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اس دوران ایک بیان بھی جاری ہوا تھا کہ جس میں انہوں نے سرفراز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ” ریلو کٹوںپر انحصار نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا، تاہم کپتا ن سرفراز ہی اس میچ میں ریلو کٹے سے زیادہ کردار ادانہیں کرسکے اور12رنز اسکور کر کے کلین بولڈ ہوئے ۔میچ میں فخرزمان اوربابر اعظم 104رنز کی پارٹنر شپ بنا سکے۔باقی تمام کھلاڑیوں کو کردارمایوس کن رہا ،موصف کپتان سرفراز کو تو وکٹوں کے پیچھے کیپنگ کے دوران جمائی تک لیتے دیکھا گیا ،اگروہ وہاں نہ کھڑے ہوتے تو شاہد انہیں کوئی محو استراحت ہو نے سے نہ روک پاتا۔
موجود ہ ورلڈ کپ میں پاکستان نے تین میچ ہارے ایک جیتا اورایک بارش کی وجہ سے برابر رہا یعنی پاکستان نے اب تک 3پوائنٹس حاصل کیے ہیں۔قوم میں اس میچ میں ناکامی کے بعدشدید مایوسی پھیل گئی ،قومی ٹیم 302رنز کے جواب میں 40اورزمیں 6وکٹوں کے نقصان ہر 212بناسکی۔ورلڈ کپ 2019کے اسکورپوائنٹس بورڈ پر پاکستان 9ویں نمبر زپر ہے۔
بھارت کے ساتھ پاکستانی کھلاڑی جم کر نہیں کھیلے۔ایسا محسوس ہوا کہ کسی کھلاڑی نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی ،غیرذمہ دارانہ بیٹنگ کی ،شارٹ بھی غیرمناسب تھے ،کپتان سرفراز احمد سمیت کئی کھلاڑ کلین بولڈ ہوئے جب کہ اس سے قبل بھی تمام میچز میں بھی غیرذمہ دارانہ بیٹنگ دیکھی جاتی رہی ہے ،کئی میچز میں کھلاڑی غیرذمہ دارانہ شارٹ لگاتے ہوئے کیچ آو¿ٹ ہوئے تھے۔ورلڈ کپ کے اب تک کے تمام میچز میں کھلاڑیوں کی ناقص کارکردگی کا جائز لینے کی ضرورت ہے ۔
میچ میں بھارت کے ساتھ پا کستانی ٹیم کے کھلاڑیو ں میں کوئی جوش نظر آیا نہ جیت کی لگن ۔باقی کام بارش نے تمام کیا،جبکہ پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی گھبرائے ہوئے اور پریشر میں کھلتے ہوئے دیکھے گئے۔بھارت کے ساتھ میچ میں یہ عموماً نفسیاتی عوامل کارفرما ہوتے ہیں ،بھارت کی ٹیم بھی اس کا شکار ہوتی ہے ،مگراس میں اس بار نہ کوئی گھبراہٹ دیکھنے کوملی نہ کوئی بے چینی اوراس نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بہترین رنز اسکور کیے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ بھارت کے ساتھ کھیل میں پریشر کیوں لیاجائے ،اس کیلئے ٹیم کوسمجھنے کی ضرورت ہے کہ اورنفسیاتی لحاظ سے خود کو اس بات پر پکا کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم بھارتی ٹیم سے کسی طورکم نہیں ،ہم ان کو شکست دیں گے اورملک و قوم کی خاطر شکست دیں گے۔
92میں عمران خان کی قیادت قومی ٹیم نے ورلڈ کپ جیتا تھا ،ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے کینسراسپتال بنایا اور سیاست میں آئے،ان کے دور میں پاکستانی کرکٹ ٹیم ایک اچھی اور مضبوط ٹیم تھی ،عمران خان کا ایک بیان آج تک ہمیں یاد ہے کی وہ بھارت کو کہا کرتے تھے کہ وہ مسئلہ کشمیر کا فیصلہ کرنا چاہتاہے تو ہمارے ساتھ کرکٹ کے میدان میں کرلے ،یعنی اس وقت جیت اورجنون کی کیفیت بام عروج پرتھی اورعمران خان کو اپنی ٹیم پر مکمل اعتماد تھا کہ وہ بھارت کو شکست دے سکتا ہے۔
ماضی میں پاکستانی کھلاڑیوں پرمیچ فکسنگ ،بکیو ں سے رابطوں کے الزاما ت لگے،کئی کو آئی سی سی سے سزائیں بھی ہوئیں ،جرمانے بھی ہوئے ،مگر کرکٹ ٹیم کے معاملات میں شفافیت نظر نہیں آئی ، کہیں ٹیم مینجمنٹ پرالزام لگتا ہے کراچی کے لڑکوں میں ٹیم میں شامل نہیں کرتی،کہیں ٹیم میں کھلاڑیوں پرالزام لگتا ہے کہ کپتان کی بات نہیں سنتے،آج کل یہ بات شدت سے کہی جارہی ہے کہ ٹیم میں گروپ بندی ہے انتشارہے اورکھلاڑی کپتان کی بات نہیں سنتے۔یہ قوم کے ساتھ بڑا مذاق ہے،دنیا بھر میںکھلاڑی اپنے ملک اور عوام کیلئے کھیلتے ہیں ،یہ سیاست اورگروب بندیوں سے ٹیم کا پیڑاغرق کرنے پر تلے ہوئے ہوئے ،حالانکہ آپ کو تو کھیل کا بھرپور معاوضہ بھی ملتا ہے۔ کسی ٹیم میں گروپ بندی ،سفارش اورمیرٹ کے قتل جیسے زیریلے عوامل ہوں تو یہ خطرناک بات ہے۔
پی سی بی کی کرکٹ کمیٹی کے چیئرمین محسن حسن خان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے ،انہوں نے ٹیم کی کارکرگی کو مایوس کن قراردیا ہے مگراستعفے کی وجوہات نہیں بتائیں ۔پی سی بی نے بھی پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کو مایوس کن قراردیا ہے۔قوی امکان ہے کہ ورلڈ کپ کے بعد قومی ٹیم کی وطن واپسی پر ٹیم اس میں اکھاڑبچھاڑ کی جائے گی۔تاہم وزیراعظم عمران خان کو چاہیے کہ سیاست کی طرح قومی کرکٹ ٹیم میں بھی آپریشن کریں، کھلاڑیوں،کوچ ،چیف سلیکٹراور سلیکٹرزکا بھی احتساب کریں اورپتا لگائیں کہ ٹیم میں انتشارپھیلانے اور گروپ بندی کرنے والے عناصر کون ہیں ۔قوم کے جذبات اور احساسات سے کھیلنے والے کون لوگ ہیں اورانہیں ٹیم سے نکال باہر کریں ۔قومی کرکٹ ٹیم میں تمام کھلاڑی میرٹ پر شامل کیے جائیں اورایسے کھلاڑی شامل کیے جائیں جو ملک کی خاطر کھلیںاوران کا گروپ بندی یا انتشار سے دور کا بھی واسطہ نہ ہواور وہ صرف بھارت ہی سے نہیں ہر ٹیم کے ساتھ قومی جذبے کے ساتھ کھلیں ،ہمیں اس بات کا بھی ادراک ہے کہ کھیل میں ہار جیت ہوتی ہے لیکن کس ٹیم نے مخالف ٹیم سے کس قدر جانفشانی سے مقابلہ کیا یہ سب کونظر آجا تا ہے، قومی کرکٹ ٹیم کو صاف شفاف بنانے کیلئے آج قدم نہیں اٹھایا گیا تو اس کا حال بھی ہاکی کی طرح نہ ہوکہ اس کانام لیوا بھی کوئی نہ ہو۔




































