
زین صدیقی
وہ بزرگ سماجی رہنما تھے ،انہوں نے پوری زندگی لوگوں کی خدمت کیلئے وقف کر رکھی تھے ۔انڈیاکے شہر دہلی میں آنکھ کھولی ۔جب
پاکستان آئے تو آپ 3سال کے تھے ۔یہاں آپ نے اس وقت کے سرکاری اسکول آزاد رہنما اسکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔نئی کراچی کے سیکٹرالیون ڈی میں آباد ہوئے ۔آپ کو سینئرصحافی مرحوم شبیر نظامی میڈیا دنیامیں لائے جہاں آپ شعبہ مارکیٹنگ سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔آپ نے روزنامہ جسارت سے مارکیٹنگ میں خدمات انجام دیں اورتقریباً 30سال تک وابستہ رہے ۔اس کے ساتھ دیگر رسائل وجرائد میں بھی شعبہ مارکیٹنگ میں خدمات انجام دیتے رہے ۔آپ سینئر صحافی اورمدیر اعلیٰ ہفت روزہ تکبیر شہید صلاح الدین کے خالہ زاد بھائی بھی تھے ۔
رحمت بھائی میں خدمت کا جذبہ شروع ہی سے تھا ،انہوں نے شعبہ مار کیٹنگ میں اپنے وسیع تعلقات کو نیکی کے کاموں کیلئے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اور1997میں رحمت ویلفیئر ٹرسٹ کے نام سے فلاحی ادارہ قائم کیا ۔انہوں نے 120گز کے مکان میں مفت اسکول کی بنیادڈالی جو دو شفٹوں شام اور صبح کی شفٹ میں بچوں کو تعلیم دیتا تھا ،چونکہ رحمت بھائی کو بخوبی ادراک تھا کہ نئی کراچی سیکٹر الیون ڈی پسماندہ علاقہ ہے اور یہاں کے لوگوں کی بھرپور مدد ہونی چاہیے ۔اس علاقے کے لوگوں کو باشعور بننا چاہیے ،اس لیے انہوں نے تعلیم کا بیڑا اٹھایا اوربچوں اور نوجوانوں کو اس جانب راغب کیا ۔ابتدا میں انہوں نے میٹرک ،انٹرنوجوانوں اور میٹرک سے کم تعلیم کے حامل بچوں کو دعوت دی کی وہ یہاں آکر اپنی تعلیمی استعداد سے چھوٹی کلاسز کو پڑھا ئیں ،جو بچے یہاں پڑھتے تھے اپنی کلاس سے چھوٹی کلاس کو تعلیم بھی دیتے تھے ،یوں یہ سلسلہ چل نکلا یہ ایک خصوبصورت سسٹم تھا ۔پڑھا نے والوں کی اپنی تعلیم سے بھی دلچسپی بڑھ گئی ۔
اس وقت سینٹر میں صبح اور شام کی شفٹ میں تقریباً تین سو طلبہ وطالبات زیر تعلیم ہیں ۔ادارے کا نام رحمت الا قراایجوکیشنل ہائی اسکول رکھا گیا ۔اس ادارے میں جہاں بچوں کی کتب ،کاپیوں کی ضروریات پوری کی جاتیں ،وہاں مالی طور پرکمزور بچوں کے اہل خانہ کو راشن بھی فراہم کیا جاتا تھا ،جبکہ بچوں میں عیدالفطر پرعیدی تقسیم کی جاتی اور ملبوسات بھی تقسیم کیے جاتے تھے ۔
رحمت بھائی سے میرا روزنامہ جسارت سے چونکہ 2000سے تعلق تھا ۔اتفاق سے میں2005میں رشتہ ازدواج سے منسلک ہواتومیں نے رہائش نئی کراچی میں فور کے چورنگی کے پاس فلیٹ میںاختیار کی تھی تو یوں رحمت بھائی سے تعلق اور مضبوط ہوگیا پھر فیملی کے ساتھ بھی کئی بار وہاں جانا ہوا،یو ں رحمت بھائی کے آنا جانا لگا رہا۔
رحمت بھائی انتہا ئی مشفق انسان تھے،سادہ ،بااخلاق اور ایماندار تھے۔ان کی ذات میں تصنع نہیں تھا جیسے اندرسے نظرآتے تھے اندر سے بھی ویسے ہی تھے۔درمیانہ قداورباریش تھے ۔ہم نے انہیں ہمیشہ آزان کے ساتھ نماز کی فکر کرتے دیکھا ۔آپ کی عمر 2020میں 78برس تھی ،مگر اللہ پاک کا آپ پر خاص کرم تھا اوروہ یہ کہ آپ بڑے باہمت تھے ۔ان میں کسی قسم کی کوئی معذوری نہیں تھی ،نہ کسی سہارے سے چلتے تھے ،چال ڈھال بالکل نوجوانوں جیسی ،جذبہ اور ہمت ہمالیہ کے پہاڑ سے بھی بلند تھے۔
رحمت بھائی کو کبھی غمزدہ دیکھا نہ پریشان۔سابق ٹاو¿ن ناظم اور ٹرسٹ کے ٹرسٹی شفیق الرحمن عثمانی، چیف ایڈیٹر جسارت،سینئر صحافی اطہر ہاشمی،خالد صدیقی ،ٹرسٹی منظرعالم ،عدیل اظہر ،سہیل احمد ،سینئر صحافی خالد محمود جیسے جہاں دیدہ لوگ ان کے ساتھ تھے،اس لیے ان کے حوصلے بلند تھے۔وہ ان تمام افراد اوراپنے سے منسلک دیگر تمام لوگوں سے بے انتہا محبت کرتے تھے اوران سے مستقل رابطے میں رہتے تھے۔
رحمت بھائی ہرسال باقاعدگی سے عید قربان پر درجنوں جانوروں کی قربانی کرتے تھے اورتینوں دن اس کا گوشت اپنی نگرانی میں مستحقین تک پہنچاتے ۔ان کے رضاکار اس کام کیلئے تیار رہتے تھے،جبکہ کھالیں الخدمت کراچی کو دیتے تھے ۔رمضان میں وہ پوراماہ سحر اور افطار کا سامان خود تیار کرواکر 100 خاندانوں تک پہنچاتے ۔ٹرسٹ کے دروازے پر کوئی بھی سوالی آتا تو وہ اسے خالی ہاتھ نہیں جانے دیتے تھے ،اس کی کچھ نہ کچھ مدد ضرور کرتے تھے ،ہرسال رمضان میں 500 بیواو¿ں اور محتاجوں اور کمزوروں کو وہ راشن تقسیم کرتے جبکہ درجنوں خاندانوں کو وہ ماہانہ بنیاد پر راشن فراہم کرتے تھے۔
میں نے انہیں بحیثیت سماجی رہنما ایک عظیم انسان پایا ۔20سالہ تعلق میں کو ئی دن ایسا نہیں تھا کہ ان سے رابطے کے بغیر گزرا ہو ا،میں ان کی ہروقت خیریت دریافت کرتا رہارہتا تھا ۔ذراسابیمار ہوتے تو وہ پہلا فون وہ مجھے کرواتے تھے۔ اکتوبر 2019میں سانس کی تکلیف ہوئی تو لیاقت نیشنل گئے،جنوری 2020کے اختتام ہر ہارٹ پرابلم ہوئی تو این آئی سی وی ڈی پہنچے تو سب سے پہلے مجھے اطلاع کی ۔میں ہر جگہ ان کے پاس پہنچا ،یہ سب ان کی محبت کی وجہ سے تھا ،وہ مجھے اپنا بیٹا سمجھتے تھے۔
تقریبا ً7سال قبل میں نے انہیں مشورہ دیا کہ آپ طویل محنت کررہے ہیں ۔آپ کو اپنے کاموں کو میڈیا کے ذریعے اجاگر کرنا چاہیے ،میری اس بات کو سمجھتے ہوئے انہوں نے مجھے رحمت ویلفیئر ٹرسٹ کا میڈیا کوارڈینیٹر مقرر کردیا اور یوں رحمت بھائی سے تعلق اورمضبوط ہو گیا۔
رحمت بھائی جہاں سماجی کام بڑی خوبصورتی سے کررہے تھے ،وہاں وہ علاقے کے مسائل پر بھی دل گرفتہ رہتے تھے ۔علاقے میں کچرا پڑا ہو،یا نالوں کی صفائی کا معاملہ ہو،پانی کی بندش ہویا گیس کا بحران ،اسکولوں کے نظام کا مسئلہ ہو یا سیوریج کے تباہ حال سسٹم ،بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کامسئلہ ہویا کوئی اور پریشانی ،رحمت بھائی علاقے کے لوگوں کی آواز بن جاتے تھے وہ ان مسائل کو اجاگر کرتے اوراورارباب اختیار کا دروازہ کھٹکھٹاتے رہتے تھے۔
جب بھی کوئی ان کے یہاں مہمان بن کرجاتا وہ اس کا پرتپاک استقبال کرتے تھے ،ان کی مسکراہٹ آج بھی ہمیں یاد ہے ،ان کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ دیکھی ۔کوئی فردآتا تو ٹرسٹ کے دفتر میں درجنوں بچوں اوربڑوں کی موجودگی کے باوجود وہ خود گلی سے کھانے پینے کی اشیا خرید لاتے ۔کوئی مہمان آتا اسے رکشا در کار ہوتا تو کسی کو کہہ کر رکشا منگوانے کے بجائے خود آدھا کلو میٹردورچل کربھی رکشالے آتے ۔بزرگی کے باوجود ان کی سستی اور کاہلی نام کو نہیںتھی ۔یہ میرے لیے حیران کن بات تھی ۔کئی بار وہ راشن لے کر خود مستحق تک پہنچ جاتے تھے ۔
رحمت بھائی اصولوں کے پابند تھے ۔وہ کسی کا ایک پیسہ رکھتے نہ ہی کسی کو ناجائز ایک پائی دیتے اور پیسے کو اللہ کی امانت سمجھتے تھے ،بیواو¿ں اور کمزوروں کی بچیوں کیلئے جہیز اور کھانے کاانتظام اور تجہیز وتکفین میں معاونت بھی ان کے کاموں کا حصہ تھا ۔ان کے کئی دوست ان کے صحت اور کھانے پینے کیلئے ہرماہ باقاعدگی سے ان کے اکاو¿نٹ میں پیسہ بھیجتے تھے جو وہ اپنے اوپر لگانے کے بجائے ٹرسٹ کے فلاحی کاموں پر خرچ کردیتے۔ڈونر ز کواس بات پر افسوس ہوتا تھا ،مگر انہوں نے رحمت بھائی کو پیسے بھیجنے کا سلسلہ بند نہیں کیا ۔
رحمت بھائی کی سادگی کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔آپ ٹرسٹ کے ایک کمرے میں رہائش پذیر تھے ۔اس کمرے میں رنگ وروغم تھا نہ دوران لوڈشیڈنگ یوپی ایس کی سہولت وہ اپنے لیے سہولتیں پیدا کرنے کے بجائے غریب اور محتاجوں کی فکر میں لگے رہتے تھے۔انتقال سے تین روز قبل 5فروری کو میں ٹرسٹ کے دفتر میں تھا دوروز قبل میں نے انہیں بچوںکیلئے کشمیر کا پروگرام کرنے کو کہا تو انہوں نے کشمیر ڈے پر پروگرام رکھا ،انہوں نے مجھے خطاب کیلئے کہا،میں نے بچوں سے اظہار خیال کیا ۔رحمت بھائی نے ساری عمرشادی نہیں کی تھی ،ہم کبھی کبھی ان سے مذاق بھی کرتے کہ آپ جوانی میں شادی نہیں کرسکے تو اب گھربسا لیں ،وہ ہنس کر بات آئی گئی کردیتے تھے۔
آپ کی بڑی خواہش تھی کہ رحمت الا قرا میں بچوں کو دینی تعلیم دی جائے لہٰذاوہ اکثر دینی پروگرامات کرواتے رہتے تھے ۔وہ چاہتے تھے کہ بچے علم دین سیکھیں ۔وہ علاقے کے لوگوں سے بھی کہتے تھے کہ بچوں کو پڑھائیں ۔رحمت الاقرا میں پڑھنے والے درجنوں بچے انجینئر ،ڈاکٹربن چکے اور زندگی کے مختلف شعبہ جات میں اعلیٰ عہدوں پر فائزہیں ۔
رحمت بھائی 2018میں جب علیل تھے ،تو انہوں نے مجھے وصیت ریکارڈ کروائی ،جس میں انہوں نے مجھے اپنا بیٹا کہا اور مجھ سے بارہا محبت کا اظہار کیا ،یہ ان کی محبت تھی۔
رحمت بھائی سانس ،دل اوربلڈ پریشر کی تکلیف میں مبتلا تھے ،8فروری کو دل کی تکلیف ہوئی ،آپ اپنے پیروں پر چل کر این آئی سی وی ڈی پہنچے، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں آئی سی یو میں رکھا ، رات 9بجے ان کے بھتیجے احسن کو رحمت بھائی کیلئے دعاکی ہدایت کی اورساڑھے 9بجے خالق حقیقی سے جا ملنے کی اطلاع دی یوں ان سے دو دہا ئیوں پر محیط رفاقت ٹوٹ گئی ۔رحمت بھائی کا انتقال ان کے چاہنے والوں کیلئے بری خبر تھی ۔رحمت بھائی عظیم انسان تھے ،45سالہ زندگی میں میں نے ایسا ہمدرد اور مخلص فرد نہیں پایا ۔
رحمت بھائی ہمیں سوگوار کرگئے،انہیں نئی کراچی کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا ،نائب امیرجماعت اسلامی پاکستان اسد اللہ بھٹو نے نماز جنازہ کی امامت کی۔
رحمت بھائی کی جدائی کے باعث ہمارے دل غم میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔رحمت ٹرسٹ کے تمام عہدے داران وٹرسٹیز نے ان کے مشن کو جاری رکھنے کا عزم کیا ہے اوراس سلسلے میں اجلاس منعقد کیا جس میں رحمت بھائی کے انتقال کے بعد شفیق الرحمن عثمانی کو ٹرسٹ کا چیئر مین او رمجھ نا چیز کو ٹرسٹی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ،جبکہ رحمت بھائی کے بڑے بھائی سید اکبر علی کو سرپرست اعلیٰ بنایا گیا ہے ۔
رحمت بھائی کے کام اوران کا بلند کردار انشاللہ ان کیلئے جنت کا وسیلہ بنیں گے ،مگران کے ادھورے مشن کی تکمیل کی ضرورت ہے ۔ان کے قریبی ساتھی وٹرسٹی عدیل اظہر نے رحمت بھائی کے مشن کو آگے بڑھانے کیلئے تعاون کا سلسلہ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے ،میری دعا ہے کہ رحمت بھائی اور ٹرسٹ سے منسلک ہر ہر اس فرد کو اللہ تبار ک وتعالیٰ استقامت عطافرمائے ( آمین )




































