
زین صدیقی
سابق ناظم کراچی نعمت اللہ خان کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔آپ نے ساری زندگی اقامت دین کی سربلندی اور خدمت خلق میں گزاری
۔1930میںانڈیا کے شہر اجمیر میں پیدا ہوئے ۔17سال کے تھے جب انڈیا سے ہجرت کرکے اکیلے پاکستان تشریف لائے۔پاکستان میں پہلی رات فٹ پاتھ پر گزاری ۔اس کے بعدمزار قائد کے عقب میں چھونپڑی میں رہے۔آپ نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا ۔سندھ مسلم لا کالج سے وکالت کی تعلیم پائی۔ صحافت میں ماسڑز کی ڈگری حاصل کی ۔آپ ایک ایماندار،جہد مسلسل کرنے والے ،انسانیت کا درد رکھنے والے انسان تھے ۔آپ اقامت دین کی سربلندی کیلئے جماعت اسلامی سے جڑے اورطویل عرصے جماعت اسلامی کراچی کے امیر کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دیتے رہے ۔
خان صاحب سے ایک نسبت سے میری بہت سی ملاقاتیں ہوئیں ۔آپ سادہ طبعیت کے مالک تھے ،نرم مزاج ،مدبر ،بااخلاق اور علم وعمل کا پیکر تھے ۔آپ کے اندر تکبر نام کی کوئی چیز نہیں تھی ۔
آپ اس وقت کے صدرجنرل ( ر)پرویز مشرف کے دور میں آپ نئے بلدیاتی نظام کے تحت پہلے ناظم کراچی بنے توآپ نے کر اچی کی بے مثال خدمت کی۔ آپ نے کراچی کوملنے والے 6ارب کے ترقیاتی پیکیج کو43 ارب کروایا ۔کے تھری منصوبہ منظور کرایا اوراسے کم سے کم لاگت میں مکمل کروایا ۔آپ نے کراچی کے تمام پارکوں کی تزئین وآرائش کروائی اورانہیں عوام کیلئے مثالی پارکس بنایا ۔آپ نے شہر میں گرین کراچی کلین کراچی کے عنوان سے شہر کی صاف ستھرا اورسرسزوشاداب بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کیا۔ شہر کے پیشتر ترقیاتی کام آپ کی نگر انی میں مکمل ہوئے ۔سابق ناظم کراچی نعمت اللہ خان نے جو ماڈل منصوبے تیار کیے اوروہ انہیں پایا ئے تکمیل کو نہ پہنچا سکے وہ منصوبے مصطفی کمال کے دور میں مکمل ہوئے ۔
نعمت اللہ خان رکن سند اسمبلی بھی رہے ،آپ نظامت سے فارغ ہوئے توآپ الخدمت فاو¿نڈیشن پاکستان کے صدر بنے ۔آپ دوران نظامت تھر پاکر جایا کرتے تھے اور وہاںآپ نے تھر کے لوگوں کی مشکل زندگی کو قریب سے دیکھا اور وہاں لوگوں کی مشکلات اور ضروریات کو جانچتے ہوئے پانی اور اسکول کے منصوبے شروع کیے ۔آپ کی نگر انی میں سیکڑوں
کنویں کھودے گئے اور دیگر منصوبے مکمل کیے گئے ۔آپ کی ایک عادت تھی کہ آپ جہاں کنویں کا افتتاح کرتے وہاں کھدائی سے قبل اس مقام ہر دورکعت نفل ضرور پڑھتے تھے ۔عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ جہاں وہ کنواں کھدواتے تھے اورنفل ادا کرتے تھے، وہاں حیرت انگیز طور پر کنویں کا پانی میٹھا نکلتاتھا۔آپ نے وہاںچونراکے نام سے اسکول قائم کیے جہاں سیکڑوں بچے علم حاصل کر رہے ہیں ۔
آپ نے کراچی کی بے مثال خدمت کی اور اسے آپ کے مخالفین بھی آپ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں ۔آپ کی زندگی کی ایک اور حیران کن بات یہ تھی آپ جب تک ناظم کراچی رہے آپ کو دوران نظامت جو بھی تنخواہ ملتی تھی وہ آپ نے اکاو¿نٹ سے کبھی نہیں نکلوائی بلکہ آپ نے پوری کی پوری رقم دورنظامت کے اختتام پر چیک کی صورت میں الخدمت کو عطیہ کردی ۔
ایسی مثال ملک کی تاریخ میں ملنا مشکل ہے ۔آج کا سیاستدان مال بنانے اور پیسہ کمانے کو ترجیح دیتا ہے ،مگر نعمت اللہ خان نے اپنی ذات کیلئے کوئی مال نہیں کمایا ۔آپ ایماندار ،متقی انسان تھے ۔
ہم نے بطورصحافی تھر پارکر میںالخدمت فاو¿نڈیشن پاکستان کے تحت اجتماعی شادیوںکی تقریب اٹینڈ کی ،جس میں نعمت اللہ خان صاحب مہمان خصوصی تھے ،آپ نے اس تقریب سے خطاب کیا۔ہم نے آپ کی کئی اور تقریبات بھی اٹینڈ کیں، جن میں آپ نے کچھ یوں اظہارخیال کیا ،ہمارے خیال میں یہ ان کی نہایت اہمیت کی حامل گفت گو تھی ۔
آپ نے تھر پارکر میں اپنے خطاب میں کہا کہ جماعت اسلامی غلبہ دین کی جماعت ہے اوریہ نہ صرف اقامت دین کا کام کر رہی ہے بلکہ بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی میں لانے کی جدوجہد بھی کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اورالخدمت لوگوں کی بلاتفریق خدمت کر رہی ہے ۔عوام اسے مانتے ہیں ،اس کا اقرار کرتے ہیں ،مگر جب ووٹ دینے کی باری آتی ہے تو لوگ جماعت اسلامی کا انتخاب نہیں کرتے ۔ملک کی تقدیر بدلنی ہے توآپ کو دیانتدارلوگوں کا انتخاب کرنا ہوگا ۔
نعمت اللہ خان نے کہا کہ ووٹ کی طاقت کو پہچانیں ۔ووٹ کا مطلب شہادت ہے کہ جس کو آپ ووٹ دے رہے ہیں وہ صادق اور امین ہے۔اللہ کے یہاں ووٹ کا حساب مانگا جائے گا ،اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے تمیں ووٹ کا حق دیا تھا ،تم نے اچھے حکمرانوں کا انتخاب کیوں نہیں کیا ۔
یہ نعمت اللہ خان کے تاریخی الفاظ تھے ،جن کو عقل والے لوگ ہی بخوبی سمجھ سکتے تھے ۔نعمت اللہ خان نے اپنی پوری زندگی جہد مسلسل میں گزاری ،آپ بلند کردارکے مالک تھے ۔آپ کو خدمت کے کاموں کی وجہ سے بابائے کراچی اور بابائے خدمت کے القابات بھی ملے ۔
آپ نے اپنی زندگی میں جوکام کیے وہ ہمیشہ صدقہ جاریہ کے طور پربرقرار رہیں گے ۔آپ 25فروری 2020بروزمنگل کلفٹن کے ایک اسپتال میں خالق حقیقی سے جاملے ۔آپ کے انتقال کی خبر سن کر ایسالگا کہ کراچی یتیم ہوگیا ۔اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نعمت اللہ خان صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ( آمین )




































