
زین صدیقی
وزیرِاعظم عمران خان نےسات ماہ بعد ٹرانسپورٹ، سیوریج اور پانی کے منصوبوں سےمتعلق کراچی کے لیے 162 ارب روپےکے خصوصی پیکیج کا اعلان
کردیا ہے۔ پیکیج کا اعلان نہایت خوش آئند بات ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نےاقتدار میں آنےسے قبل جاری اپنے100روزہ پلان میں کراچی کے ٹرانسپورٹ مسائل کو خصوصی طورپرشامل کیا تھا۔
پی ٹی آئی کےحکومت میں آنے اورکراچی سےانتخابات میں واضح برتری کےبعد شہرقائد کے باسیوں کی توجہ مکمل طورپروزیراعظم عمران خان کی جانب لگی ہوئی تھی کہ وہ کراچی کی جانب کب دیکھیں گےاوراس شہر کے مسائل کب حل ہوں گے۔بہت سے لوگ تواس حوالے سے شدید مایوسی کا بھی شکارتھے کہ شاید ان کے مسائل اب حل ہونے والے نہیں ہیں۔
وزیراعظم نے گورنر ہاؤس میں منعقدہ تقریب میں کراچی کیلئے پیکیج کا اعلان کرکے تمام خدشات اورمایوسیوں کا خاتمہ کردیا ہے۔
پیکیج کےاعلان سے قبل مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے کراچی کے لیے 200ارب کے پیکیج کا مطالبہ کیا جا رہا تھا جوپورا نہیں ہوسکا۔اس کی وجہ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال،زرمبادلہ کے کم ذخائر،ماضی میں لیےگئے قرضوں کا بوجھ وہ عوامل ہیں جن سے نبردآزما ہونےکیلئےنئی حکومت کو چیلنجز کاسامناہےاوروزیراعظم پران تمام مسائل کو حل کرنے کیلئےامید نظرآتے ہیں ۔
وزیراعظم نے یہ بھی فرمایا ہےکہ کراچی پورے پاکستان کی ترقی ہےاوراس کی ترقی ضروری ہےاوراس شہر سے کیے گئے وعدوں کو نہیں بھول سکتا ،یہ خوشی کی بات ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو کراچی یاد ہے،یاد بھی کیوں نہ ہو کراچی سے پی ٹی آئی نےعام انتخابات میں ناقابل فراموش کامیابی حاصل کی ہےاوریہاں کےلوگ پی ٹی آئی ہی سے توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔
ماضی میں یہاں کی اہم اسٹک ہولڈرجماعت نے 35برس حکمرانی کی مگرکیا کچھ بھی نہیں،نہ پانی کا مسئلہ حل کیا نہ بجلی کا نہ صحت وصفائی کیلئے کام کیےنہ لوگوں کو مایوسی سے نکالا جوان کاموں کے نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں میں تھی۔
ان 35برسوں کےدوران دومواقع ایسے آئے جب شہر میں ترقیاتی کام ہوئےاورانہیں شد ت سے محسوس بھی کیا گیا وہ دور نعمت اللہ خان اور مصطفیٰ کمال کادور تھا جب ان دونوں حضرات نے بطور سٹی ناظم شہر کانقشہ بدل دیا۔
موجودہ دور میں کراچی کےبیشترعلاقوں کی حالت زارابتر ہے،21ویں صدی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ترقی یافتہ دور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب دنیا بہت آگے جا چکی ہے،کراچی کے گلی کوچوں میں رہنے والے لوگ پستی کی زندگی بسر کر رہے ہیں ،نہ لوگوں کو پانی دستیاب ہے ،نہ صفائی ستھرائی ہے ،گٹر ابل رہے ہیں ،علاقہ مکینوں کا گزرنا محال ہے،گندگی کے ڈھیر ہیں ،سرکاری اسکولوں میں سہولتیں نہیں ہیں،بہت سے اسکولوں میں بجلی ہے نہ پانی اوران تمام خرابیوں کو حل کرنےوالا کوئی نہیں ہے۔عوامی نمائندے انتخابات میں فتح کے بعد ایسے غائب ہوتے ہیں جسے ان کا علاقہ کوئی تعلق نہیں۔سندھ حکومت بھی یہ مسائل حل کرنے سے قاصر ہے۔
70سال میں اگر ہرعوامی نمانندہ اللہ کا خوف دل میں رکھتےہوئے ملنے والا فنڈ اپنے گلی محلوں پر ایمانداری سےخرچ کرتا تو یہ ملک حقیقت میں جنت بن جاتا۔ ذاتی مفادات،مقصد کے لیےسیاست ،دہشت گردی اورکرپشن نے اسے 100سال پیچھے دھکیل دیا اورعوام کو پستی میں ڈال دیا۔نہ یہاں تعلیمی نظام اچھا ،نہ گلی محلوں کی حالت زار اچھی ،نہ آپ اپنا جائز کام جائز طریقے سے کرواسکتے،یہ سب وہ مسا ئل ہیں جن کا شہریوں کو سامنا ہے۔
وزیراعظم کےاعلا ن کردہ پیکیج مجموعی طور پر 18 تجویز کردہ منصوبوں کیلئے ہے۔ان منصوبوں میں پبلک ٹرانسپورٹ کے 10 منصوبے اور سیوریج اور پانی کے 7 منصوبے ہیں۔
وزیراعظم نےکراچی کوسرسزوشاداب رکھنےپانی کے ضیاع کو روکنےاوراسے نظرانداز نہ کرنے کی بھی بات کی ہے ،ہمیں امید ہے کی عمران خان کی حکومت جس اخلاص کے ساتھ ملک کی تقدیر بدلنے کیلئے نکلی ہے،اس کو برقرار رکھتے ہوئے شہر کراچی کے ان مسائل پر بھی کام کرے گی جس کی ہم نے نشاندہی کی ہے۔
شہر میں صحت وصفائی کے اقدامات ،نئے سیوریج نظام اورپانی کی لائنوں کی تنصیب ،کے فورمنصوبے کی تکمیل ،ٹرانسپورٹ مسائل کا حل ،شہربھرکے گلی محلوں میں سٹرکوں کےنئے انفرااسٹرا اسڑکچرکا قیام اوردہشت گردی واسٹریٹ کرائمز کا خاتمہ یہ وہ مسائل ہیں جن کے ہمیشہ سے کراچی اوراہلیان کراچی کوسامنارہا ہے اوران کو حل کرنے کی ضرورت رہی ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ کراچی کے شہریوں نے عام انتخابات 2018میں کامیاب کروا کےپی ٹی آئی حکومت اوران کے نمائندوں کو مسائل کے حل کا بھرپور موقع فراہم کیا ہے،اگر وہ یہ مسائل حل کرتے ہیں توآئندہ انتخابات میں بھی اہلیان کراچی انہیں ویکم کریں گے۔





































