
زین صدیقی
کورونا وائرس نے ملک کے نظام کوبری طرح متاثر کیاہے۔ جہاں صنعتوں کا پہیہ رک گیا،وہیں ملک بھر کے باسیوں کے معمولات
زندگی کو بریک لگ گیا ہے ۔اس دوران حکومت نے جواقدامات کیے وہ سب نے دیکھ لیے ،لیکن پاکستان میںصف اول کی این جی اوالخد مت کسی سے پیچھے نہیں رہی۔ہم نے8 اکتوبر2005کو بھی الخد مت کو تاریخ رقم کرتے دیکھا تھا اورآج 13سال بعدہم وہی تاریخی منا ظر دیکھ رہے ہیں ۔کورونا وائرس کی وبا کے پاکستان آمد کے ساتھ ہی پہلے دن سے الخدمت نے نہ کسی کا انتظار کیا ،نہ کسی توقف وتساہل کا مظاہرہ کیا بلکہ فوری طور پر ملک وقوم کا درد محسوس کر تے ہوئے خدمت کے کام کا آغاز کیا ۔الخدمت کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ملک بھر میںاپنے ہزاروںسے زائد رضاکاروں کی کھیپ رکھتی ہے اور رضاکار بھی وہ جو ہر مشکل وقت اور ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے ہر وقت تیار رہتے ہیں ۔
یہ نہایت اچھا انداز تھا کہ الخدمت نے ابتدائی طور پر کوورونا وائر س کے پھیلاو ¿ کو روکنے کیلئے آپریشن شروع کیا اور بڑے پیمانے پر لوگومیں ماسک ،ہینڈ سینی ٹائزراورہیڈ واش اورکورونا سے بچاو ¿ کیلئے احتیاطی ہدایات پر مبنی ہینڈ بلز تقسیم کیے اورساتھ ہی لوگوں میں کورونا وائرس سے بچنے کیلئے احتیاطی تدا بیر سے متعلق بینرز بھی آویزاں کیے ۔مرض بڑھتا گیا، الخدمت کی فلاحی سرگرمیاں بھی بڑھتی گئیں۔الخدمت نے شہر میں قائم آئسولیشن سینٹرز اور درجنوں علاقوں میں جراثیم کش ادویہ کا اسپرے کروایا ،جبکہ کسی تفریق کے بغیر مساجد ،امام بارگاہوں اور گرجا گھروں ، مندروں، فیکٹریوں ،ملوں ،بازاروں اورسرکاری وغیر سرکاری اسپتالوں میں اسپرے کا کام کیا گیا ۔
لاک ڈاو ¿ن کے باعث بڑی تعداد میں دہاڑی دار اور مزدور طبقہ سڑکوں پر آگیا اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں تھا ۔الخدمت نے ان پسماندہ علاقوں کا انتخاب کیا جہاں مزودور اور دہاڑی دار طبقہ رہتا تھا ،ان جگہوں پر جا کر الخدمت کے رضاکاروں نے کام شروع کیا اوروہاں یومیہ سیکڑوں مستحقین میں پکاپکایا کھا نا اور راشن تقسیم کیااور اس اندازمیں راشن اورکھانا تقسیم کیا کہ ان کی عزت نفس مجروع نہ ہو ۔شہر کے مختلف علاقوں میں سستی روٹی کے تنور قائم کیے گئے، جہاں شہریوں کو 5روپے کی روٹی دستیاب ہے ۔
لاک ڈاو ¿ن کی وجہ سے کراچی کی دوکروڑ سے زائد آبادی متاثر تھی اوراب بھی متاثر ہے ،اس مشکل گھڑی میں جب لوگوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو ئے ۔لوگ پریشانی اور اصطراب کا شکار تھے۔یومیہ اجرت کما کر گزار ا کرنے والوں کے گھروں میں حسرت ویاس اورمایوسی نے ڈیرے ڈالیے تھے ،الخدمت ان گھروں تک پہنچی اوران لوگوں کی مدد کی ۔یہ بڑے جذبے کی بات ہے کہ یہ معلوم ہو تے ہوئے بھی کہ کورونا وائرس کی وبا ایک خطرناک مرض ہے اورایک دوسرے سے لگنے والی بیماری ہے ،الخدمت کے رضاکاروں نے اپنی جان کی پروانہیں کی اورلوگوں کی مدد کواولین ترجیح دی ۔
صدرالخدمت کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کورونا وائرس کے آغاز ہی میں قاضی سیدصدر الدین کوڈائریکٹر ریلیف( Covd-19 (مقرر کیا ۔ڈائریکٹر ڈائیگنو سٹک سروسزانجینئر صابر احمداورڈائریکٹرشعبہ ہیلتھ ڈاکٹر اظہر چغتائی کو شعبہ صحت کے حوالے سے ذمہ داریاں تفویض کیں جبکہ انتظامی امورکی بہترین اورمنظم انداز میں انجام دہی میں ایگز یکٹو ڈائریکٹر راشد قریشی شروع دن سے ہی پیش پیش ہیں ۔

الخدمت کی جانب سے انتہا ئی منظم انداز میں کراچی شہر میں بڑے پیمانے پر خدمت کے کام جاری ہیں۔ اب تک لاکھوں
گھرانوں کو راشن ان کی دہلیز پر پہنچایا جا چکا ہے ۔یو میہ بنیادوں کچی اور پسماندہ آبادیوں میں تین وقت کا پکا پکایا کھانا بھی فراہم کیا گیا۔الخدمت نے شہر بھر میں راشن مراکز قائم کیے گئے جن میں سے بیشتر کا افتتاح حافظ نعیم الرحمن نے کیا ۔
الخدمت کی جانب سے قائم ان راشن سینٹرز میں لاکھوں راشن بیگ نہ صرف تیار کیے گئے بلکہ وہاں سے مستحقین کیلئے روانہ کرکے ان کی دہلیز پر پہنچایا گیا ۔صدر الخدمت حافظ نعیم الرحمن نے مذہبی ہم آہنگی کی مثال قائم کرتے ہوئے گرجا گھروں کادورہ کیااور وہاں چرچ کے منتظمین کولاک ڈاو ¿ن سے متاثر ہونے والی مسیحی برادری کیلئے راشن فراہم کیا ۔
الخدمت نے ضرورت مندوں اورمحتاجوں کاڈیٹا بیس موجود ہے ،جس کو فالو کیا گیا ۔الخدمت نے بازاروں کی بند ش اورلوگوں کی ضرورت کا احساس کرتے ہوئے لاکھوں لوگوں تک تازہ سبزیاں بھی پہنچائیں ،جبکہ لوگوں مرغی کا گوشت ہرفیملی تک پہنچانے کا کام شروع کیا ہے اور ابتدائی طور پرمرغی کا 5ہزار کلوگوشت تقسیم کیا گیا ہے ،جبکہ یومیہ ہزاروں افراد میں مرغی اور گائے کے گوشت کی تقسیم کا عمل رمضان المبارک میں بھی جاری رہے گا۔

الخدمت نے اس دران صحت کے شعبے میں بھی مثالی کام کیے ہیں۔ الخدمت نے سب سے پہلے اپنے تمام اسپتالوں کی خدمات کوڈ19- کے پیش نظرحکومت کوپیش کیںاور کھلے دل سے کہا کہ اس کے تمام اسپتال ملک وقوم پر آنے والے مشکل گھڑی میں خدمت کیلئے تیار ہیں ۔اسپتالوں کوبڑے پیمانے پرحفاظتی(PPE) کٹس فراہم کیں۔ان اسپتالوں میں سرکاری اسپتال شامل تھے ۔یہی وجہ ہے کہ حکومت سندھ نے تھرپاکرمیں صحت کی ناکافی سہولت کی جانچ کرتے ہوئے تھرپارکر میں قائم الخدمت اسپتال کو استعمال کیا اور وہاں آئسولیشن سینٹر قائم کیا ،جبکہ الخدمت نے اپنے گلشن حدید میں قائم اسپتال میںبھی آئسولیشن سینٹربنایا۔جہاں طبی عملہ اور پیرا میڈیکل اسٹاف خدمت کیلئے ہمہ وقت موجود ہے ۔اسی خدمت کے عمل کے دوران الخدمت کو ڈاکٹر عبد القادر سومر کی کورونا کے سبب شہادت کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔آپ مریضوں کے علاج کے دوران کوروناسے متاثر ہوئے اورکراچی کے ایک اسپتال میں خالق حقیقی سے جاملے ۔
الخدمت کے تحت ماہانہ بنیادوں پر سیکڑوں لوگوں کو راشن فرتاہم کیا جاتا ہے ،جبکہ اس کے تحت ہر سال ماہ مقدس ”رمضان المبارک“ میں راشن کی بڑی مقدارتقسیم کی جا تی ہے، جس سے مستحق گھرانوں کے لاکھوں ضرورت مند افراد استفادہ کرتے ہیں،مگر اس برس کورونا وائرس کی وجہ سے الخد مت نے بڑے پیمانے پر کام شروع کر دیئے تھے ۔خدمت کا یہ عمل رمضان بھی جاری وساری ہے ۔

پوری دنیا میں کورونا سے اموات کے سبب لوگوں میں خوف طاری ہے جبکہ وہاں معیشت کا پہیہ جام ہوچکا ہے ۔پاکستان میں بھی صورتحال کوئی مختلف نہیں ہے ،یہاں لوگوں میں موت کا خوف کم بھوک،غربت اور افلاس کا خوف زیادہ ہے ۔ایسی صورتحال میں ہم سمجھتے ہیں الخدمت” روشن منزل کا نشان ہے“جس کے مثالی کام منزل بہ منزل ملکی تاریخ کا روشن باب ہیں ۔ یہ الخدمت کے کاموں کی چھوٹی سی جھلک ہے ۔اس کے دیگر کا موںس مواخات ،کفالت یتامیٰ ،ڈیزاسٹر مینجمنٹ ،صاف پانی ،تعلیم اوردیگر منصوبوں کا ذکریہاں نہیں کیا گیا۔اس مشکل صورت حال میں جہاں الخدمت اپنے حصے کاکام کررہی ہے ،وہاں معاشرے کے ہر ہرصاحب ثروت فرد کی ذمہ داری بنتی ہے کہا کہ وہ الخدمت کا ساتھ دینے کیلئے آگے آئے اورمشکلات کا شکار لوگوں کی مدد کے لیے اس کا دست وبازوبنے۔




































