
زین صدیقی
ممتاز عالم دین مولا نا طارق جمیل آج کل سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بنے ہو ئے ہیں۔انہوں نے ایک ٹی وی چینل کے مالک کا
نام لیے بغیرایک بیان دیا تھا،جس کے بعد سے وہ موضوع بحث بنے ہو ئے ہیں۔چند روز پہلے تک لوگ مفتی منیب الرحمن کے بارے میں سوشل میڈیا پر بیانات داغ رہے تھے، اب مولا نا طارق جمیل پر باتیں کی جا رہی ہیں۔
مولا نا کو ایک عرصے سے میں خود بھی سن رہا ہوں۔ان کی اسلامی تعلیمات کی تبلیغ نہایت واضح ہیں۔وہ نہ ہی فرقہ پرستی کے قائل ہیں،نہ وہ کسی پر انگلی اٹھاتے،ان کا پیغام اللہ اوررسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام ہے اور وہ طویل عرصے سے دنیابھرکے لوگوں تک یہ پیغام پہنچارہے ہیں۔مولانا طارق جمیل کی تبلیغ نے بہت سے لوگوں کی زندگیوں کو بدل دیا ہے۔بہت سے لوگوں نے مولا نا طارق جمیل کے ہاتھوں اسلام قبول کیا۔
آپ کو نہ صرف ملک میں بلکہ پوری دنیا میں احترام اور عزت کی نگا ہ سے دیکھا جاتاہے۔آپ کی تبلغ کی بدولت بہت سے کرکٹرزاسلام کا طرز ندگی اختیار کرکے اب دین کی تبلیغ کام کر رہے ہیں۔بہت سے ا داکاروں اور اداکاراؤں کو دین کی تعلیمات سے روشناس کرایا۔آپ نے اپنے طریقہ تبلیغ میں ہمیشہ سنت نیوی ؐکی پیروی کی ہے۔
مولا نا طارق جمیل نرم مزاج،دھیمے لہجے اور غیر متنازع شخصیت کے مالک ہیں۔ہم نے ہمیشہ ان کی انکھوں میں اسلام کی سچی تڑپ دیکھی۔نبی مہربانؐ سے ان کی سچی محبت دیکھی،ان میں صرف مسلمانوں ہی کا نہیں عالم انسانیت کا درد دیکھا۔انہوں نے کورونا سے بچاؤ کیلئے جب بھی دعا کروائی سب سے پہلے پوری انسانیت کی خیر وبھلائی کی دعا کروائی،اس کے بعد مسلمانوں کیلئے دعاکی۔
ان کے بارے میں سوشل میڈیا کی بے سروپا باتین سن کر دل کو صدمہ پہنچا،وہ تو داعی اتحاد امت ہیں،وہ توسچے اسلامی اسکالرہیں۔ان کی باتوں میں سختی ہے نہ وہ گرم مزاج کے مالک ہیں، ان کے چہرے پرتو متانت اور بزرگی ہے۔ہمارے معاشرے میں ایک عجیب بات یہ ہے کہ لوگ کسی معاملے میں جذباتی ہوتے ہیں تو منٹ نہیں لگاتے اورتنز کے نشتر برسانے شروع کر دیتے ہیں،یہ ایک غیر ذمہ دارانہ طرز عمل ہے۔
اب سنیے جو مولانا صاحب نے بیان میں بات فرمائی تھی وہ سچ پر مبنی تھی۔دنیا اس بات کو جانتی ہے،کئی اینکرزنے مولانا کی حمایت کی ہے،جو خوش آئند امر ہے،لیکن بات ٹی وی اینکر مالک اورحامد میر کی ہو رہی ہے۔مولا نا صاحب اپنی میڈیا مالکان والے بیان پر معافی مانگ چکے ہیں،حالانکہ ہمارے خیال میں انہیں معافی نہیں مانگنی چاہیے تھی۔
مولا نا طارق جمیل صاحب کا یہ بڑا پن ہے کہ انہوں نے اس کے باوجود کہ سچائی کی بات کی تھی،اس پرسمجھا کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو اسی لیے انہوں نے بڑی وضاحت اور فراغ دلی سے معافی معانگی ہے اور کہا کہ میں انسان ہوں،انسان خطا کا پتلا ہے،میری زبان لڑکھڑا گئی،مجھ سے غلطی ہوئی میں اس کی معافی مانگتا ہوں،جس کے بعد ایک نیوز چینل کی جانب سے ان سے سخت سوالات بھی کئے گئے۔
مولا نا طارق جمیل کے ساتھ حامد میر کے معافی مانگنے کا ایشو بھی ٹاپ ٹرنیڈ بنا ہوا ہے۔مولا نا طارق جمیل نے میڈیا سے متعلق ٹھیک ہی تو کہا تھا اس پران کی بات کو ایشو بنا نے والوں کو ذرا سوچنا چاہیے اور اپنے ضمیر کو جھنجھوڑنا چاہیے۔
ہم 24سال سے میدان صحافت کے مسافر ہیں،بہت سے میڈٖیا اداروں سے وابستہ رہے مگر یہ لوگ تو اپنے کارکنوں کو بھی حق دینے کیلئے تیار نہیں ہوتے،سنگل ڈیجیٹ میں چندگنے چنے ادارے ایسے ہیں کہ تھوڑی بہت سہولتیں ملازمین کو دیتے ہیں۔باقی رہے نام اللہ کا،کوئی مربھی جائے تو اسے قرض ملتا ہے،نہ کوئی بونس نام کی چیز،لیو انکیشمنٹ ہے نہ کوئی اور الاؤنس۔ملازمت کے وقت آپ کو اپائنٹمنٹ لیٹر تک نہیں دیا جاتا۔ایک ادارے نے تو ہمیں یہ کہہ کر پانچ سال کے بقایا جات نہیں دیئے کہ ادارہ چھوڑنے سے تین ماہ قبل ادارے کو اطلا ع دینالازمی ہے۔
میڈیا مالکان اوران کے حواری اپنے اداروں میں ملازمین کے تمام حقوق ہڑپ کرنے میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔باقی رہے نام اللہ ان کے کرداد پر کوئی تبصرہ نہ ہو تو بہتر ہے۔مولا نا صاحب جیسے شرف النفس انسان کو بھی معافی مانگنے پر مجبور ہونا پڑا،ہمارے خیال میں ان پر کوئی دباؤ نہیں ہوگا، بلکہ یہ ان کا بڑا پن تھا کہ انہوں نے معافی مانگی۔
اب باتیں بنانے اور مولا با صاحب کو برا بھلا کہنے والوں کو بھی اپنا طرز عمل بدلنا چاہیے کیونکہ مولا نا صاحب ایک اچھے اور بلند کردار وسیرت کے مالک ہیں۔ان پر تنقید کے نشتر برسانے والوں کو پہلے اپنی ذات کا جائز ہ لینا چاہیے۔




































