
زین صدیقی
پاکستان کے نوجوان اس کا قیمتی سرمایہ ہیں ، نوجوانوں کو ملکی سرمایہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک اس سرمائے سے محروم ہیں
،پاکستان میں نوجوان ملکی آباد ی کا ساٹھ فیصدہیں جو قابل فخر بات ہے ،یہی نوجوان ملک کے مقدر کا ستارہ بن سکتے ہیں ،مگر بدقسمتی سے انہیں ہر سطح پر تنہا چھوڑ دیا گیا تھا ،آج میٹرک کے بچے کو یہ نہیں پتا ہوتاکہ اسے مستقبل بنانے کے لیے کس شعبے کا انتخاب کرنا چاہیے ۔لوئر کلا س نوجوان نہ تو آگے بڑھ پاتے ہیں ،نہ ہی ان میں صلاحیتوں کو جانچ کر ان کی رہنما ئی کرنے والا کوئی موجود ہوتا ،والدین بھی مکمل رہنمائی سے قاصر ہوتے ہیں ۔ یہ نوجوان مالی وسائل نہ ہونے کے سبب تعلیم کو خیر باد کہہ کر محنت مزدوری شروع کردیتے ہیں۔ماں باپ ان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ کما کرگھر کو سہار ا بنیں گے ۔ان نوجوانوں کی کوئی سمت طے نہیں ہو تی اسی لیے اپنے لیے محنت مزدوری کا راستہ اختیار کرتے ہیں ۔ان نوجوانوں میں مایوسی کا عنصر بھی کہیں نہ کہیں موجود ہوتا ہے ،خاندانی پس منظر بھی آڑے آتا ہے ۔جو یہ سوچ پروان چڑھاتا ہے ہم سے پہلے والوں نے کوئی مقام نہیں پایا ہم کہاں سے کوئی مقام بنا پائیں گے ۔ حکومتی سطح پر بھی ملازمتوں کی عدم دستیابی ،نوجوانوں کی عدم رہنمائی اور کوئی واضح مقصد نہ ہونے کے سبب مایوسی بڑھ جاتی ہے اور پھر کئی نوجوان غلط سمت کا انتخاب کرتے ہیں یا پیچھے رہ جاتے ہیں۔
الخدمت کے’’ بنو قابل‘‘ پروگرام نے نوجوانوں کے لیے نئی سمت کا انتخاب کیا ہے ، انہیں نئی راہ دکھائی ،امید اور روشنی کی راہ دکھائی کہ وہ کچھ کر سکتے ہیں ،آگے بڑھ سکتے ہیں ،یہ پروگرام ملک کے طول وعر ض میں پھیل چکا ہے ۔اس سے 12لاکھ نوجوان جڑچکے ہیں ۔2022میں شروع ہونے والے اس پروگرام سے صرف کراچی میں 70ہزار سے زائدنوجوان پاس آؤٹ کر چکے ہیں ،الخدمت بنو قابل سے کورسز کرنے والے ان نوجوانوں میں ہزاروں نوجوان آج فری لانسنگ اور ملازمتیں کرکے اپنے خاندان کی کفالت کے اہم ترین فریضہ کی ادائیگی میں مصروف ہیں ۔
یہ الخدمت کا ملک وقوم پر احسان ہے کہ وہ نئی نسل جو ہمیشہ سے نظرانداز ہوتی رہی ہے ،اس کا ہاتھ تھام چکی ہے ،اسے منزل دکھا رہی ہے ،ان میں امید جگا رہی ہے، الخدمت نے اسی مقصد پرا کتفا نہیں کیابلکہ نئی نسل میں’’ لیڈر شپ ‘‘کی صلاحیت پیدا کرنے ،انہیں خود کفالت کی راہ دکھانے اور ان کی مختلف شعبوں میں صلاحیتوں کو نکھارنے کا بھی عظیم منصوبہ ترتیب دیا ہے ،جسے’’ کراچی یوتھ سمٹ ‘‘ کا نام دیا ہے۔اس عظیم الشان پروجیکٹ کا اہتمام الخدمت کے شعبہ والنٹیئر مینجمنٹ کی جانب سے کراچی کے مقامی ہوٹل میںکیا گیا ۔ الخدمت کے شعبہ والنٹیئر مینجمنٹ اس پروجیکٹ کے تحت اسکولز ،کالجز ،یونیورسٹیز کے طلبہ اور نوجوانوں میں والنٹیئرازم کو پروموٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی صلاحیتوں کو بڑھانے اور ان میں لیڈر شپ کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے کام کرے گا ۔لانچنگ تقریب میں الخدمت اور یوتھ پارلیمنٹ کے مابین ایک اہم معاہدہ ہوا،جس پر چیف ایگز یکٹو الخدمت کراچی نوید علی بیگ اوریوتھ پارلیمنٹ کےسربراہ رضوان جعفر نے دستخط کیے اور دستاویز کا تبادلہ کیا ۔معاہدے کے مطابق الخدمت اور یوتھ پارلیمنٹ مل کر نوجوانوں کیلئے کام کر یں گی ۔اس موقع پر ’’کراچی یوتھ سمٹ‘‘ کے ریویل لوگو کی بھی نقاب کشائی کی گئی۔
تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا ، لانچنگ تقریب سے چیف ایگزیکٹو الخدمت نوید علی بیگ ،ٹی وی اینکر ویوتھ پارلیمنٹ کے سربراہ رضوان جعفر ، ٹاؤن چیئر مین گلشن ٹاؤن ڈاکٹر فواد ،ناروے کپ جیتنے والے فٹبال ٹیم کے کوچ محمد راشداوربشریٰ بدر ،سینئر منیجر والنٹئر مینجمنٹ اسد علی قریشی نے خطاب کیا۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر الخدمت کراچی راشدقریشی اورناظم جناح ٹاؤن رضوان عبد السمیع اور مختلف اداروں کے ذمہ داران موجود تھے ۔
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ الخدمت نے جین الفا ،جین زی اور تمام نوجوانوں کیلئے کراچی یوتھ سمٹ کی صورت میں ایک انقلابی پروگرام کا آغاز کر دیا ہے ،الخدمت کی تاریخ ملک وقوم کی خدمت کی مثال ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم قیام پاکستان سے پہلے سے خدمت کے کام کر رہے ہیں۔الخدمت کو بطور رجسٹرڈ این جی او کام کرتے ہوئے50سال ہو گئے ہیں ۔الخدمت نوجوانوں کو باوقار بنانے ،انہیں امپاور کرنے اوران کا ہاتھ تھامنے کے لیے کام کر رہی ہے ،یوتھ سمٹ اس کا حصہ ہے، نوجوان ملک کی آباد ی کا 60 فیصد ہیں ،نوجوان پاکستان کا پڑا ثاثہ ہیں ،مگر بدقسمتی سے78سال گزرگئے ہیں نوجوانوں کی کوئی سمت واضح نہیں ہے، حکومتی طبقے کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہے ،ڈاکٹرملک سے باہر جارہے ہیں ،نوجوانوں میں مایوسی پھیل رہی ہے ۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ الخدمت کا بنو قابل پرگرام ملک بھر میں پھیل چکا ہے ،12 لاکھ نوجوان بنو قابل پروگرام میں رجسٹرڈ ہو چکے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ الخدمت نے کورونا ہو یاسیلاب ،طوفانی بارشیں ہو شہر میں دیگر ہنگامی حالات ملک وقوم کی خدمت کی ہے ،گلوبل وارمنگ کے سیزن میں درخت لگانے کی بڑی مہم چلائی ،نوجوانوں کو امید دینا اور ان میں لیڈر شپ کی صلاحیت پیدا کرنا قابل قدر ہے ،نوجوانوں کےاالخدمت کے اس پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو اخلاق وکردار کو سنوارنا ہے اور ملک میں انقلاب لانا ہے ،اسی انقلاب کے ذریعے تبدیلی آئے گی ۔
۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نوید علی بیگ نے کہا کہ پاکستان میں بہت سے مسائل ہیں ،حافظ نعیم الرحمن نے نوجوانوں میں پھیلی مایوسی کو دیکھتے ہو ئے بنو قابل پروگرام شروع کیا ،بنو قابل پروگرام آج گوادر سے گلگت ٍتک پھیل چکا ہے ۔اس برس 2 ملین نوجوانوں کو اس پروگرام سے جوڑنے کا ہدف ہے ، نوجوان ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں ہم چاہتے ہیں کہ یہ سرمایہ ضائع نہ ہو ۔
نوید علی بیگ نے کہا کہ بطور رضاکار کام کرنے والوں پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں ،نوجوان الخدمت کے ساتھ بطور والنٹیئر جڑ جائیں ،الخدمت یوتھ سمٹ مختلف اداروں میں جائے گی وہاں سے نوجوانوں کا انتخاب کرے گی ،الخدمت کے اس پروگرام کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی آئے گی ۔ٹی وی اینکر ویوتھ پارلیمنٹ کے سربراہ رضوان جعفر نے کہا کہ یوتھ پارلیمنٹ 20سال سے کام کر رہی ہے ،اہم لخدمت کے ساتھ مل کر کام کریں گے ،الخدمت آئی ٹی کے شعبے میں شاندار کام کر رہے ،نوجوانامید دینا اور روشنی دکھانا چاہتے ہیں ۔
چیئر مین گلشن ٹاؤن ڈاکٹر فواد نے کہا کہ ہمارے نوجوان بے پنا صلاحیتوں کے مالک ہیں ،اللہ نے پاکستان کو نوجوانوں کا گھر بنایا ۔سیلاب ،کورونا اور دیگر قدرتی آفات میں الخدمت کے نوجوان رضاکاروں نے جس طرح کام کیا وہ قابل قدر ہے ۔نوجوان ملک کی تعمیر وترقی کیلئے الخدمت کے ساتھ جڑ رہے ہیں ۔بشریٰ بدر نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل سنوارنے میں الخدمت کی کاوشیں قابل قدر ہیں ۔الخدمت کے یوتھ سمٹ پروگرام سے معاشرے میں تبدیلی آئے گی ۔




































