
زین صدیقی
مٹھی بھرآٹا اسکیم سے خدمت کا سفر:
الخدمت کی خدمات کا سفر 50ویں سال میں داخل ہو گیا ،الحمد اللہ ۔یہ خوبصورت سفر ان چند لوگوں کی سوچ سے شروع ہوتا ہے جنہوں نے شہر کے قائد کے
غریب اور پریشان حال لوگوں کا درد محسوس کیا اور ان کی خدمت کا بیڑا اٹھایا ،یہ لوگ اس عظیم تحریک کے سپاہی تھے جس کو دنیا جماعت اسلامی کے نام سے جانتی ہے ،جماعت اسلامی کے چند سپاہیوں نے محسوس کیا کہ مشکل حالات میں پریشان حال لوگوں کی مدد کی جائے ،ان کو راحت پہنچانے کا سامان کیا جائے ،اسی جذبے کے تحت جماعت اسلامی کے شعبہ خدمت نے انسانی خدمت کی نئی تحریک شروع کی اور اس تحریک میں نوجوانوں کو اپنے ساتھ لیا اور ایک خوبصورت اسکیم ڈیزائن کی گئی جسے ’’ مٹھی بھر آٹا‘‘ اسکیم کا نام دیا گیا ،یوں ان نوجوانوں نے ذمہ داری لی کہ وہ گھر گھر جا کردستک دیں گے اور مٹھی بھر آٹے کی اپیل کریں گے اور یہ آٹااکٹھا کرکے ان پریشان حال لوگوں تک پہنچائیں گے جنہیں ہماری مدد کی ضرورت ہو گی ،سو ایسا ہی کیا گیا کہ نوجوان گھر گھر جاتے ،آٹا جمع کرتے اسے ایک جگہ کنستر میں جمع کرتے اور مستحق لوگوں تک پہنچاتے ،اس دوران بہت سے دریا دل لوگ دیگر اجناس کی صورت میں بھی مدد کرنے لگے جو شعبہ خدمت دیانت داری کے ساتھ ضرورت مندوں تک پہنچاتا تھا۔
صحت کے شعبے میں پیش قدمی :
خدمت کا سفر شروع ہو چکا تھا ،اسی دوران ضرورت محسوس کی گئی لوگوں کو علاج کی سہولتوں کی عدم دستیابی کا سامنا ہے ،جوسہولتیں ہیں وہ ناکافی ہیں لہٰذا فیصلہ کیا گیاکہ گشتی /موبائل شفا خانہ قائم کیا جائے ،جس میں ڈاکٹر کے ساتھ حکیم بھی موجود ہوں لہٰذاشفاخانے کی ذریعے علاقہ در علاقہ سہولتوں کی فراہمی کا آغاز کیا گیا ،بعد ازاں ٹھٹھہ میں بھی اس سہولت کا آغاز کیا گیا ۔حکیم اقبال حسین مرحوم نے ان شفاخانوں کے لیے نہایت سرگرمی سے کام کیا ،یہیں سے خدمت کا نیا سفر شروع ہوا ،شہر میں میت بسوں کی ضرورت محسوس کی گئی ۔
میت بس سروس کا اجراوآباد کاری :
1970جماعت اسلامی پاکستان کے بانی مولانا مودودی رحمت اللہ علیہ نے خالق دینا ہال سے2بسوں کے ذریعے میت بس سروس کا افتتاح کیا ،1974 میں شعبہ خدمت نے کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں بہاری مہاجرین کی آبادکاری میں بڑا کرداراداکیا ۔ جماعت اسلامی کے رکن نثا احمد خان نے اس آبادکاری کیلئے بھرپور جدوجہد کی وہاں لوگوں کو رہائش اختیار کرنے کے لیے بانس اور چٹائیاں فراہم کیں آج یہ علاقہ شہر کا ایک گنجان آباد علاقہ بن چکا ہے ۔
خدمت کے سفر کا ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب جماعت اسلامی کی شوریٰ میں فیصلہ کیا گیا کہ خدمت کے کاموں کو منظم انداز میں کرنے اسے ایک خود مختار ادارے کی حیثیت دی جائے اور اسے رجسٹرڈ کروایا جائے ۔ یوں 1976میں ایک اہم ترین سنگ میل عبور کیا گیا اور الخدمت ویلفیئر سوسائٹی این جی او کے طور پر وجود میں آئی ،وڈاکٹر نوالٰہی( سرجن ) الخدمت کے پہلے صدر،افتخار احمد جنرل سیکریٹری بنے ۔ ابتدا میں الخدمت کادفتر جماعت اسلامی کے دفتر میں ہوتا تھا اور یہ دفتر ایک کمرے پر مشتمل ہوا کرتا تھا ،جہاں سے خدمت کے کام کیے جاتے تھے ،اس دفتر کاعملہ بھی انتہائی قلیل تھا ،اس دفتر میںدو افراد ملازم تھے جو فل ٹا ئم اورپارٹ ٹائم کام کرتے تھے ،الخدمت کے تمام کام اسی دفتر سے ہوا کرتے تھے۔
الخدمت کے صدور :
الخدمت کے پہلے صدر ڈاکٹر نورالٰہی تھے ،ان کے بعد کلیم صادق،محموداعظم فاروقی،سید منور حسن ،نعمت اللہ خان ،معراج الہدی صدیقی ،محمد حسین محنتی اور حافظ نعیم الرحمن صدر رہے اور آج منعم ظفر خان الخدمت کے صدر ہیں ۔
الخدمت کے سیکریٹریز :
الخدمت ویلفیئر سوسائٹی کے بطور این جی او رجسٹرڈ ہونے کے بعد عبدالرشید بیگ الخدمت کے پہلے سیکریٹری جنرل تھے۔آپ انہتائی محنتی اوردیانتد ار انسان تھے۔ آپ نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ کے دست راست تھے اورتھر پارکر کے تمام منصوبوں کا ریکارٖڈ رترتیب دینا اور رکھنا آپ ہی کی ذمہ درارہ تھی جب تک آپ حیات رہے زندگی کے آخری لمحے تک تھر پارکر سے جڑے رہے ۔اس کے بعد بالترتیب اسامہ مراد،سید حفیظ اللہ ،ڈاکٹر سید تبسم جعفری ،عبدالرحمن فدا،تنویر اللہ خان انجینئر عبدالعزیز ،انجینئر سلیم اظہربھی جنرل سیکریٹری رہے،آج نوید علی بیگ یہ فرائض انجام دے رہے ہیں ۔تمام جنرل سیکریٹریز نے بتدریخ خدمت کے کاموں کا دائرہ وسیع کیا اورالخدمت کو اس کے کاموں کے اعتبار سے مثالی اور صف اول کی این جی اوز میں شامل کروایا ہے ۔
نعمت اللہ خان کے تھرپاکر میں مثالی کام :
نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ نے جو کام کیے آج بھی دنیا ان کو یاد کرتی ہے، 1997میں تھر پارکر میں انہوں نے با قاعدہ خدمت کے کاموں کا آغاز کیا ۔تھرپاکر سندھ کا صحرائی علاقہ ہیں جہاں لوگوں کو ہمیشہ پینے کے صاف میٹھے پانی اورغدائی قلت کا سامنا رہا ہے ۔قحط سالی کے سبب یہاں اموات بھی ہوتی رہتی ہیں ۔نعمت اللہ خان ایڈووکٹ کو جان محمد عباسی نے اپنے پاس بلایا اوران سے کہا ایک صاحب نے 70ہزارروپے کا عطیہ دیا ہے اوروہ اس رقم سے تھرپارکر میں کنواں کھدوانا چاہتے ہیں ،نعمت اللہ خان نے کنویں کی کھدائی کے کام کی ذمہ داری بخوشی لے لی ۔ انہوں نے تھرپارکر میں خدمات کے مثالی کام کیے ’’زم زم پروجیکٹ ‘‘ کے تحت ہزاروں کنویں کھدوائے ،نعمت اللہ خان کے دست راست عبدالرشید بیگ نے ان منصوبوں میں ان کا بھرپور ساتھ دیا ،ان کا فوکس تھر پارکر تھا اوروہ تمام کام رضا الٰہی کے لیے کررہے تھے ۔نعمت اللہ خان 2001میں جب سٹی ناظم بنے اس وقت بھی انہوں نے تھرپارکر سے اپنا ناطہ نہیں توڑا اوروہ اہلیان تھرپارکر کی خدمت میں ہمہ وقت مصروف رہے ۔انہوں نے وہاں العلم پروجیکٹ کے تحت چونراسکول قائم کیے،اس وقت 45چونرااسکول میں سیکڑوں بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔
الخدمت کی خدمات کا وسیع دائرہ :
الخدمت کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہو چکا ہے ،الخدمت 8شعبہ جات میں کام کر رہی ہے جو زندگی کے تمام شعبوں کو احاطہ کرتے ہیں ۔صحت کے شعبے میں کاموں کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہورہا ہے ۔الخدمت کے اسپتال ،میڈیکل سینٹر ز، کلینکس ،ڈائیگنوسٹک سینٹرز ،کلیکشن پوائنٹس اور فارمیسیز شہر بھر میں لوگوں کی خدمت میں مصروف ہیں اور یہاں سے سالانہ لاکھوں افراد مستفید ہورہے ہیں۔تعلیم کے شعبے میں بھی الخدمت کے 90 کے قریب مدارس واسکولز ہزاروں طلبہ کو دینی ودنیاوی علوم سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی بہترین تربیت کا فریضہ انجام د ے رہے ہیں ۔ الخدمت واش( صاف پانی ) پروگرام کے تحت شہر بھر میں73 پلا نٹس شہریوں کو پینے کا صاف ،محفوظ اور معیاری پانی فراہم کیا جارہا ہے ، الخدمت آرفن کیئر پروگرام کے تحت 2400یتیم بچوں کی ان کے گھروں پر ماہانہ بنیادوں ہر کفالت کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ باپ کے سایہ شفت سے محروم یہ بچے زندگی میں کسی محرومی کا شکار نہ ہوں اور یہ اپنے شاندار مستقبل کے ساتھ ملک خدمت کر نے کے قابل ہو سکیں ۔ الخدمت آغوش ہوم میں بھی 100سے زائد بچوں کی کفالت کی جا رہی ہے جہاں انہیں بہترین رہا ئش ،کھانا ،تعلیم ،صحت اورتفریحی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں ،جبکہ ان کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے ۔مائیکروفائنانس پروگرام کے ذریعے الخدمت مایوس اور بے روزگار ضرورت مند لوگوں کو بلاسود و چھوٹے قرضے فراہم کرر ہی ہے ،سیکڑوں ضرورت مند اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر اپنے خاندان کی بہترین کفالت کر رہے ہیں ،الخدمت نوجوانوں کو مایوسی سے بچانے کے لیے اپنے اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کے ذریعے میٹرک ،انٹرپاس نوجوانو ں کو موبائل رپیئرنگ ،انڈسٹریل آٹو میشن ،سولر پی وی ٹیکنیشن ،موبائل رپیئرنگ ،الیکٹریکل اور ایڈوانس ٹیلرنگ جیسے کورسز کروا کر انہیں معاشرہ کا فعال اور کارآمد فرد بنا رہی ہے ،جبکہ مواخات پروگرام کے ذریعے ہی سیکڑوں قابل اور ضرورت مند طلبہ وطالبات کو اسکالر شپ فراہم کر رہی ہے ،جس سے نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے اپنا مستقبل سنوار رہے ہیں ۔الخدمت نے حافظ نعیم الرحمن کے ویژن کے مطابق 2022 میں نوجوانوں کو مایوسی سے نکالنے اور انہیں آئی ٹی کی تعلیم سے آراستہ کر کے قابل بنانے کا منصوبہ بنایا ،آج یہ عظیم الشان پروگرام کراچی کے بعد ملک بھر میں پھیل چکا ہے،اس پروگرام سے صرف کراچی شہر میں 70ہزار نوجوان پاس آؤٹ کر چکے ہیں ،ملک بھر میں اس پروگرام سے لاکھوں نوجوان جڑ چکے ہیں ،الخدمت نے کورسز سکھانے کے ساتھ ان نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کیا ہے ۔الخدمت کے شعبہ کمیونٹی سروسز کے تحت آج21 میت بسیں شہریوں کو سروس فراہم کر رہی ہیں ،شہر میں مچھر مار اسپرے کی مہمات ، رمضان لاکھوں مستحقین کوراشن ومرغی کے گوشت کی فراہمی ،عید قرباں میں قربانی کا گوشت پہنچانا ،سردیوں میں ونٹر پیکیج کی تقسیم ،مستحق لڑکیوں کی جہیز باکس کی صورت میں معاونت ساراسال جاری رہتی ہے ،کورونا وباکے دوران شعبہ کمیونٹی سروسز کی خدمت کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں ،کورونا سے حفاظت کیلئے کٹس کی بڑے پیما نے پر فراہمی ،سرکاری ونجی اسپتالوں بازاروں ،چرچز اور مندروں میں اسپرے ، شہریوں کو آکسیجن سلنڈرز کی 24 گھنٹے مفت فراہمی اور کاروبار کی بندش پر لوگوں کو کھانے اور راشن کی فراہمی کے مثالی کام کیے ،الخدمت کا یہی شعبہ کراچی کے ہر ضلع میں ہیلپ سینٹر رکھتاہے جہاں سے پیشنٹ بیڈ ،بیساکھی ،وہیل چیئر ز سمیت دیگر ضروری سامانبالکل مفت فراہم کیا جاتا ہے ،لوگ ضرورت ختم ہونے پر یہ اشیا واپس کرجاتے ہیں ۔الخدمت کا شعبہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے ،2005کا زلزلہ ہویاترکی ،انڈونیشیا میں آنے والا زلزلہ الخدمت کے اس شعبے نے آگے بڑھ کر خدمات انجام دیں اور2010 اور 2022 کے سیلاب اور بارشوں کے دوران بھی مثالی کام کیے ،سیلاب متاثرین کو گھر بنا کر دیئے ،ڈاسٹرمینجمنٹ کا یہ شعبہ اپنے رضاکاروں کو تمام تر تیکنیکی مہارتیں حاصل کرنے کا بھی پروگرام رکھتا ہے اور گاہے بگاہے ،رضاکاروں کی تربیت کا اہتمام کرتا ہے ۔
الخدمت کی ان خدمات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ،الخدمت کا ماضی میں دو کمروں پر مشتمل ایک دفتر تھا آج کا دفتر ایک مضبوط اور لکش عمارت اورکشادہ عمارت میں موجود ہے ،الخدمت کی دوافراد کی ٹیم بھی اب سیکڑوں افراد پر پھیل چکی ہے ،الخدمت کی خدمات کا دائرہ روز بروز دائرہ وسیع ہورہا ہے اور یہ سب محنت ،لگن ،اخلاص سے ممکن ہوا ہے ،آج الخدمت کے کام اس کی پہچان بن چکے ہیں ۔
خدمات کے 50 سال :
الخدمت کراچی کے اپنی خدمات کے پچاسویں سال میں داخل ہونے پر شعبہ میڈیا اینڈ مارکیٹنگ کی جانب سے مرکزی دفتر میں خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا ۔تقر یب کے مہمان خصوصی امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفرخان تھے ۔اس موقع پر چیف ایگزیکٹو الخدمت نوید علی بیگ ،سیکریٹری جماعت اسلامی حلقہ کراچی توفیق الدین صدیقی ،نائب امیر جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر واسع شاکر، ایگزیکٹو ڈائریکٹر راشد قریشی، مختلف پروگرامز کے ڈائریکٹرز،شعبہ جات کے سربراہان ،منیجرزاور کارکنا ن موجود تھے ۔ تقریب میں الخدمت کی خدمات کے 50ویں سال میں داخل ہونے کی خوشی میں کیک کاٹا گیا اور الخدمت کے ریویل لوگو Reveal Logo)) کی نقاب کشائی کی گئی ۔
ا س موقع پر تقریب سے خطاب کر تے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا کہ الخدمت نے 1976 میں جماعت اسلامی کے شعبہ خدمت کے نام سے خدمت کا سفر شروع کیا ۔اس وقت لوگوں کی ضروریات و مسائل کے پیش نظر مٹھی بھر آٹااسکیم کا آغاز کیا گیا اوراس میں نوجوانوں نے بھرپور حصہ لیا ،نوجوان گھر گھر جا کر آٹاجمع کر تے اور اسے کنستر میں محفوظ کرتے اور پھر اسے ضرورت مندوں میں تقسیم کیا جاتا تھا ۔
منعم ظفرخان نے کہا الخدمت نے ملک میں آنے والے زلزلوں اور سیلابوں میں بھی کام کیا، کورونا کے وبا اور طوفانی بارشوں کے دوران بھی عوام کی خدمت کی ۔الخدمت کے رضاکار ہر جگہ پہنچے اور ملک وقوم کی خدمت کی ۔آج الخدمت خدمت کا عنوان بن چکی ہے ،جہاں خدمت کانام آتا ہے وہاں الخدمت پہلے موجود ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کے وہ لوگ جنہوںنے اس کام کا پچاس سال پہلے آغاز کیا اور آج ہم میں نہیں ،اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ٰ انہیں اجرعظیم عطا فرمائے ۔انہوں نے امید ظاہر کی الخدمت بچاسویں سال بھی زیادہ نمایاں ہو کرکام کرے گی ،امانت اور دیانت کے پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے معاشرے میں خوشیاں بانٹنے اور غم سمیٹنے میں معاون ثابت ہوگی ۔
؎چیف ایگزیکٹو نوید علی بیگ نے کہامٹھی بھر آٹااسکیم کے بعد 1970میں خالق دینا ہال میں بانی جماعت اسلامی مولاناسید ابوالاعلیٰ مودودی (رح) نے دو میت بسوں کا افتتاح کیا ،آج الخدمت کے پاس میت بسوں کا سب سے بڑا قافلہ ہے ،خدمت کا یہ سفر الحمد اللہ ملک بھر میں پھیل چکا ہے ۔
الخدمت کی خدمت کے سفر کے آغاز میں شروع ہونے والے کام آج وسعت اختیار کرچکے ہیں ،الحمد للہ آج الخدمت زندگی کے تمام شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہے اور یہ ہرروز کچھ نیا کرنے کے جذبے سے کام کرتی ہے ،انہوں نے کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے، بہت سے کام دیگر این جی اوز نے الخدمت کو دیکھ کر شروع کیے ،انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان شااللہ ہم پچاسویں سال میں بھی بہترین خدمت کی مثال قائم کریں گے اور خدمت کے وہ کام بھی کریں گے جو آج سے پہلے ہم نے نہیں کیے۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر راشدقریشی نے اس موقع پر تمام صدور الخدمت اور سیکریٹریز کے ناموں سے آگاہ کیا اور ان کی الخدمت کیلئے خدمات کی تعریف کی ۔




































