
سکھر(ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی )سندھ ہائی کورٹ نے پیپلزپارٹی رہنما خورشید شاہ کی رہائی کا حکم 16 جنوری تک
معطل کردیا۔ سندھ ہائیکورٹ سکھرخصوصی بینچ نے نیب کی جانب سے خورشید شاہ کی ضمانت کے خلاف درخواست پر سماعت 16 جنوری تک ملتوی کردی۔
نیب ریفرنس میں نامزد پانچ ملزمان نے عدالت عالیہ میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست جمع کرادی ،سندھ ہائی کورٹ سکھر کے جج جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو اور جسٹس خادم حسین تنیو پر مشتمل ڈبل بینچ نے آج نیب کی جانب سے پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید احمد شاہ کی ضمانت پر رہائی کے نیب عدالت کے حکم کے خلاف داخل درخواست کی سماعت کی جس میں خورشید شاہ کی جانب سے ان کے وکیل مکیش کمار کارڑا کی سربراہی میں وکلاءکا پینل اور نیب پراسیکیوٹر پیش ہوئے عدالت عالیہ نے خورشید شاہ کے پیش نہ ہونے پر ان کے وکلاءسے استفسار کیا تو انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کو نوٹس نہیں ملا جس پر نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ انہیں باقاعدہ طور پر نوٹس وصول کرایا گیا تھا جس پر خورشید شاہ کے وکیل نے کہا کہ نوٹس جیل حکام کودینا چاہیے تھا کیونکہ خورشید شاہ اس وقت جیل کسٹڈی میں ہیں تاہم عدالت عالیہ نے وکلاءکے دلائل سننے کے بعد خورشید شاہ کی رہائی کے حکم کو آئندہ سماعت تک معطل کرنے کا حکم جاری کردیا اور درخواست پر سماعت 16 جنوری 2020 تک ملتوی کردی ۔
دوسری جانب نیب کی جانب سے خورشید شاہ کے خلاف داخل ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت جس نے 17 دسمبر کو خورشید شاہ کی پچاس لاکھ روپے کے مچلکوں کے عیوض ضمانت منظور کی تھی میں ( آج)24 دسمبر کو ہوگی جبکہ نیب کی جانب سے خورشید شاہ پر داخل کیے ریفرنس میں نامزد 18 ملزمان میں سے پانچ ملزمان نثار احمد، شعیب، زوہیب، طفیل احمد نے اپنی ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے درخواست آج سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں جمع کرادی ہے تاہم ان کی درخواست پر عدالت عالیہ میں سماعت نہیں ہوسکی ہے۔




































